حدیث نمبر :284

روایت ہے بنی سُلَیم کے ایک صاحب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یا اپنے ہاتھ یہ چیزیں گنائیں فرمایا تسبیح آدھی ترازو ہے اور الحمدﷲ اسے بھردے گی ۲؎ اور تکبیر آسمان و زمین کے درمیان کو بھر دیتی ہے اور روزہ آدھا صبرہے۳؎ اور پاکی آدھا ایمان ہے اسے ترمذی نے روایت کیااورفرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

شرح

۱؎ ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ سارے صحابہ عادل ہیں۔لہذا ان کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں۔

۲؎ اس کی شرح گزر چکی کہ نیکیوں کا پلہ ان دوکلموں کے ثواب سے بھر جائے گا اس لیئے کہ تسبیح میں اﷲ کی بے عیبی کا اقرار ہے اورحمد میں اس کے صفات کمالیہ کا اظہار۔

۳؎ کیونکہ حلق اور شرمگاہ کو روزہ روکتا ہےباقی اعضاءکو دوسرا صبر،یا ظاہری گناہ سے روزہ روکتا ہے،باطنی گناہوں سے دوسرا صبریا ایمان طاعت پھر اور گناہوں سے صبرکراتا ہے جس کا سبب نفس کی شہوت ہے اور روزے سے ٹوٹتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ تمام قسم کے صبر ایک جانب اور روزہ ایک جانب۔