محبت ِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وبارک وسلم :۔

ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کس حد تک ہو نی چاہیئے ۔ خود پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے سنئے ، ارشاد فرماتے ہیں ۔

’’ لا یُؤ مِنُ اَحَدُکُم ْ حتّٰی اَ کُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ‘‘۔تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے ماں باپ اس کی اولاد اوربقیہ تمام انسانوں کے مقابلے میں اس کے نزدیک ذیادہ محبوب نہ ہو جائوں (متفق علیہ )

صحابہ کرام اور اولیائے کرام علیہم الرضوان میں اطاعت الٰہی عزَّ وجلَّ و اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عظیم جذبہ تھا اس کی وجہ کیا تھی ؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور انھیں ہمیشہ یہ خوف دامن گیر رہتا کہ محبت رسوا نہ ہو نے پا ئے کوئی یہ نہ کہے کہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کر رہا ہے ۔لہذا رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کوخوب خوب اپنے دل میں جا گزیں کر لو اور یہ محبت ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدا ہو تی ہے ۔

محبت رسولمیں اضافہ کے لئے معجزات و کمالات حضور اکرم ﷺ کا مطالعہ کریں اور ان کا ذکر کریں ۔نیز خالق کا ئنات جلَّ و عُلا نے جس طرح قرآن مجید میں اپنے پیارے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کی ہے اور جو آداب بارگا ہ رسول اکرم ﷺ کے بیان فرمائے ہیں انھیں اچھی طرح سے پڑھیں ۔اعلیٰ حضرت کا رسالہ تجلی الیقین اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب جذب القلوب کا مطالعہ بھی اس کے لئے بہت مفید ہے ۔

اسی طرح عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مزید اضافہ و پختگی کے لئے نعت پاک بہترین ذریعہ ہے ۔محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دل میں کس قدر ہے اس کو جانچنے کا بہترین آلہ یہ ہے کہ جب کو ئی کام احکام رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ٹکراتا ہو یا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا سبب بنتا ہواگر چہ اس میں مال کی فراوانی ،ظاہری عزت و شہرت،و بلندی حاصل ہوتی ہو اس کی طرف قدم بڑھنے سے رُک جائیں تو سجدئہ شکر بجا لائیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت سے آپ کے سینے کو منوّر کر دیا ہے اور اگر قدم پھسل جائیں تو ڈرنا چاہیئے کہ جس محبت کا تقاضہ ہم سے اللہ عزو جل اور اس کے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے وہ محبت تکمیل تک نہیں پہو نچی ۔

آیئے چند صحابئہ کرام علیہم الرضوان کی کیفیت محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو پڑھیں تاکہ دعوت کی راہ میں ہمارے حوصلے بلند ہوں اور حصول ِمحبت ِرسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم آسان ہو جائے ۔

حضرت زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فرما تے سنا کہ’’ اگر مجھے اپنی امت کے مشقتمیں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو تا تو میں لوگوں کو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ‘‘ اس کے بعد حضرت زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول ہو گیا کہ جب نماز کے لئے مسجد میں آتے تو ان کے کان پر مسواک ہو تی جس طرح کہ لکھنے والا قلم کو کان پر رکھ لیتا ہے ۔جب نماز کا ارادہ فرماتے تو مسواک دانتو ں میں گھما لیتے اورپھر اسے اپنی جگہ پر رکھ لیتے ۔(ترمذی ، ابو دا ود)

حضرت زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ اپنی پسند کا اظہار فرمایا تھا تو حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی پسند کو زندگی بھر کے لئے محبوب بنائے رکھا تاکہ رضائے محبوب حاصل ہو جائے ۔یہ کیفیت حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی نہیں بلکہ ہر صحابئی رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی حال تھا ۔

٭ حضرت ابن حنظلہ روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خزیم اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا خوب ہی آدمی ہیں سوائے دو باتوں کے کہ ان کے گیسو بہت لمبے ہیں اور تہبند گھسٹتاہے ۔

حضرت خزیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انھوںنے استرہ لیا اور گیسو کاٹ کر کان کے برابر کر لئے اور تہبند پنڈلی تک چڑھالی ۔(ابو دائو د )

محبت رسول کا جو ثبوت صحابئہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے پیش کیا ہے کو ئی پیرو کار کسی مقتداکے لئے پیش نہیں کر سکتا ۔ اور یہی وجہ تھی کہ اہل ِ باطل صحابئہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی دیوانگئی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سر خمیدہ نظر آتے یا میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے ۔

لہذا ہر داعئی دین کے لئے ضروری ہے کہ محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اپنے دل میں خوب خوب جاگزیں کرلے اور جیساکہ پہلے بیان ہوا کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ذکر رسول و نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیداہوتی ہے اور پھر بات بھی صحیح ہے جو جس زیادہ محبت کر تا ہے اسی کا ذکر زیادہ کرتا ہے ہم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دعویٔ محبت کر تے ہیں تو ہمیں بھی آپ ہی کا ذکر کثرت سے کرنا ہوگا ۔

وارفتگی اور شیفتگی کی ضرورت ہے محبت رسول میں مر مٹنے کی ضرورت ہے ہاں ذکر رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے فکر رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف قدم بڑ ھایئے فکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنّت ِرسول کی طرف قدم بڑھایئے سنتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے عظمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف قدم بڑھایئے قدم بڑھاتے رہیے اور پھر سارے عالم پر چھا جایئے۔

کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟

ہاں ہو سکتا ہے اور ہُوا بھی ہے ۔جاگنے کی ضرورت ہے ، بیدا ر ہونے کی ضرورت ہے ۔سلانے والوں کے ہاتھ جھٹکنے کی ضرورت ہے سب طوق گلے سے نکال کر رحمت عالم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا طوق ڈالنے کی ضرورت ہے ۔

پھر دیکھیئے ٹاٹ پر بیٹھ کر بھی شاہی کی جا سکتی ہے بس آقائے کون و مکاں صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بن جایئے سارا جہاں آپ کا بن جایئے گا ۔

بدمذہبوں سے دوری و نفرت :۔ آج کل کئی ایک بد مذہب فرقے پائے جاتے ہیں جیسے دیو بندی ،وہابی غیر مقلد ،جماعت اسلامی ،تبلیغی جماعت ،صلح کلی ، رافضی ،قادیانی ، منکرین حدیث ان سے گھن کریں اور ان کو اپنے سے دور رکھیں ،حدیث پاک میں ہے کہ حضو ر اقدس صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ لَا یُضِلُّوْ نَکُمْ وَلَا یَفْتَنُوْ نَکُمْ ‘‘ ’’ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں یہ تمھیں گمراہ نہ کردیں اور کہیں یہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ‘‘۔ ایک دوسری حدیث پاک میں ہے کہ نہ ان کے ساتھ کھائو ، نہ پیئو ،نہ بیٹھو ، نہ شادی بیاہ کرو،نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو ،نہ ان کے جنازے کی نماز پڑھو ، ان کی صحبت ایمان و عقیدہ کے لئے زہر قاتل ہے ۔لہذا ان سے دور رہنا ضروری ہے ۔یو نہی جھوٹ ، چغلی ، غیبت ، حسد ، بغض ، کینہ ، حرص و طمع ، لڑا ئی جھگڑا وغیرہ سے لازمی طور پر اجتنا ب کریں ۔٭٭٭

باہمی اخوّت ـ:۔یوں تو جملہ مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیںلیکن ایک ہی تحریک کے ساتھ ہونے کی وجہ سے یہ بھائی چارگی کا رشتہ اور ذیادہ قوی ہے تحریک کے ساتھیوں میں بھائی چارگی کے نظا م کوقائم کریں۔ایک دوسرے کی خوشی اور ایک دوسرے کے غم میں شریک ہوں ۔اپنے ساتھیو ں کی خوبی بیان کریں اور کمی کو دور کریں ایک دوسرے کی عیب جوئی کے بجائے عیب پوشی کریں ۔رشتئہ اخّوت کو توڑنی کی ہزار کوششیں کی جائیں لیکن سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو جائیں ۔اگر کسی ساتھی سے دل آزاری ہوئی ہو تو عفو و درگذر کی عادت اختیار کریں ۔اپنے کامیاب ساتھیوں کے لئے دل میںمحبت پیداکریں اور ان کی خوبیوں کو اپنا کر خود بھی کامیابی کی راہ کے مسافر بنیں ۔ یہ نہ ہو کہ شیطانی وساوس کے شکار ہوکر دل میں کینہ رکھیں ۔ اپنے ہر بھائی کی تکلیف و راحت کا خیال رکھیں ۔تحریکی مفادپر اپنی ذاتی مفاد کو قربان کریں اور ہزار کامیابی کی منزلوں کو چھو لینے کے باوجود اپنے رویّہ میں کہیں سے کوئی بھی تکبر یا اپنے دیگر ساتھیوں کو حقیر سمجھنے کا جذبہ پیدا نہ ہونے دیں ۔

اور یہ بات ہمیشہ دل و دماغ میں رہے کہ کوئی بھی شخص اگر محبت و اعتماد کرتا ہے تو دین کی وجہ سے کرتا ہے ورنہ ہم میں اور عام انسان میں کوئی فرق نہیں ۔لہذا خاتمہ بالخیر سے پہلے اپنے آپ کو کامیاب تصوّر کرنا یہ سراسر بیو قوفی ہے ۔ اللہ عز وجل ہم سب کو شیطانی شرارتوں سے محفو ظ رکھے ۔اور اخلاص و بھائی چارگی کے ساتھ دین متین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔

باہمی اخوت کو پارہ پارہ کرنے والی چیز تمسخر ہے جس کی مذمّت قرآن و حدیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے ۔

’’یَا اَ یُھَا الذِیْنَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَوْمَْ‘‘(پارہ۲۶؍رکوع ۱۴؍الحجرات ۔ ایت ۱۰؍) لہذا تمسخر سے پر ہیز کریں ۔

٭٭٭

خوش طبعی :۔خو ش مزاجی وخو ش طبعی ہر صحت مند معاشرے کے لئے ضروری ہے کبھی کبھی اچھا مزاح کر لیا کریں ۔ اس سے ساتھیوں میں محبت و اخوت پیدا ہوگی ۔خوش مزاج بنیں سب سے اچھی طرح پیش آئیں۔ ایک داعی کے لئے اس کی بھی ضرورت ہے ۔

حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے مزاح وملاعبت کے آثار وبرکات حدو شمار سے باہر ہیں ۔ان کا شمار و حصر نا ممکن ہے ۔ ایک مرتبہ حضرت امّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صا حبزادی جو کہ حضور کی ربیبہ تھیں وہ حضو ر کے پاس آئیں آپ غسل فر ماکر تشریف لائے ہی تھے آپ نے مزاحاً ان کے چہرے پر پانی کی چھینٹیں ماریں اس کی برکت سے آپ کے چہرے پر وہ حسن و جمال رُو نما ہوا جو کبھی نہ ڈھلا۔ شباب کا عالم ہمیشہ بر قرار رہا ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاحی واقعات میں سے ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ دیہاتوں میں ایک شخص ’’ زاہر ‘‘ نام کا تھا کبھی کبھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیہات کی ایسی ترکاریاں ہد یہ میں لا یا کرتا جو حضور کو پسند تھیں ۔اور حضو ر صلیٰ اللہ علیہ وسلم ا س کی واپسی پر شہر کی چیزیں مثلاًکپڑا وغیرہ عنایت فر مایا کرتے تھے اور حضور اس کو دوست رکھتے تھے ۔ فرماتے تھے کہ ’’ زاہر‘‘ سے ہمارا دوستانہ ہے ہم اس کے شہری دوست ہیں ۔ ایک روز حضور بازارتشریف لے گئے تو زاہر کو کھڑا دیکھا ۔ حضور نے اس کی پشت سے اپنا دست مبارک اس کی آنکھو ں پر رکھ کر اسے اپنی جانب کھینچا اور لپٹا لیااور اپنا سینہ مبارک اس کی پشت سے ملا دیا ۔ وہ حضو رکو نہیں دیکھ سکا تھا کہنے لگا یہ کون ہے ؟ اور جب پہچان لیا کہ حضور ہیں تو اپنی پُشت کو حضو ر کے سینئہ مبارک سے اور ملا دیا اور نہیں چاہا کہ جدا ہو ۔پھر حضور نے فرمایاکہ کوئی ہے جو اس غلام کو خریدے ۔ زاہر نے کہا یا رسول اللہ آپ نے مجھے کھو ٹا اور کم قیمت مال تصور کیا ہے ۔فرمایا تم خدا کے نزدیک تو کھو ٹے نہیں ہو بلکہ گراں بہا ہو ۔ (مدارج النبوۃ حصہ اول ص ۸۹؍۹۰؍) خلاف شر ع مزاح سے قطعی پر ہیز کریں ۔

فکر آخرت :اخلاص و للٰہیت کے ساتھ ملت اسلامیہ کو دین کی قدروں سے آشنا کرنے کے ساتھ ساتھ فکر آخرت کا جذبہ بھی دلوںمیں پیدا کرنا چاہیئے اس لئے کہ جب داعی کے دل ودماغ پر آخرت کی فکر چھائی ہوئی ہوگی تو وہ اپنے ہر عمل کی جزا و سزا کیا ملے گی اس کا خیال رکھیں گے بلکہ اعلیٰ درجہ کے مخلص داعی کے دل ودماغ پر اجر کا تصور نہیں رہتا بلکہ ہمیشہ مولیٰ کی رضا اور اپنے گناہوں پر نظر رہتی ہے ۔

اجلئہ صحابئہ کرام رضوان اللہ علیہم فکر آخرت میں لرزاں و ترساں رہتے حضور سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں اگر احکم الحاکمین قیامت میں یہ ارشاد فرمائے کہ میں نے سب کو بخش دیا سوائے ایک کے تو میں سوچوں گا کہ وہ ایک میں ہی ہوں اور اگر قیامت میں رب ارشاد فرمائے کہ سب کو جہنم میں ڈا ل د و سوائے ایک کے تو میں سوچوں گا کہ وہ ایک میں ہی ہوں۔

آپ اندازہ لگا سکتے ہیں بعد از انبیاء سب سے افضل و اعلیٰ ذات کی فکر آخرت کا ؟ اگر ہمیں اپنے مقصد میں کا میا ب ہونا ہے تو کامیاب داعیوںکی راہوں اور طریقوں پر ہی چلنا ہو گا اچھو ں کے صدقے میں اللہ عزوجل ہمیں اچھا اور کامیاب بنا دے گا ۔ ان شاء اللہ تعالی

اطاعت امیر :۔ تحریک کے ہر ساتھی کو اپنے امیر پر کامل اعتماد ہو ۔ اس کی صلاحیتوں پر بھی بھروسہ ہو ،اور اخلاص و دل سوزی کی طرف سے بھی اطمینان ہو، اس کی عزت واحترام کے جذبے سے سینہ سر شار ہو ۔

یاد رہے کہ امیر پر اعتماد کے بغیر تحریک کا کارواں منزل کی طرف رواں دواں ہونے کے بجائے تھک کر راستے ہی میں بکھر جاتا ہے ۔ماضی کی سیکڑوںتحریکیں اس بات کی شاہد ہیں جو عدم اعتماد کی وجہ سے کامیابی سے ناکامی میں تبدیل ہو گئیں ،دین اور شریعت کے معاملے میں امیر کی اطاعت لازمی ہے۔

امیر کی طرف سے صادر ہونے والے احکام کو فیصلہ کن جانے ۔ ان میں بحث ومباحثہ یا نکتہ چینی کی ذرا بھی گنجائش نہ سمجھے ۔ اور خیر خواہی میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرے اگر کوئی فیصلہ نظر ثانی کے لائق ہو تو مشورہ ضرور دے اور اپنی رائے سے ضرور مطلع کرے لیکن ادب اور اخلاص کا دامن ہاتھوں سے نہ چھو نٹنے پائے ۔

یاد رکھیں امیر اور دعوت کے سپاہیوںکے درمیان اعتماد اور اطمینان کی جتنی عمدہ اور خوشگوار فضا قائم ہوگی تحریک کا نظام اتنا ہی مضبوط ہو گا ۔

اس لئے کہ محسن اعظم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’ اِنْ اُمِرعَلَیْکُمْ عَبدْ مُجْدعُْ یقو دُ کم بِکِتابِ اللّہ ِ فاسْمَعُوالَہ وَاَ طِیعُوا (مسلم)

اگر کوئی نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق لے چلے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو ۔

ایک اور مقام پر رسول اعظم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔

’’ اِسْمَعُوا وَ اَطِیْعُوا وانْ تُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عبدُْ حَبْشِیُْ کانَ رأ سُہ زَبِیْبَۃ ‘‘ُ

’’ سنو اور اطاعت کرو اگر چہ ایک حبشی غلام بھی تمہارا ذمّہ دار بنا دیا جائے جس کا سر کشمش کی مانند چھو ٹا اور بد نما ہو ۔

مذکورہ بالا احدیث کی روشنی میں اگر انسانوں کی سر براہی کی ذمہ داری کسی ایسے شخص کے سپرد کی ہوتی ہے جو کسی وجہ سے جچتا نہ ہو ۔ بہت سے لوگ اسے اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھتے ہیں اس کے باوجود امت کی اجتماعیت اور اس کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر ایسا شخص بھی امیر مقرر کیا گیا ہو تو اس کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا۔یہی نہیں بلکہ اگر امیر کی طرف سے کسی ایسے رویے کا اظہار ہو اور وہ کوئی ایسا طرز عمل اختیار کرے جو آدمی کو نا پسند ہو ایسی حالت میں بھی امیر کی اطاعت سے ہاتھ کھینچنا روا نہیں ہے ۔اِلّا یہ کہ وہ رویّہ خلاف شرع ہو تو اس پر تنبیہ کا ہر مسلمان کو حق ہے ۔

جو شخص امیر کا مطیع و فرمانبردار نہ رہا اور مر گیا تو ایسے شخص کی موت حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے جہالت کی موت فرمایا ہے۔

ارشاد رسالت ہے :

جو کوئی اپنے امیر کی طرف سے کوئی ایسی چیزدیکھے جو اسے نا پسند ہو تو چاہیئے کہ صبر کرے اس لئے کہ جو کوئی جماعت سے ایک بالشت دوری بھی اختیار کرتا ہے اور اس کو اسی حالت میں موت آجاتی ہے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو تی ہے ۔