أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا الۡكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُوۡنَهٗ فَنَبَذُوۡهُ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ وَ اشۡتَرَوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًاؕ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُوۡنَ

ترجمہ:

(اور یاد کیجیے) جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ عہد لیا کہ تم اس کو ضرور لوگوں سے بیان کرنا اور اس کو نہ چھپانا ‘ تو انھوں نے اس عہد کو اپنے پس پشت پھینک دیا ‘ اور اس کے بدلہ میں تھوڑی قیمت لی ‘ سو وہ کیسی بری چیز ہے جس کو یہ خرید رہے ہیں

تفسیر:

ربط آیات اور شان نزول : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں یہود کے طعن اور ان کے طعن کا جواب ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ رد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں سے یہ عہد لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو دلائل ذکر فرمائے ہیں ان لوگوں کے سامنے بیان کریں جب کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلہ میں دنیا کا قلیل مال لینے کو اختیار کرلیا۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پہلی آیت میں یہود کی ایذارسانیوں پر آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا تھا اور ان کی ایذا رسانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تورات اور انجیل میں آپ کی نبوت پر جو دلائل تھے وہ ان کو چھپالیتے تھے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو بلایا اور ان سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا انہوں نے اس کو چھپایا اور آپ کو کسی اور چیز کی خبر دی ‘ پھر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو جس چیز کی خبر دی تھی اور انہوں نے آپ کے سوال کے جواب میں جس چیز کو چھپایا تھا اس پر وہ بہت خوش ہوئے پھر حضرت ابن عباس (رض) نے یہ آیت پڑھی : (آیت) ” واذ اخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب “۔ (صحیح البخاری ج ٥ ص ٢٠٩‘ رقم الحدیث ٤٥٦٨‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ صحیح مسلم ج ٤ ص ٥٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

اللہ تعالیٰ نے ان کو جس چیز کے نہ چھپانے کا حکم دیا تھا اس کے چھپانے پر ان کی مذمت کی ہے ‘ اور اس پر ان کو عذاب کی وعید سنائی ہے ‘ محمد بن ثور نے روایت کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے تورات میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندں پر دین اسلام کو فرض کیا ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے جس چیز کے متعلق سوال کیا تھا میں نے اس کی تفسیر نہیں دیکھی۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ نے ان سے تورات میں اپنی صفت کے متعلق سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا مجملا جواب دیا۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٢٣٥ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی امی کی اتباع کریں اور اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان لائیں اور جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم مجھ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو میں تم سے کئے ہوئے عہد کو پورا کروں گا۔ 

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ تورات میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جس دین کو اپنے بندوں پر فرض کیا ہے وہ اسلام ہے ‘ اور ان کے پاس تورات اور انجیل میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لکھا ہوا تھا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٣٥ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص سے کسی چیز کے علم کے متعلق سوال کیا گیا اور اس نے اس کو چھپایا اس کے منہ میں قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ (سنن ابوداؤد ج ٣ ص ٣٢٠‘ مطبوعہ دارالجیل بیروت ‘ امام طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے اس حدیث کو حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ١١٧ طبع بیروت۔ امام ابو یعلی متوفی ٣٠٧ ھ نے بھی اس حدیث کو حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ مسند ابو یعلی ج ٣ ص ٩٥۔ ٩٤‘ امام طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے اس حدیث کو حضرت ابن مسعود (رض) سے بھی روایت کیا ہے (المجم الکبیر ج ١٠ ص ١٢٩‘ طبع بیروت ‘ امام طبرانی کی دونوں سندیں ضعیف ہیں) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص علم حاصل کرے پھر اس کو بیان نہ کرے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو خزانہ حاصل کرے پھر اس کو خرچ نہ کرے۔ (المعجم الاوسط ج ١ ص ٣٩٥‘ ٣٩٤‘ رقم الحدیث ٦٩٣‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض ‘ ١٤٠٥ ھ) 

عبداللہ بن لہیعہ کی روایت کی تحقیق : 

حافظ نورالدین الہیثمی المتوفی ٨٠٧ ھ نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے (مجمع الزوائد ج ١ ص ١٦٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) 

حافظ الہیثمی کی عادت ہے جس حدیث کی سند میں عبداللہ بن لہیعہ ہو اس کو وہ ضعیف کہہ دیتے ہیں اور یہ ان کا تسامح ہے کیونکہ عبداللہ بن لہیعہ کی ہر حدیث ضعیف نہیں ہے بلکہ جس حدیث کو ابن وہب یا ابن مبارک نے ابن لہیعہ سے روایت کیا ہو وہ ضعیف نہیں ہوتی بلکہ صحیح ہوتی ہے اور اس حدیث کو امام طبرانی نے از عبداللہ بن وہب از عبداللہ بن لہیعہ سے روایت کیا ہے لہذا یہ ضعیف نہیں ہے۔ 

حافظ جمال الدین ابو الحجاج یوسف المزی المتوفی ٧٤٢ ھ لکھتے ہیں : 

عبداللہ بن لہیعہ مصری فقیہ اور مصر کے قاضی ہیں ‘ ان کی ولادت ٩٦ یا ٩٧ ھ میں ہوئی اور ١٧٤ ھ میں ہارون کی خلافت میں ان کی وفات ہوئی ‘ امام مسلم ‘ امام ابوداؤد ‘ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے ان کی احادیث کو اپنی صحاح میں درج کیا ہے ‘ امام بخاری نے یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے کہ ١٧٠ ھ میں ان کے گھر میں آگ لگ گئی تھی اور ان کی کتابیں جل گئی تھیں ‘ عثمان بن صالح نے کہا ان کے گھر میں آگ لگی تھی لیکن کتابیں نہیں جلی تھیں اور میں نے آگ لگنے کے بعد ان کی اصل کتابوں سے احادیث نقل کی ہیں ‘ امام ابو داؤد نے کہا امام احمد نے فرمایا مصر میں ابن لہیعہ سے زیادہ کسی کے پاس احادیث نہیں ہیں اور نہ ان سے زیادہ کوئی حدیث کو ضبط کرنے والا ہے۔ سفیان ثوری نے کہا کہ ابن لہیعہ کے پاس اصول ہیں اور ہمارے پاس فروع ہیں ‘ روح بن صلاح نے کہا ابن لہیعہ نے بہتر (٧٢) تابعین سے ملاقات کی ہے۔ 

امام بخاری نے حمیدی سے نقل کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید ابن لہیعہ کا بالکل اعتبار نہیں کرتے تھے ‘ عبدالرحمان بن مہدی نے کہا میں ابن لہیعہ سے قلیل روایت کرتا ہوں نہ کثیر ‘ محمد بن تثنی نے کہا عبدالرحمان ‘ ابن لہیعہ سے کوئی روایت نہیں کرتے تھے ؛۔ 

نعیم بن حماد نے کہا اگر عبداللہ بن المبارک اور ان جیسے لوگ ابن لہیعہ سے روایت کریں تو پھر ان کی حدیث قابل اعتبار ہے ورنہ نہیں امام ابو داؤد یہ کہتے تھے کہ میں نے قتیبہ سے سنا ہے کہا ہم ابن لہیعہ کی احادیث صرف ان کے بھتیجے یا عبداللہ بن وہب کی کتابوں سے لکھتے ہیں، جعفر بن محمد فریابی نے کہا کہ قتیبہ کہتے تھے کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے کہا کہ تمہاری ابن لہیعہ سے روایات صحیح ہیں ‘ انہوں نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے عبداللہ بن وہب کی کتابوں سے حدیث لکھتے ہیں ‘ پھر ان احادیث کا ابن لہیعہ سے سماع کرتے ہیں ‘ ابوالطاہر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن وہب کی کتابوں سے ایک حدیث سے متعلق سوال کیا ‘ انہوں نے وہ حدیث بیان کی ‘ اس نے کہا اے ابو محمد تم یہ حدیث کس سے روایت کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا بہ خدا مجھے ایک نیک شخص عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث بیان کی ہے ‘ امام احمد نے کہا کہ ابن لہیعہ اپنی کتابوں کو ابن وہب سے زیادہ اچھا پڑھتے تھے ‘ احمد بن صالح نے کہا ابن لہیعہ علم کی بہت طلب کرنے والے تھے اور صحیح لکھتے تھے اور وہ اپنے اصحاب کو اپنی کتاب سے حدیث املاء کراتے تھے ‘ بسا اوقات لوگ سمجھ کر لکھتے اور بسا اوقات ضبط نہیں کرتے تھے اور کچھ لوگوں نے ان سے احادیث سن کر نہیں لکھیں ‘ ان کی حدیثیں لوگوں تک اس طرح پہنچیں ‘ سو بعض لوگوں نے ان کی کتابوں سے صحیح لکھا اور ان پر اس حدیث کو صحیح طرح پڑھا اور بعض ان لوگوں نے پڑھا جن کا ضبط اور پڑھنا صحیح نہیں تھا تو اس کی روایت میں فساد آگیا ‘ اور میرا گمان ہے کہ ابوالاسود نے ان کی صحیح کتاب سے لکھا ہے لہذا اہل علم کے نزدیک ابو لاسود کی ابن لہیعہ سے روایت صحیح کے مشابہ ہے۔ یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ اہل مصر یہ کہتے تھے کہ ابن لہیعہ کی کوئی کتاب نہیں جلی اور ان لہیعہ ہمیشہ ان کتابوں سے احادیث لکھتے رہے حتی کہ فوت ہوگئے اور ابو الاسود النضر بن عبدالجبار اس سے حدیث روایت کرتے ہیں اور وہ شیخ صادق ہیں اور ابن ابی مریم کی رائے ان کے متعلق درست نہیں تھی جب لوگوں نے ابن لہیعہ سے احادیث لکھیں اور اس کے متعلق سوال کیا تو وہ خاموش ہوگئے ‘ یحییٰ بن معین نے مزید کہا کہ قدماء اور متاخرین کا ابن لہیعہ سے سماع کرنا ایک حکم رکھتا ہے (تہذیب الکمال ج ١٠ ص ٤٥٧۔ ٤٥٠‘ مبطوعیہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

ابن خراش نے کہا اس کی کتابیں جل گئی تھیں حتی کہ اگر کوئی شخص کوئی حدیث وضع کرکے اس کے پاس آتاتو وہ اس کو بھی پڑھتا تھا ‘ خطیب نے کہا اس کے تساہل کی وجہ سے اس کی روایت میں مناکیر بہت زیادہ ہیں ‘ احمد بن صالح نے کہا ابن لہیعہ ثقہ ہیں اس کی احادیث میں جو تخلیط ہے اس کو نکال دیا جائے ‘ حاکم نے کہا اس نے قصدا ” جھوٹ نہیں بولا ‘ اس کی کتابوں کے جل جانے کے بعد اس کے حافظہ میں خلل ہوگیا اس لیے وہ روایت میں خطا کرتا ہے ‘ ابوجعفر طبری نے تہذیب الآثار میں لکھا ہے کہ آخر عمر میں اس کی علق مختل ہوگئی تھی (تہذیب التہذیب ج ٥ ص ٣٧٩۔ ٣٧٨) 

نیز حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ امام بخاری نے کتاب الفتن میں المقری اور ابوالاسود کی روایت درج کی ہے اسی طرح انہوں نے کتاب الاعتصام ‘ سورة نساء کی تفسیر کے آخر اور کتاب الطلاق میں کئی جگہ ابو الاسود کی روایات درج کی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روایات ابن لہیعہ سے مروی ہیں اگرچہ امام بخاری نے ابن لہیعہ کا نام نہیں لیا ‘ امام نسائی نے ابن وہب کی روایات درج کی ہیں اور وہ ابن لہیعہ سے مروی ہیں ‘ امام مسلم نے اپنی صحیح ہیں دو جگہ ابن لہیعہ سے استشہاد کیا ہے ‘ عبدالغنی بن سعید ازدی نے کہا جب عبادلہ (عبداللہ بن مبارک اور عبداللہ بن وھب) ابن لہیعہ سے روایت کریں تو وہ حدیث صحیح ہے ‘ انہوں نے عبداللہ بن وہب ‘ عبداللہ بن مبارک اور المقری کا ذکر کیا ‘ ساجی وغیرہ نے بھی اس کی مثل ذکر کیا ہے ‘ حافظ ابن عبدالبر نے کہا ہے یہ جب موطا میں سند اس طرح ہو از مالک از ثقہ نزد مالک از عمرو بن شعیب ‘ تو امام مالک کے نزدیک ثقہ سے مراد ابن لہیعہ ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٥ ص ٣٧٨۔ ٣٧٧‘ مبطوعہ مجلس دائرۃ المعارف دکن ‘ ١٣٢٦ ھ) 

خلاصہ یہ ہے کہ عبداللہ بن لہیعہ ضعیف روای ہے لیکن جب عبداللہ بن مبارک ‘ عبداللہ بن وہب ‘ ابوالاسود اور مقری اس سے حدیث روایت کریں تو وہ حدیث صحیح ہوتی ہے اور امام طبرانی کی زیر بحث حدیث کو چونکہ عبداللہ بن وہب نے عبداللہ بن لہیعہ سے روایت کی ہے اس لیے وہ حدیث صحیح ہے اور حافظ الہیثمی کا اس حدیث کو ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف کہنا ان کا تساہل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 187