*درس 016: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالْمَاءُ الْمُطْلَقُ هُوَ الَّذِي تَتَسَارَعُ أَفْهَامُ النَّاسِ إلَيْهِ عِنْدَ إطْلَاقِ اسْمِ الْمَاءِ، كَمَاءِ الْأَنْهَارِ، وَالْعُيُونِ، وَالْآبَارِ، وَمَاءِ السَّمَاءِ، وَمَاءِ الْغُدْرَانِ، وَالْحِيَاضِ، وَالْبِحَارِ

ماء مطلق اس پانی کو کہتے کہ جب لفظ *پانی* کہا جائے تو لوگوں کا ذہن فورا اس طرف منتقل ہوجاتا ہے، جیسے نہروں کا پانی، چشموں کا پانی، کنووں، بارش، تالاب، حوض اور سمندر کا پانی۔

فَيَجُوزُ الْوُضُوءُ بِذَلِكَ كُلِّهِ سَوَاءٌ كَانَ فِي مَعْدِنِهِ، أَوْ فِي الْأَوَانِي؛ لِأَنَّ نَقْلَهُ مِنْ مَكَان إلَى مَكَان لَا يَسْلُبُ إطْلَاقَ اسْمِ الْمَاءِ عَنْهُ، وَسَوَاءٌ كَانَ عَذْبًا أَوْ مِلْحًا؛ لِأَنَّ الْمَاءَ الْمِلْحَ يُسَمَّى مَاءً عَلَى الْإِطْلَاقِ

تو اس طرح کے تمام پانیوں سے وضو جائز ہے چاہے وہ اپنی جگہوں پر ہوں یا برتنوں میں ہوں، اسلئے کہ پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے سبب پانی ہی رہتا ہے۔ نیز پانی چاہے میٹھا ہو یا کھارا اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ کھارے پانی پر بھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے ماء مطلق کی جو تعریف بیان کی ہے اعلی حضرت قدس سرہ نے اسے فرمایا: “یہی اصح و احسن تعریفات ہے۔۔مگر محتاجِ توضیح و تنقیح ہے۔” پھر مزید وضاحت کے ساتھ ماء مطلق کی تعریف بیان کی۔

ہمارے احباب یاد رکھیں کہ ہم *ماء مطلق* اور *ماء مقید* پر گفتگو اسلئے کررہے ہیں کہ وضو اور غسل دونوں کے درست ہونے کی بنیاد اسی پر ہے کہ کس پانی سے وضو اور غسل جائز ہے اور کس سے نہیں۔

اس بات پرفقہاء احناف کا اجماع (اتفاق) ہے کہ،

(1) جس مائع (Liquid) سے وضو اور غسل کیا جائے وہ *پانی* ہو، کسی اور Liquid سے وضو و غسل نہیں ہوسکتا۔

(2) جس پانی سے وضو اور غسل کیا جائے گا وہ *ماء مطلق* ہونا چاہئے۔

(فتاوی رضویہ، جــ2)

اب *ماء مطلق* سے متعلق اہم نکات ملاحظہ کریں۔

*تعریف:*

وہ پانی جو اپنی اصلی حالت کے مطابق رقیق یعنی پتلا ہو، اور اس میں کوئی ایسی چیز نہ ملی ہو جو مقدار میں اس سے زیادہ یا برابر ہو اور نہ ہی ملنے والی چیز کی وجہ سے اس کا نام اور کام تبدیل ہوجائے۔

*(1) پانی اپنی اصل حالت کے مطابق رقیق یعنی پتلا ہونا چاہئے:*

لہذا جب تک پانی کی رقت باقی ہے اس سے وضو اور غسل جائز ہے، مثلا

*پانی میں دال، چنے یا کوئی پھل بھگو کر رکھ دیئے، اگرچہ پانی میں میلا پن آجائے اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں ہوگا۔

*پانی میں سرف ڈال دیا، جب تک پانی میں رقت باقی ہے وضو اور غسل جائز ہے اور رقت ختم ہوئی گاڑھا پن ظاہر ہوا تو وضو اور غسل ناجائز ہے۔

*(2) اس میں کوئی ایسی چیز نہ ملی ہو جو مقدار میں اس سے زیادہ یا برابر ہو:*

مراد یہ ہے کہ پانی کے اوصاف تبدیل نہ ہوں، پانی کے اوصاف تین ہیں۔ رنگ ، بو اور مزہ۔۔، لہذا اگر اتنی مقدار میں شے ملی کہ پانی پر غالب نہ ہوئی تو اس سے وضو جائز ہےاور غالب ہوگئی تو وضو ناجائز ہے، آسان الفاظ میں یوں سمجھیں جب تک یہ کہا جائے کہ یہ پانی ہے جس میں فلاں چیز مل گئی ہے تو اس سے وضو جائز ہے اور یہ کہا جائے کہ فلاں چیز ہے جس میں کچھ پانی موجود ہے تو وضو ناجائز ہے۔ مثلا

پانی میں تھوڑا سا دودھ ، یا زعفران گرجائے اور رنگت میں تھوڑا سا فرق آجائے لیکن یہی کہا جائے کہ پانی ہے جس میں کچھ دودھ یا زعفران مل گیا ہے تو وضو جائز ہے اور اگر دودھ اتنا غالب آگیا کہ لسی بن گئی، یا زعفران اتنا غالب آگیا کہ کپڑا رنگنے کے کام آجائے تو چونکہ اب انہیں پانی نہیں کہا جاسکتا اسلئے اس سے وضو و غسل ناجائز ہے۔ لیکن صفائی ستھرائی حاصل کرنے والی اشیاء مل جائے تو وہ مستثنی ہے ۔ (تفصیل آگے آتی ہے)

نوٹ: ملنے والی چیز پاک ہو ورنہ ناپاک چیز کا ایک قطرہ بھی پورے پانی کو ناپاک کردے گا۔

*(3) اور نہ ہی ملنے والی چیز کی وجہ سے اس کا نام اور کام تبدیل ہوجائے:*

لہذا نام اور کام تبدیل ہوگیا ہوگیا تو وضو اور غسل جائز نہیں ہے، مثلا

پانی میں اتنی پتی ڈالی اور پکائی کہ قہوہ بن گیا، تو اگرچہ اس کا پتلا پن باقی ہے مگر نام اور کام (مقصود) تبدیل ہونے سے وضو اور غسل جائز نہیں ہوگا۔

ہماری یہاں تک کی گفتگو کا خلاصہ یہی ہے کہ وضو اور غسل کے لئے *پانی* اور اس پانی کے لئے مطلق پانی یعنی *ماء مطلق* ہونا شرط ہے۔ آپ مذکورہ صورتوں میں غور کیجئے ۔۔۔ ایک واضح اصول سمجھ آئے گا۔

کسی بھی صورت میں جب تک *پانی* ہوناسمجھاجارہا ہے اس میں وضو اور غسل جائز ہے، اور جس صورت میں *پانی* نہ ہونا سمجھا جارہا ہے وہاں وضو اور غسل ناجائز ہے۔

تو خلاصہ وہی نکلا جو ابھی بیان ہوا۔۔ کہ وضو و غسل کے لئے پانی اور اس پانی کا مطلق پانی ہونا شرط ہے۔

اسی لئے علامہ کاسانی نے کھارے اور میٹھے پانے کے بارے میں لکھا ہے

لِأَنَّ الْمَاءَ الْمِلْحَ يُسَمَّى مَاءً عَلَى الْإِطْلَاقِ

یعنی پانی کھارا ہو یا میٹھا دونوں پر پانی کا اطلاق ہوتا ہے، اور لوگ اسے پانی ہی سمجھتے ہیں اسلئے اس سے وضو و غسل جائز ہے۔

ہم یہاں بہارِ شریعت کا اسکرین شوٹ منسلک کررہے ہیں، ہوسکتا ہے بہت سے بھائیوں نے یہ عنوان پڑھا ہو اور آگے بڑھ گئے ہوں، مگر اب پڑھیں گے تو مسائل سمجھ آجائیں گے۔

*ابو محمد عارفین القادری*