أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

ترجمہ:

ان کے متعلق ہرگز نہ سمجھنا جو اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور جو یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کاموں پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیے ان لوگوں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ وہ عذاب سے نجات پاجائیں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے متعلق ہرگز نہ سمجھنا جو اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور جو یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کاموں پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیے ‘ ان لوگوں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ وہ عذاب سے نجات پاجائیں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، اور اللہ ہی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ،

بعض آیات میں عموم الفاظ کی بجائے خصوصیت مورد کا اعتبار :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ کو یہود اور مشرکین کی طرف اذیتیں نہیں لاحق ہوں گی اللہ تعالیٰ نے ان ہی ایذاؤں میں سے یہ بیان فرمایا ہے کہ ان کی ایک ایذاء بھی ہے کہ وہ کمزور مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف شبہات ڈالتے ہیں ‘ اور وہ اس پر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی یہ تعریف کی جائے کہ وہ صالح ‘ متقی ‘ متدین اور صادق القول ہیں ‘ اور ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو اذیت پہنچتی تھی۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق تورات کی آیات چھپاتے تھے اور اس کے بدلہ میں اپنے ارادت مندوں سے نذرانے وصول کرتے تھے ‘ اور ان پر یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ بہت بڑے عالم اور دیندار ہیں اور وہی مقتداء بننے کے لائق ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس فعل کی سزا بیان فرمائی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ میں تشریف لے جاتے تو بعض منافقین پیچھے رہ جاتے اور آپ کے ساتھ نہ جاتے اور اپنے فعل پر خوش ہوتے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے ‘ اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آتے تو مختلف حیلے بہانے بناتے قسمیں کھاتے اور اس پر قسمیں کھاتے کہ جو کام انہوں نے کہا ہے (جہاد میں آپ کے ساتھ جو نہیں گئے) ان پر ان کی تعریف کی جائے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا “۔ علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع ! حضرت ابن عباس (رض) کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ ہر شخص اپنے فعل پر خوش ہوتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا ہے اس پر اس کی تعریف کی جائے تو اگر عذاب دیا جائے تا تو ہم سب کو عذاب دیا جائے گا ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو بلایا اور ان سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اسل چیز کو چھپالیا اور آپ کو کچھ اور بتادیا اور وہ یہ چاہتے تھے کہ انہوں نے آپ کو جس چیز کی (جھوٹی) خبر دی ہے اور انہوں نے آپ کے سوال کے جواب میں جو اصل چیز نہیں بتائی اس پر ان کی تعریب کی جائے ‘ اور پھر حضرت ابن عباس نے یہ دو آیتیں پڑھیں۔ (آیت) ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوالکتاب “ اور ” یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا “۔ (صحیح بخاری ج ٥ ص ٢٠٩‘ رقم الحدیث ٤٥٦٨‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ صحیح مسلم ج ٤ ص ٢١٤٣‘ ٢١٤٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن کبری للنسائی ج ٦ ص ٣١٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١١ ھ ‘ الجامع الصحیح للترمذی ج ٥ ص ٢٣‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) 

ہرچند کہ قرآن مجید کی آیات میں عموم الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے اور خصوصیت مورد کا اعتبار نہیں ہوتا لیکن ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض آیات میں خصوصیت مورد ہی کا اعتبار ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) کی اس تفسیر سے معلوم ہوتا ہے۔ 

نیکی کی تعریف چاہنے پر عذاب کی وعید :

مسلمانوں کو چاہیے کہ اس آیت کی وعید سے ڈریں اور یہ نہ چاہیں کہ جو کام انہوں نے نہ کیا ہو اس پر ان کی تعریف کی جائے ‘ جیسا کہ بعض لوگ اپنے آپ کو عالم ‘ علامہ ‘ مفتی اور شیخ الحدیث بلکہ حافظ الحدیث کہلاتے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں ہوتے ‘ اور اگر کوئی مسلمان کسی نیک کام کے کرنے پر خوش ہو یا برا کام نہ کرنے پر خوش ہو تو یہ ایمان کی علامت ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو اپنی نیکی سے خوشی ہو اور برائی پر افسوس ہو وہ مومن (کامل) ہے امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

(الجامع الصحیح ج ٤ ص ٤٦٦‘ رقم الحدیث ٢١٦٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ مسند احمد ج ١ ص ٢٦‘ ١٨‘ ج ٣ ص ٤٤٦‘ ج ٥ ص ٢٥٦‘ ٢٥٢‘ ٢٥١ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

البتہ کوئی نیک کام کرکے یہ خواہش رکھنا کہ اس پر اس کی دنیا میں تعریف کی جائے اخلاص کے منافی ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کی طرف متوجہ ہوگا تاکہ ان کا فیصلہ فرمائے ‘ اس وقت ہر امت دو زانو بیٹھی ہوگی ‘ سب سے پہلے قرآن کے حافظ کو بلایا جائے گا اور اس شخص کو جو اللہ راہ میں شہید ہوا اور مالدار شخص کو ‘ اللہ تعالیٰ قرآن کے قاری سے فرمائے گا کیا میں نے تجھے اس چیز کا علم نہیں دیا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کی تھی ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائئے گا تو تو اپنے علم کے مطابق کیا عمل کیا ؟ وہ شخص کہے گا میں رات دن قرآن پڑھتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے تو جھوٹ بولتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تو نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے سو یہ کہا گیا پھر مالدار شخص کو بلایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مالی وسعت نہیں دی تھی حتی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا ! وہ شخص کہے گا اے میرے رب ! کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر تو نے میرے دیئے ہوئے مال میں کیا عمل کیا ؟ وہ شخص کہے گا میں صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ کرتا تھا ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص جواد ہے سو یہ کہا گیا پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو کس وجہ سے قلت کیا گیا تھا ؟ وہ شخص کہے گا مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا تھا سو میں نے قتال کیا حتی کہ میں قتل کردیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں شخص بہادر ہے سو یہ کہا گیا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمایا : اے ابوہریرہ ! یہ پہلے وہ تین شخص ہیں جن سے دوزخ کی آگ کو بھڑکایا جائے گا۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٥٩٣۔ ٥٩٢‘ رقم الحدیث ٢٣٨٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ صحیح مسلم ج ٣ ص ١٥١٤۔ ١٥١٣ رقم الحدیث ١٩٠٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ٥٧‘ مطبوعہ کراچی ‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٢٢) 

قرآن مجید کی زیر بحث آیت اور اس حدیث میں نیکیوں پر اپنی تعریف کی خواہش رکھنے پر سخت وعید ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 188