حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نوجوانان جنت کے سردار ہیں

حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

“الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِلَّا ابْنَيِ الخالة: عيسى بن مريم، ويحيى بن زكريا”

حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) نوجوانان جنت کے سردار ہیں ماسوا دو خالہ زاد بھائیوں حضرت عیسیٰ بن مریم اور حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کے۔

السنن الکبریٰ للنسائی ج 7 ص 318 رقم الحدیث 8113

صحیح ابن حبان ج 15 ص 412 رقم 6959

امام حاکم اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:

هَذَا حَدِيثٌ قَدْ صَحَّ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، وَأَنَا أَتَعْجَبُ أَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ

لیکن امام ذہبی علیہ الرحمہ امام حاکم علیہ الرحمہ کا تعاقب کرتے ہوئے تلخیص میں لکھتے ہیں :

الحكم بن عبد الرحمن بن أبي نعم فيه لين

المستدرک علی الصحیحین للحاکم ج 3 ص 182 رقم الحدیث 4778

امام ہیثمی علیہ الرحمہ نے طبرانی شریف کے طرق سے اسی متن والی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

مجمع الزوائد ج 9 ص 182 رقم الحدیث 15083

شعیب الانوؤط نے اس حدیث کو صحیح قرار دے دیا۔

حاشیہ صحیح ابن حبان ج 15 ص 412 رقم 6959

اس روایت کی سند کو سلفی عالم ابو اسحاق الجوینی نے حسن قرار دیا ہے۔

کتاب الحلی بتخریج الخصائص علی ص 118 رقم الحدیث 126

سلفی عالم ناصرالبانی صاحب نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دے دیا۔

صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ ج 1 ص 607 رقم الحدیث 3181

لیکن میری تحقیق کے مطابق یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن ہے لیکن متن کے لحاظ سے صحیح ہے۔

حکم بن عبدالرحمن بن ابی نعم کی جرح و تعدیل پر ایک نظر:

امام یحییٰ بن معین علیہ الرحمہ نے اسے ضعیف کہا (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج 3 ص 123 رقم 565 و اسنادہ صحیح)

امام ابو حاتم الرازی علیہ الرحمہ نے اسے صالح الحدیث کہا (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج 3 ص 123 رقم 565 و اسنادہ صحیح)

امام ابن حبان علیہ الرحمہ نے اسے الثقات میں ذکر کیا۔(الثقات لابن حبان ج 6 ص 187 رقم 7394 و ج 8 ص 193 رقم 12935)

امام ابن خلفون علیہ الرحمہ نے اسے اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا۔ (اکمال تہذیب الکمال للمغلطائی ج 4 ص 97 رقم 1291)

امام ذہبی علیہ الرحمہ کا اس راوی کو لین (کمزور) قرار دینا بھی اتنی سخت جرح نہیں ہے کہ اس کی روایت تحسین کے لیول سے گرے۔

باقی یہ کہ امام ابن حجرعسقلانی علیہ الرحمہ نے اس راوی کو صدوق سئ الحفظ (التقریب التہذیب ج 1 ص 175 رقم 1450) قرار دینا یہ ان کا تسامح ہے کیونکہ امام عسقلانی نے سئی الحفظ کی جرح تہذیب التہذیب میں کسی امام سے نقل نہیں کی اور نہ ہی کسی امام نے اس راوی کو سئی الحفظ کہا ہے۔ لہذا یہ ان کا تسامح ہے اور راوی کی توثیق راجح ہے اور یہ راوی حسن الحدیث ہی ہے۔

واللہ اعلم

خادم اہل بیت و صحابہ رضی اللہ عنہم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

12 جنوری 2019ء