ہم پر یہ ہی لوگ قرآن مشتبہ کردیتے ہیں

حدیث نمبر :283

روایت ہے شبیب ابن ابی روح سے ۱؎ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے راوی ۲؎ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھی سورۂ روم کی قرأت کی تو آپ کو متشابہ لگ گیا جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا لوگوں کا کیا حال ہے کہ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔طہارت اچھی طرح نہیں کرتے۳؎ ہم پر یہ ہی لوگ قرآن مشتبہ کردیتے ہیں۴؎(نسائی)

شرح

۱؎ آپ تابعین سے ہیں،حمص کے رہنے والے،آپ کے والد کا نام نعیم،کنیت ابو روح ہے،نہ خود صحابی ہیں نہ والد۔

۲؎ چونکہ تمام صحابہ پرہیز گار اور عادل ہیں کوئی فاسق نہیں اسی لئے اس طرح روایت جائز ہے۔صحابہ کے علاوہ اورراوی کا نام لینا ضروری ہے ورنہ حدیث مجروح ہوگی،کیونکہ نامعلوم وہ شخص فاسق ہے یا عادل۔غالبًا یہ صحابی اَغَرّغِفَارِی ہیں۔(مرقاۃ)

۳؎ یعنی وضوء وغسل کی سنتیں و مستحبات پورے ادا نہیں کرتےکیونکہ وضوء میں واجب کوئی نہیں۔

۴؎ یعنی ان کی کوتاہی کا اثر ہم پر یہ پڑتاہے کہ تلاوت میں لقمہ لگ جاتا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا اس سےمعلوم ہوا کہ حضور جیسی ہستی کی نماز پر ناقص الوضو کی صحبت کا اثر ہوجاتا ہے۔تو افسوس ان لوگوں پر جو بدکاروں اور بے دینوں کی صحبت میں رہیں یقینًا انکا ایمان بھی برا اثر لے گا یہ بیماری اڑکرلگتی ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.