کتابت،ضبط صدر، یا عمل کسی ذریعہ سے علم کی حفاظت ہو سکتی ہے

یہ بات مسلمات سے ہے کہ رب کریم جل وعلانے انسانی فطرت میں اس چیز کو ودیعت فرمادیا ہے کہ کسی واقعی چیز کی حفاظت انسان کبھی حفظ و ضبط اور اپنی قوت یادداشت کے ذریعہ کرتا ہے اور کبھی تحریر وکتابت سے اور کبھی عمل و کردار سے ،تینوں صورتوں کے مراتب حالات کے اختلاف سے مختلف ہوتے رہتے ہیں ،محض کسی ایک کو حفاظت کاذریعہ سمجھ لینا ہرگز دانشمندی نہیں ۔

اب اگر کوئی حفاظت وصیانت کی بنا لکھنے ہی کو قرار دینے لگے تواس میں جیسی کچھ لغزشیں پیش آتی ہیں انکے چند نمونے ملاحظہ کرتے چلئے ۔

علماء ومحدثین نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے اور ان لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کی ہے جو علوم وفنون کے سرمایہ کوکتابت ہی کی صورت میں دیکھنے کے روادار ہیں ۔