أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! ہمیں وہ عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان کے ذریعہ ہم سے وعدہ فرمایا ہے ‘ اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٩٤) 

دعا قبول ہونے کے علم کے باوجود دعا کرنے کی حکمتیں : 

مسلمانوں نے اپنی دعا میں یہ کہا تو نے اپنے رسولوں کی زبانوں کے ذریعہ ہم سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا فرما ‘ بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ‘ اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کے خلاف کرنا محال ہے ‘ پھر یہ دعا کیوں کی گئی کہ تو اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا سے مقصود اظہار عبودیت ہے کیونکہ بعض چیزوں کے متعلق ہم کو معلوم ہے کہ لامحالہ ایسا ہوگا پھر بھی اس کی دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین “۔ (المؤمنون : ١١٨) 

ترجمہ : آپ دعا کیجئے اے میرے رب مغفرت فرما اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ 

رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت سورة فتح سے قطع طور پر ثابت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اظہار عبودیت کے لیے آپ کے لیے مغفرت طلب کرنے کا حکم برقرار رکھا۔ 

(آیت) ” قال رب احکم بالحق “۔ (الانبیاء : ١١٤) 

ترجمہ : (اللہ کے رسول نے) دعا کی اے میرے رب برحق فیصلہ فرما ،

حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ برحق ہی ہوتا ہے پھر بھی اللہ کے رسول نے اظہار عبودیت کے لیے یہ دعا کی۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو رسولوں کے ذریعہ مغفرت اور اجروثواب کا وعدہ فرمایا ہے وہ نام بہ نام معین اشخاص سے وعدہ نہیں فرمایا بلکہ وہ وعدہ بطور نیک اوصاف کے ہے یعنی جو لوگ اعمال صالحہ کریں گے ان کے لیے جنت اور آخرت کی نعمتیں ہیں ‘ اس لیے ہم کو یہ معلوم نہیں کہ ہمارا شمار ان اوصاف کے حاملین میں ہے یا نہیں جب کہ ہم سے انواع و اقسام کے گناہ بھی ہوتے رہتے ہیں اس لیے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ عطا فرمائے گا لیکن یہ نہیں فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو کب غلبہ نصیب ہوگا سو مسلمانوں نے اس غلبہ کے حصول کے لیے دعا کی۔ 

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان اپنے نیک اعمال کی وجہ سے اجر وثواب کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ اس وعدہ کی وجہ سے اجر کا مستحق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور مسلمانوں نے اللہ سے دعا کرتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ اپنے وعدہ کی وجہ سے ہمیں عطا فرما یہ نہیں کہا کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے عطا فرما : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ‘ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھ کو بھی نہیں الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ‘ تم درست کام کرو اور نیکی کے قریب ہو ‘ صبح ‘ شام اور رات کے کچھ حصہ میں درمیانہ روی اور اعتدال سے عمل کرو۔ 

صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٤٦٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨١٨‘ ٢٨١٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٠١‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٣٧‘ ٥٢٤‘ ٥١٤‘ ٥٠٩‘ ج ٣ ص ٣٦٢‘ ٣٣٧‘ ٥٣‘ ج ٦ ص ١٢٥‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٤٦١ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 194