أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُوۡنَ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمہ:

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور کڑوٹ کے بل لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں (اور کہتے ہیں :) اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ بےکار پیدا نہیں کیا تو پاک ہے سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (آل عمران : ١٩١) 

کثرت ذکر کرنے کے متعلق احادیث : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے الوہیت پر دلائل ذکر فرمائے اب اللہ تعالیٰ عبودیت کے احوال بیان فرما رہا ہے ‘ بندہ کو چاہیے کہ دل سے اسرار کائنات میں غور وفکر کرے اور حوادث اور ضائع سے اللہ تعالیٰ کی صفات تک پہنچے اور اس ذات اور اس کی وحدانیت کی تصدیق کرے اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے ‘ اس کا شکر بجا لائے اور اس کی حمد وثناء کرے اور باقی اعضاء سے اس کے احکام کی اطاعت کرے اور اس کی عبادت کرے ‘ خلاصہ یہ ہے یہ کہ بندہ ہر حالت میں کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے ‘ اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے کہ اللہ اس کو دوزخ کے عذاب سے بچائے ‘ امام ابوحنیفہ کو دیکھ کر کسی نے کہا یہ جنتی ہے فرمایا میں جنت کے کب لائق ہوں اللہ اگر مجھے دوزخ سے بچا لے تو یہ اس کا بڑا کرم ہوگا۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا میں تم کو اس چیز کی خبر نہ دوں جو تمہارا سب سے بہتر عمل ہو اور تمہارے مالک کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور تمہارے سب سے بلند درجہ کا باعث ہو ‘ اور تمہارے لیے سونے اور چاندی کی خیرات سے افضل ہو اور جب کل تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو تو تم ان کی گردنیں مار دیا وہ تمہاری گردنیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہو ! صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کا ذکر ہے ‘ حضرت معاذ نے کہا اللہ کے ذکر سے زیادہ کوئی چیز اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی نہیں ہے۔ 

(الجامع الصحیح ج ٥ ص ٤٥٩‘ رقم الحدیث ٣٣٧٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ١٢٤٥‘ رقم الحدیث ٣٧٩٠‘ مسند احمد ج ١ ص ٤٤٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کو سند حسن ہے ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٧٣) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام حبیبہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابن آدم کا کوئی کلام اس کے لیے مفید نہیں ہے سوائے نیکی کا حکم دینے ‘ برائی سے روکنے اور اللہ کے ذکر کے (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٦٠٨‘ رقم الحدیث ٢٤١٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس شخص کو دوزخ سے نکال دو جس نے ایک دن (بھی) میرا ذکر کیا ہوا یا کسی ایک مقام پر مجھ سے ڈرا ہو۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٧١٢‘ رقم الحدیث : ٢٥٩٤) 

حضرت عبداللہ بن بسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ پر اسلام کے احکام بہت زیادہ ہیں مجھ کو ایسی چیز بتائیے جس سے میں چمٹ جاؤں آپ نے فرمایا تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہے۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٤٥٨‘ رقم الحدیث : ٣٣٧٥) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کس کا درجہ سب سے زیادہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو مرد اور عورت بہ کثرت اللہ کا ذکر کرتے ہوں ! میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! غازی فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ ‘ آپ نے فرمایا : اگر کوئی شخص اپنی تلوار سے کفار اور مشرکین کے خلاف جہاد کرے اور وہ زخمی ہو کر خون سے رنگین ہوجائے پھر بھی اللہ کا ذکر کرنے والوں کا درجہ اس سے زیادہ ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٤٥٨‘ رقم الحدیث : ٣٣٧٦) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کا ذکر نہ کریں اور اپنے نبی پر درود نہ پڑھیں ان کو حسرت اور ندامت ہوگی اگر اللہ چاہے گا تو ان کو عذاب دے گا اور چاہے گا تو انکو بخش دے گا ‘ امام ابو عیسیٰ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٤٦١‘ رقم الحدیث : ٣٣٨٠‘ سنن ابو داؤج ٤ ص ٢٦٦‘ رقم الحدیث ٤٨٥٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٢) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ام انس (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے وصیت کیجئے ! آپ نے فرمایا گناہوں کو ترک کردو یہ سب سے اچھی ہجرت ہے ‘ فرائض کی حفاظت کرو یہ سب سے افضل جہاد ہے اور بہ کثرت اللہ کا ذکر کرو کیونکہ تم جو کام بھی کرو گی اس میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اللہ کا ذکر ہے (المعجم الاوسط ج ٧ ص ٣٦٧‘ رقم الحدیث : ٦٧٣١‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض ‘ المعجم الکبیر ج ٢٥ ص ١٢٩‘ رقم الحدیث : ٣١٤) 

حافظ الہثیمی نے لکھا ہے اس حدیث کی سند میں اسحاق بن ابراہیم بن نسطاس ضعیف راوی ہے۔ (مجع الزوائد ج ٤ ص ٢١٨‘ مجمع البحرین رقم الحدیث ٤٣٥) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے راستہ میں جارہے تھے آپ جمدان نام کے ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا چلو یہ جمدان ہے مفردون سبقت کر گئے صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مفردون کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ مرد اور عورت جو اللہ کا بکثرت ذکر کرتے ہوں۔ (صحیح مسلم ج ٤ ص ٢٠٦٢‘ رقم الحدیث ٢٦٧٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو شخص ذکر نہیں کرتا ان کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔ (صحیح البخاری ج ٧ ص ٢١٦‘ رقم الحدیث : ٦٥٤٠٧‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ) 

کروٹ کے بل نماز پڑھنے کے متعلق فقہاء احناف کے مسلک کی وضاحت :

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

ایک قول یہ ہے کہ ذکر سے مراد نماز ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ حالت قیام میں نماز پڑھتے ہیں اگر اس سے عاجز ہوں تو حالت قعود میں نماز پڑھتے ہیں اور بیٹھنے سے عاجز ہوں تو کروٹ کے بل نماز پڑھتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ کسی حالت میں نماز ترک نہیں کرتے ‘ اور پہلے معنی پر آیت کو محمول کرنا زیادہ اولی ہے کیونکہ ذکر کی فضیلت میں بہت آیات ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص جنت کی کیا ریوں میں چرنا چاہتا ہو وہ بکثرت ذکر کرے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٠ ص ١٥٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

امام شافعی نے یہ کہا جب مریض لیٹ کر نماز پڑھے تو کروٹ کے بل نماز پڑھے اور امام ابوحنیفہ نے کہا بلکہ چت لیٹ کر نماز پڑھے حتی کہ جب تخفیف محسوس کرے تو بیٹھ جائے ‘ امام شافعی (رض) کی دلیل یہ ظاہر آیت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلو کے بل لیٹ کر ذکر کرنے کی مدح فرمائی ہے (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١١٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

امام رازی نے امام ابوحنفیہ کا مسلک صحیح نقل نہیں کیا امام ابوحنیفہ کے نزدیک مریض چت لیٹ کر اور کروٹ کے بل دونوں طرح نماز پڑھ سکتا ہے البہت چت لیٹ کر پڑھنا اولی ہے۔ 

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں : 

جب مریض قیام سے عاجز ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع اور سجود کرے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمران بن حصین (رض) سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر تم اس سے عاجز ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر تم اس سے بھی عاجز ہو تو کروٹ کے بل نماز پڑھو۔ (اس حدیث کا مکمل متن یہ ہے) : امام بخاری حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر تھی میں نے نبی کریم سے نماز کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر تم اس سے عاجز ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر تم اس سے (بھی) عاجز ہو تو کروٹ کے بل نماز پڑھو۔ (صحیح البخاری ج ١ ص ٣٣٩‘ رقم الحدیث : ١١١٠‘ ابوداؤد رقم : ٩٥٢ ‘’ ترمذی : ٣٧٣‘ ابن ماجہ : ١٣٢٣ دارقطنی ج ١ ص ٣٨٠‘ بیہقی ج ٢ ص ٣٠٤‘ مسند احمد ج ٤ ص ٤٢٦) 

علامہ مرغینانی لکھتے ہیں اور اگر مریض بیٹھنے کی طاقت نہ رکھے تو کمر کے بل چت لیٹ جائے اور اپنے پیر کعبہ کی طرف کرے اور رکوع اور سجود اشارہ سے کرے ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مریض کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر اس سے عاجز ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور اگر اس سے عاجز ہو تو گدی پر لیٹ کر اشارہ سے نماز پڑھے اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اللہ اس کا عذر قبول کرنے کے حقدار ہے اور اگر مریض کروٹ کے بل لیٹ کر نماز پڑھے تو یہ بھی جائز ہے جب کہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو ‘ جیسا کہ اس سے پہلے ہم نے حضرت عمران بن حصین کی روایت بیان کی ہے لیکن چت لیٹ کر نماز پڑھنا زیادہ اولی ہے ‘ اس میں امام شافعی کا اختلاف ہے ‘ اولویت کی دلیل یہ ہے کہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے والے کا اشارہ کعبہ کی ہوا (فضا) کی طرف ہوگا اور کروٹ کے بل لیٹ کر نماز پڑھنے والے کا اشارہ اپنے قدموں کی جانب ہوگا تاہم نماز ہوجائے گی (ہدایہ اولین ص ١٦١‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان) 

علامہ المرغینانی نے جو حدیث ذکر کی ہے ” اگر مریض اس سے عاجز ہو تو گدی کے بل لیٹ کر اشارہ سے نماز پڑھے۔ ان الفاظ کے ساتھ حدیث ثابت نہیں ہے البتہ سند ضعیف کے ساتھ امام دارقطنی نے یہ حدیث روایت کی ہے : 

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مریض اگر طاقت رکھتا ہو تو کھڑا ہو کر نماز پڑھے ‘ اگر طاقت نہ رکھتا ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے ‘ اگر سجدہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اشارہ سے پڑھے اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست کرے اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی طاقت نہ رکھے تو دائیں کروٹ کے بل قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے ‘ اگر دائیں کروٹ کے بل نماز پڑھنے کی طاقت نہ رکھے تو چٹ لیٹ کر نماز پڑھے اور اس کے پیر قبلہ کی جانب ہوں۔ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ مریض گدی کے بل چت لیٹ کر نماز پڑھے اور اس کے دونوں پیر قبلہ کی جانب ہوں (سنن دار قطنی ج ٢ ص ٤٣۔ ٤٢‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان) 

حضرت ابن عمر کا یہ اثر صراحۃ فقہاء احناف کاموید ہے اور اس کی سند پر کوئی جرح نہیں کی گئی اور حضرت علی کی حدیث میں بھی ان کی تائید ہے ‘ اور حضرت عمران بن حصین کو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کروٹ کے بل نماز پڑھنے کا فرمایا اس کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ ان کے مرض بواسیر کی وجہ سے ہو ‘ جب کہ احناف کے نزدیک کروٹ کے بل نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ 

مخلوق میں غور وفکر کرنے کی ہدایت اور خالق میں غور وفکر کرنے کی ممانعت : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاحبان عقل کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش میں غور وفکر کرتے ہیں کیونکہ ہمیں مخلوق میں غور وفکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور خالق میں غور وفکر کرنے سے منع کیا گیا ہے : 

امام ابو محمد عبداللہ بن محمد بن جعفر حیان المعروف بابی الشیخ اصبہانی متوفی ٣٩٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی نعمتوں میں غور وفکر کرو اور اللہ میں غور و فکر نہ کرو۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہر چیز میں غور و فکر کرو ‘ اور اللہ میں غور وفکر نہ کرو۔ 

اس حدیث کو امام احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ نے بھی روایت کیا ہے (کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٠) 

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی مخلوق میں غور وفکر کرو اللہ میں غور وفکر نہ کرو ‘ ورنہ تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قوم کے پاس سے گزرے جو اللہ میں غور و فکر کر رہی تھی ‘ آپ نے فرمایا مخلوق میں غور وفکر کرو ‘ خالق میں غور وفکر نہ کرو کیونکہ تم اس کی قدر کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ (کتاب العظمۃ ص ١٨۔ ١٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

اور اس کا سبب یہ ہے کہ مخلوق کی کوئی صفت اللہ کی کسی صفت کی مماثل نہیں ہے ‘ اس لیے ہم مخلوق کے کسی حال کو خالق پر قیاس نہیں کرسکتے ‘ اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے نہ عرض ہے نہ بسیط ہے ‘ نہ مرکب ہے ‘ کسی مکان میں ہے نہ جہت میں ہے اس لیے عقل اس کی حقیقت کو پانے سے عاجز اور حیران ہے۔ 

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کی تحقیق : 

امام رازی نے لکھا ہے کہ اللہ کی صفات مخلوق کی صفات کے مخالف ہیں اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” من عرف نفسہ فقد عرف ربہ “ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ‘ اور اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے رب کے وجوب کو جان لیا اور جس نے اپنے نفس کی احتیاج کو جان لیا اس نے اپنے رب کے استغنا کو جان لیا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١١٩۔ ١١٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) rnؔ” من عرف نفسہ فقدعرف ربہ ‘ (رض) یہ حدیث نہیں ہے لیکن امام رازی کا بیان کیا ہوا معنی صحیح ہے۔ 

علامہ شمس الدین محمد بن ابراہیم سخاوی متوفی ٩٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

ابو المظفر بن السمعانی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے بلکہ یہ یحییٰ بن معاذ رازی کا قول ہے ‘ علامہ نووی نے لکھا ہے کہ یہ ثابت نہیں ہے اور اس کی تاویل یہ ہے کہ جس نے اپنے نفس کے حدوث کو جان لیا اس نے اپنے رب کے قدم کو جان لیا اور جس نے اپنی فنا کو جان لیا اس نے اپنے رب کی بقا کو جان لیا (المقاصد الحسنہ ص ٤١٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

شیخ اسماعیل بن محمد عجلونی جراحی متوفی ١١٦٢ ھ لکھتے ہیں : 

ابن تیمیہ نے کہا یہ حدیث موضوع ہے ‘ علامہ نووی نے کہا یہ حدیث ثابت نہیں ہے ‘ ابن السمعانی نے کہا یہ یحییٰ بن معاذ رازی کا قول ہے ‘ ابن الفرس نے کہا صوفیہ کی کتابیں اس سے بھری ہوئی ہیں ‘ مثلا شیخ محی الدین ابن عربی وغیرہ اور وہ اس کو بہ طور حدیث لکھتے ہیں ‘ ابن عربی کے بعض اصحاب نے کہا ہرچند کہ یہ حدیث روایت کے اصول پر صحیح نہیں لیکن ہمارے نزدیک بہ طریق کشف صحیح ہے ‘ النجم نے کہا ماوردی نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں اپنے رب کا سب سے زیادہ عارف کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اپنے نفس کا سب سے زیادہ عارف ہے (کشف الخفاء ومزیل الالباس ج ٢ ص ٢٦٢‘ مطبوعہ مکتبہ الغزالی دمشق) 

علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

یہ حدیث صحیح نہیں ہے ‘ علامہ نووی نے کہا یہ حدیث ثابت نہیں ہے اور ابن تیمیہ نے کہا یہ حدیث موضوع ہے، علامہ عز الدین نے کہا اس حدیث کا نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس لطیف روح کو اس کثیف جسم میں رکھا اور اس جسم کی کثافت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ربانیت پر حسب ذیل وجوہ سے دلالت کرتی ہے : 

(١) اس جسم کو یہ روح حرکت دیتی ہے اور اس کی تدبیر کرتی ہے تو جب یہ جسم ایک مدبر اور محرک کا محتاج ہے تو یہ عالم بھی ایک مدبر اور محرک کا محتاج ہوگا۔ 

(٢) جب اس جسم کا محرک اور مدبر واحد ہے تو اس عالم کا مدبر اور محرک بھی واحد ہوگا۔ 

(٣) جب یہ جسم روح کے ارادہ کے بغیر حرکت نہیں کرتا تو معلوم ہوا کہ اس عالم کی کوئی چیز بھی خواہ خیر ہو یا شر وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور اس کی قضاء وقدر کے بغیر حرکت نہیں کرتی۔ 

(٤) جسم کی ہر حرکت کا روح کو علم ہوتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کائنات کی ہر حرکت اور ہر چیز کا اللہ کو علم ہے۔ 

(٥) روح سے زیادہ کوئی چیز جسم کے قریب نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ کائنات کی ہر چیز کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ 

(٦) روح جسم کے پیدا ہونے سے پہلے موجود تھی اور اس کی فنا کے بعد بھی موجود رہے گی اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اس کائنات سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا۔ 

(٧) ہمیں روح کی حقیقت معلوم نہیں ہے ‘ اسی طرح اللہ کی حقیقت بھی معلوم نہیں ہے۔ 

(٨) ہمیں جسم میں روح کا مکان ‘ اس کی جہت اور کیفیت معلوم نہیں ہے اسی طرح اللہ کا مکان ‘ اس کی جہت اور اس کی کیفیت بھی معلوم نہیں ہے۔ (بلکہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ اللہ کا کوئی مکان ہے ‘ نہ جہت ‘ سعیدی غفرلہ) 

(٩) روح کو آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا نہ اس کی تصویر بنائی جاسکتی ہے ‘ نہ مثال اسی طرح دنیا میں اللہ کو بھی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے نہ اس کی صورت اور مثال بنائی جاسکتی ہے۔ (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شب معراج اللہ تعالیٰ کو دیکھنا اس عموم سے مستثنی ہے۔ سعید غفرلہ) 

(١٠) روح کو مس نہیں کہا جاسکتا اسی طرح اللہ بھی جسم اور جسمانیت سے پاک ہے۔ 

یہ اسی قول کا معنی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو جان لیا اس نے اپنے رب کو جان لیا سو اس کو مبارک ہو جس نے اپنے رب کو جان لیا اور اپنے گناہ کا اعتراف کرلیا۔ 

اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ تم اپنے نفس کو جان لو سو تمہارے رب کی صفات اس کی ضد ہیں ‘ لہذا جس نے اپنی فنا کو جان لیا اس نے اپنے رب کی بقا کو جان لیا اور جس نے اپنی جفا کو جان لیا اس نے اپنے رب کی وفا کو جان لیا اور جس نے اپنی خطا کو جان لیا اس نے اپنے رب کی عطا کو جان لیا۔ 

علامہ قونوی نے شرح التعرف میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں تعلیق المحال بالمحال ہے کیونکہ انسان اپنے نفس اور روح کی معرفت آج تک نہیں حاصل کرسکا تو وہ اپنے رب کی معرفت کیسے حاصل کرسکے گا ‘ انسان آج تک قطعی طور پر یہ نہیں جان سکا کہ اس کے کلام کی حقیقت کیا ہے اس کے حواس میں سے دیکھنے ‘ سننے چکھنے ‘ سونگھنے اور چھونے کی حقیقت کیا ہے کیونکہ ان کی تعریفات میں بہت اختلاف ہے مثلا دیکھتے وقت کسی چیز کی صورت ہماری آنکھوں میں مرتسم ہوجاتی ہے یا ہماری آنکھوں سے شعاعیں نکل کر اس چیز پر پڑتی ہیں ‘ کلام اور حواس بالکل ظاہر ہیں جب ہم اس کی حقیقت کو نہیں جان سکے تو روح جو مخفی ہے اس کی حقیقت کو جاننے میں تو ہم اور بھی عاجز ہیں ‘ پھر اللہ کی حقیقت کو جاننے میں تو ہمارا عجز اور بھی زیادہ واضح ہے۔ سو جو اپنے نفس کی حقیقت کو نہیں جان سکتا وہ اپنے رب کی حقیقت کو کیسے جان سکتا ہے ‘ اس لیے فرمایا اگر انسان اپنے نفس کی حقیقت کو جان لیتا تو اپنے رب کی حقیقت جان لیتا ‘ سو اس حدیث میں ایک محال کو دوسرے محال پر معلق کیا گیا ہے۔ (الحاوی للفتاوی ج ٢ ص ٢٤١۔ ٢٣٩‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 191