أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ ‌ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! تو نے جس کو دوزخ میں ڈال دیا سو تو نے اس کو ضرور رسوا کردیا ‘ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ (آل عمران : ١٩٢) 

ایمان کے ساتھ گناہوں پر مواخذہ نہ ہونے کے نظریہ کا رد : 

اس سے پہلی آیت میں عقل والوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی تھی اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے دعا سے پہلے اس کی حمد وثناء کرنی چاہیے ‘ فرقہ مرجیہ نے کہا اللہ تعالیٰ مومنوں کو رسوا نہیں کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” یوم لایخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ “۔ (التحریم : ٨) 

ترجمہ : جس دن اللہ نہ اپنے نبی کو رسوا کرے گا نہ ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے۔ 

اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عقل والوں کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اس کو تو نے رسوا کردیا ‘ اور ان دونوں آیتوں سے یہ نتیجہ نکلا کہ مومن دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ بعض معصیت سے ضرر نہیں ہوتا ‘ اور مومن خواہ نیک کام کرے یا برا کام کرے وہ دوزخ میں نہیں جائے گا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ مطلقا دوزخ میں داخل ہونا باعث رسوائی نہیں ہے کیونکہ جہنم کے محافظ اور پہرہ دار بھی جہنم میں ہوں گے اور وہ رسوا نہیں ہوں گے ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وما ادراک ما سقر، لا تبقی ولا تذر، لواحۃ للبشر، علیہا تسعۃ عشر، وما جعلنا اصحب النار الاملآئکۃ “۔ (المدثر : ٣١۔ ٢٧) 

ترجمہ : اور آپ نے کیا جانا کہ دوزخ کیا ہے، نہ باقی رکھے نہ چھوڑے، آدمی کو جھلسا دینے والی (آگ) ہے، اس پر انیس فرشتے مقرر ہیں، اور ہم نے دوزخ کا نگہبان صرف فرشتوں کو مقرر کیا ہے۔ 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر شخص دوزخ میں دوزخ میں داخل ہوگا پھر متقی لوگ دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور ظالموں کو اس میں رہنے دیا جائے گا۔ 

(آیت) ” وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتما مقضیا، ثم ننجی الذین اتقوا ونذر الظلمین فیہا جثیا، (مریم : ٧٢۔ ٧١) 

اور تم میں سے ہر شخص دوزخ سے ضرور گزرے گا اور آپ کے رب کے نزدیک یہ بات قطعی فیصلہ کن ہے، پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دیں گے ‘ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ 

ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ مطلقا جہنم میں دخول رسوائی کا موجب نہیں ہے بلکہ جس شخص کو دوام اور خلود کے لیے دوزخ میں داخل کیا جائے گا وہ ذلت اور رسوائی کا سبب ہوگا ‘ اور جن مسلمانوں کو تطہیر کے لیے دوزخ میں داخل کیا جائے گا اور پھر انکوان کے ایمان کی وجہ سے یا انبیاء (علیہم السلام) کی شفاعت کی وجہ سے یا اللہ تعالیٰ کے فضل محض کی وجہ سے دوزخ سے نکال لیا جائے انکا دوزخ میں عارضی دخول ذلت اور رسوائی کا سبب نہیں ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے اس ظلم سے مراد شرک اور کفر ہے کیونکہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھیرایا جائے اور اللہ کا حق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے اور مشرکین اور کفار ظالم ہیں ان کی شفاعت نہیں کی جائے گی اور جن مسلمانوں نے گناہ کبیرہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کی شفاعت کی جائے گی۔ 

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری شفاعت میری امت کے اہل کبائر کے لیے ہوگی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٤‘ ص ٦٢٥‘ رقم الحدیث ٢٤٣٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ١٤٤٠‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣١٣)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 192