نسب یا تقویٰ

نسب یا تقویٰ

آجکل سادات کرام اور ان کی حمایت یا مخالفت میں ہونے والی پوسٹوں کے تناظر میں اہم تحریر……. مکمل پڑھیں

(1)نسبت اول ایمان و تقویٰ

قالﷲ تعالی: انما المومنون اخوۃ۔

ﷲتعالی نے فرمایا بیشک تمام مومن بھائی بہن ہیں۔

معلوم ہوا ایک نسبتِ ایمان بھی ہے۔

قرآن میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا

شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ

تمہیں شاخیں اور قبیلے بنایا کہ آپس میں پہچان رکھو۔

بندہ عرض کرتا ہے اے اللہ : پھر عزت کا معیار کیا ہے؟

جواب آتا ہے

اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ

بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔

کہیں ہم پڑھتے ہیں کہ اہل بیت رسول، آل رسول افضل ہیں، اور کہیں قرآن میں

ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم

بے شک اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والاوہ ہے جو سب سے بڑا پرہیزگارہے۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے افضل کون ہیں، اہل بیت رسول یا تقوی والے۔

میرے نزدیک یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی پوچھنے والا پوچھےکہ کھانوں میں سب سے مزیدارکھانا کون سا ہے ؟

تو ایک کہے کہ نمکین سب سے زیادہ مزیدارہے،

تو دوسرا شخص اُس کا رد کرنے کی لئے یہ کہے: نہیں بلکہ سب سے زیادہ مزیدار میٹھی چیزہے۔

جس طرح نمکین اور میٹھا کا مزے دار ہونا موقع کی مناسبت سے ہے اسی طرح اہل تقوی اور اہلبیت رسول ان دونوں کے بھی اپنے اپنے مقام ہیں۔

سادات کرام اگر بخشے جائیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے۔

لیکن متقی بھی نسبت سے بخشے جائیں گے،لیکن وہ قرآن و سنت کے مطابق بخشوائیں گے بھی۔

(2)نسبت دوم آل رسول و سادات کرام

قرآن کریم کی یہ آیات مبارکہ دو مفہوم بیان کرتی ہے ایک یہ کہ اہل تقوی کا فائدہ ان کی اولادوں کو پہنچتا ہے۔

اور یہ کہ سادات کرام کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کا نفع پہنچے گا۔

قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے ۔

وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ

وہ دیوار شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا ۔

اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

یا علی ان اول اربعۃ یدخلون الجنۃ انا وانت والحسن والحسین وذرار ینا خلف ظھورنا۔

اے علی! سب میں پہلے وہ چار کہ جنت میں داخل ہوں گے میں ہوں اور تم، حسن اور حسین، اور ہماری ذریتیں۔ ہمارے پس پشت ہوں گی۔ (طبرانی)

دوسری حدیث

اول من یرد علی الحوض اھل بیتی ومن احبنی من امتی۔

سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر آنیوالے میرے اہل بیت ہیں اور میری امت سے میرے چاہنے والے۔

تیسری حدیث

اللھم انھم عترۃ رسولک فھب مسیئھم لمحسنھم وھبہم لی۔

الہی! وہ تیرے رسول کی آل ہیں، تو ان کے بدکار ان کے نیکوکاروں کو دے ڈال اور ان سب کو مجھے ہبہ فرمادے۔

پھر فرمایا:ﷲ تعالی نے ایسا ہی کیا۔

اس روایت سے ایک بات تو واضح ہے کہ آل رسول کی بخشش کا مدار رسول اللہ کی سفارش پر ہے اسی طرح جس طرح اس امت کے گناہ گاروں کا مدار رسول اللہ کی شفاعت پر ہے۔

ایک روایت میں ہے

بے شک اللہ عزوجل کی تین حرمتیں ہیں۔ جو ان کی حفاظت کرے اللہ تعالی اس کے دین ودنیا محفوظ رکھے، اور جو ان کی حفاظت نہ کرے اللہ اس کے دین کی حفاظت فرمائے نہ دنیا کی، ایک اسلام کی حرمت، دوسری میری حرمت، تیسری میری قرابت کی حرمت،

معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کی عزت لازم ہے ان کی اتباع نہیں۔

کسی کی پیروی علم اور تقویٰ کی بنیاد پر ہوگی۔

(3) نسبت سوم علم اور علماء

(1)…علماء زمین کے چراغ اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں ۔

(2)…ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔

(3)…علم کی مجالس جنت کے باغات ہیں ۔

(4)…علم کی طلب میں کسی راستے پر چلنے والے کے لئے اللہ تعالی جنت کا راستہ اسان کر دیتا ہے۔

(5)…قیامت کے دن علماء کی سیاہی اور شہداء کے خون کا وزن کیا جائے گا تو ان کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آجائے گی۔

(6)…عالم کے لئے ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے حتی کہ سمندر میں مچھلیاں بھی مغفرت کی دعا کرتی ہیں ۔

(7)…علماء کی تعظیم کرو کیونکہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں ۔

(8)…اہل جنت ،جنت میں بھی علماء کے محتاج ہوں گے۔

(9)…علماء آسمان میں ستاروں کی مثل ہیں جن کے ذریعے خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہ پائی جاتی ہے۔

(10)…قیامت کے دن انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد علماء شفاعت کریں گے۔

ان تمام روایات کو ان کتابوں سے منتخب کیا گیا ہے

کنزالعمال،مسند الفردوس، مسلم شریف، ترمذی شریف،معجم الکبیر، ابن عساکر،

(4) نسبت چہارم غلام یا نو مسلم

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مولی القوم انفسھم

کسی قوم کا آزاد کردہ غلام ان میں سے ہے۔(صحیح بخاری)

نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

من اسلم من اھل فارس فھو قرشی

اہل فارس سے جو اسلام لائے وہ قرشی ہے ۔ (کنز العمال)

ہماری دعا بھی یہی ہے کہ

جعلنا اللہ تعالی فی الدنیا و الاخرۃ من موالیھم فان مولی القوم منہم ۔

اللہ تعالی ہمیں دنیا و آخرت میں ان کے غلاموں میں رکھے کیونکہ کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم سے شمار ہوتا ہے ۔

(5) نسبت پنجم منقطع نسب

حضرت سیدنا نوح علیہ السلام سے منقطع نسب

وقال تعالی :

قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَھلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ۔

اے پیارے نوح علیہ السلام یہ آپ کی اہل میں سے نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق( غیر صالح) ہیں

قرآن میں ہے

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَلَاۤ اَنۡسَابَ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوۡنَ ۔

تو جب صور پھونکا جائے گا تو نہ ان میں رشتے رہیں گے نہ کوئی ایک دوسرے کی بات پوچھے ۔

اور ہمارے علمائے کرام نے یزید کو بھی نسب کا فائدہ نہیں دیا

تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ آج کے سیدوں کو ان کی نسبتوں کی وجہ سے ہم قابل اطاعت سمجھیں۔

جبکہ عمل کی کوتاہیاں واضح نظر آ رہی ہوں……

حدیث مسلم:

عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ من ابطأبہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جو عمل میں پیچھے ہوا اسکا نسب نفع بخش نہ ہوگا۔

لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:

وہ صعقہ اولی (قیامت کی پہلی کڑک) ہے اس میں رشتے کام نہ آئیں گے۔……

پوری تحریر کا لب لباب یہ ہے سادات کرام کی عزت و توقیر لازم ہے مگر اتباع لازم نہیں اتباع اس وقت کی جائے گی جب ان میں سے کسی کو قرآن وسنت کا صحیح عالم پائیں گے.

عالم چاہے سادات میں سے ہوں یا کسی بھی قوم و گروہ سے

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں…

تحریر : ۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.