*درس 017: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خُلِقَ الْمَاءُ طَهُورًا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ إلَّا مَا غَيَّرَ لَوْنَهُ، أَوْ طَعْمَهُ أَوْ رِيحَهُ»،

وَالطَّهُورُ هُوَ الطَّاهِرُ فِي نَفْسِهِ الْمُطَهِّرُ لِغَيْرِهِ.

نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: پانی کو پاک کرنے والا بنایا گیا ہے لہذا اسے کوئی شے بھی ناپاک نہیں کرسکتی جب تک اس کا رنگ، ذائقہ یا بو تبدیل نہ ہوجائے۔

اور پاک کرنے والا وہی ہوتا ہے جو خود پاک ہو اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

وَقَالَ اللهُ تَعَالَى {وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا} [الفرقان: 48]

وَقَالَ اللهُ تَعَالَى {وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ} [الأنفال: 11].

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا پاک کرنے والا۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

پانی اپنی ذات اور صفت کے اعتبار سےاصلا(By Default) *طاهِر* یعنی پاک ہے اور *مُطَهِّر/طَهُور* یعنی پاک کرنے والا ہے۔

علامہ کاسانی نے اس اصول کے لئےآیتِ قرآنیہ اور حدیثِ مبارک سے استدلال کیا ہے۔

دراصل پانی کے جتنے بھی مسائل ہیں سب اسی اصول پر مبنی ہیں۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی مذکورہ آیت اور حدیث شریف کو بنیاد بناتے ہوئے *پانی* پر مفصل اور مکمل گفتگو کردی جائے، اس سے تین فائدے ہوں گے۔

(1) پانی کے مسائل سے متعلق کنسیپٹ کلئیر ہوجائیں گے۔

(2) کتاب کی اگلی ابحاث سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی نیز بہارِ شریعت سمیت کئی کتب کے مسائل حل ہوجائیں گے۔

(3) ہمارے فقہاء کرام کی علمی جلالت واضح ہوجائے گی کہ کس طرح قرآن وحدیث کو بنیاد بناتے ہوئے احکام نکالتے ہیں۔

اللہ تعالی نے پانی کی صفت بیان فرمائی کہ آسمان سے پانی اتارا جو پاک کرنے والا ہے تاکہ اس سے طہارت حاصل کی جائے ۔۔اور ۔۔حدیث شریف میں فرمایا کہ پانی کو ایسی صفت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے کہ وہ پاک کردیتا ہے۔ اور یہ بات بدیہی(Understood) ہے کہ جو پاک کرنے والا ہوتا ہے وہ خود بھی پاک ہوتا ہے، اسلئے کہ ناپاک چیز کبھی پاک نہیں کرتی کیونکہ وہ خود ناپاک ہوتی ہے۔

*لہذا جب تک پانی اپنی پیدائشی ذات و صفت پر باقی رہے گا اس سے ہر قسم کی طہارت حاصل کی جاسکتی ہے چاہے طہارتِ حکمیہ ہو یا طہارتِ حقیقیہ۔۔ اگر پانی کی ذات یا صفت میں تبدیلی آگئی تو اب احکامات میں تبدیلی واقع ہوجائے گی*

اب دیکھئے۔۔ پانی یا توماء مطلق ہوگا۔۔یا۔۔ماء مقید ہوگا۔۔یا۔۔ماء مستعمل ہوگا۔۔یا۔۔ماء نجس ہوگا۔

** ماء مطلق جیسے سمندر کا پانی، نہر وں کا پانی، بارش، کنووں، تالابوں وغیرہ کا پانی۔۔ ان سب پانی سے وضو جائز ہے اسلئے کہ اسے پانی کہا جاتا ہے اوراپنی ذات و صفت میں طاہر و مطہر رہتا ہے، اب چاہے میٹھا ہو یا کھارا، سمندر میں ہو یا گھر کے برتن میں۔

** ماء مقید جیسے درختوں کا پانی، پھلوں کا پانی، ناریل کا پانی۔۔ اسی طرح پانی میں کثیر مقدار میں دودھ، زعفران یا کچھ اور شے مل جائے۔۔ تو ان سب پانی سے وضو جائز نہیں ہے اسلئے کہ اب یہ اپنی ذات و صفت میں پانی نہیں رہا بلکہ کچھ اور شے بن گیا ہے۔۔

یہی وجہ تھی کہ بہارِ شریعت میں لکھا تھا کہ جب تک ہم یہ کہیں کہ یہ پانی ہے جس میں تھوڑا سا دودھ مل گیا ہے تو اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ وہ ابھی اپنی ذات و صفت پر باقی تھا لیکن جیسے ہی دودھ غالب ہوا تو اب وہ پانی ہونے سے نکل گیا اور لسی بن جائے گا اور وضو و غسل ناجائز ہوگا۔

** ماء مستعمل جیسےوضو اور غسل کا پانی جو اعضا سے گرتا یا ٹپکتا ہے، چونکہ یہ نجاستِ حکمیہ یعنی حدث کو لیکر گرتا ہےاور استعمال شدہ ہوجاتا ہے اسلئے اب کسی دوسرے عضو کو پاک کرنے کی صلاحیت کھودیتا ہے، لہذا پنی صفت پر باقی نہ رہنے کی وجہ سے اس سے وضو و غسل جائز نہیں ہے۔۔نیز اپنی ذات میں ناپاک تو نہیں ہوتا مگر نجاستِ حکمیہ یعنی حدث سے ملوث ہوجانے کے سبب اس کامسجد کے فرش پر گرانا جائز نہیں، آٹا گوندنا، کسی کے اعضاء سے ٹپکتا پانی پینا منع ہے۔

** ماء نجس جیسے برتن میں پیشاب کے قطرے گر جائیں، کتا پانی کی بالٹی میں منہ ڈالتے۔۔ اس سے وضو و غسل جائز نہیں ہے کیونکہ نجس چیز کے ملنے کی وجہ سے یہ اپنی ذات و صفت میں ناپاک ہوگئے، یہ حکم کم پانی کے لئے ہے کیونکہ کم پانی ہونے کی وجہ سے نجس چیز اس کے تمام جگہوں میں سرایت کرجانے کا حکم رکھتی ہے۔۔۔ جبکہ کثیر پانی ہو جیسے سمندر یا تالاب تو یہ اس وقت تک ناپاک نہیں ہوگا جب تک اسکی صفت میں تبدیلی نہ آجائے اور صفت کی تبدیلی کا اندازہ رنگ، ذائقہ یا بو کی تبدیلی سے لگایا جاتا ہے، جیسا کہ حدیثِ مبارک میں بیان ہوا۔

اسی درس کا بقیہ حصہ اگلی پوسٹ میں۔۔۔۔

*ابو محمد عارفین القادری*