کتابت پر بھروسہ کر کے پڑھنے کی چند مثالیں

کتابت پر بھروسہ کر کے پڑھنے کی چند مثالیں

امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے ایک حدیث الادب المفرد میں نقل فرمائی جسکی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک صغیر سن بھائی تھے ۔ ایک چڑیاہاتھ میں لئے کھیلتے پھرتے تھے ،کسی دن وہ چڑیا مرگئی۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور ہمارے یہاں تشریف فرماہوئے تودیکھا کہ میرے بھائی رنجیدہ ہیں، وجہ دریافت کی، ہم نے قصہ بیان کیا ،چونکہ بچوں پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاپیار اورشفقت عام تھی ،مزاح اور جوش طبعی کیلئے کبھی نادرالمثال جملوں سے نواز تے ،اسی انداز میں حضور نے پہلے انکی کنیت ابوعمیر قراردی اورفرمایا ۔

یااباعمیر مافعل النغیر۔(الجامع الصحیح للبخاری، باب الکنیۃ للصبی،السنن لا بی داؤد، کتاب الادب باب فی الرجل یکنی،)

ابوعمیر نغیر نے کیاکیا ۔

امام حاکم اسی ارشاد رسول کے متعلق فرمارتے ہیں ،کہ ایک صاحب جنہوں نے احادیث کی سماعت مشائخ سے نہ کی تھی یونہی کتابت پر بھروسہ کرکے کتاب کھو ل کر حدیث پڑھنا شروع کردی ،جب یہ حدیث آئی چونکہ علم حدیث سے تہی دامن تھے اورنغیر کالفظ بھی کچھ غیر مشہورساہے لہذا فرمادیا یہ لفظ بعیرہے اور تلامذہ کوبے دھڑک بتادیا کہ حضور ابوعمیر سے پوچھ رہے ہیں

اے ابوعمیر اونٹ کیاہوا ۔

صحیح بخاری کی روایت میں صراحت ہے کہ یہ ایسے بچے تھے کہ ابھی دودھ چھوٹا تھا ،پھر قارئین اس بات کااندازہ خود لگاسکتے ہیں کہ ابوعمیر کاواسطہ کس سے رہاہوگا اونٹ سے یاچڑیاسے ،نیز حضور کا مزاح یہاں کلام مسجع کی شکل میں ہے تو پھر مقصد ہی فوت ہوگیا ۔

امام حاکم نے ایک اور واقعہ انہیں سے متعلق لکھا ہے ۔کہ اہل عرب عموماً قافلوں میں نکلتے تھے لہذا اونٹوں کے گلے میں گھنٹیاں باندھتے ، انکی غرض جوبھی رہی ہو لیکن اس سے منع کیاگیا ،غالبا سازومزامیرکی شکل سے مشابہت کی وجہ سے ،الفاظ حدیث یوں منقول ہیں ۔

لاتعجب الملائکۃ رفقۃ فیھا جرس ۔

فرشتے اس قافلہ کو دوست نہیں رکھتے جس کے جانوروں کے گلے میں گھنٹیاں ہوں ، ان صاحب نے ’جرس ‘ کو’ خرس‘ پڑھ دیا اور مطلب بیان فرمایا کہ جولوگ ریچھ کوقافلہ میں رکھتے ہیں وہ ملائکہ کے نزدیک ناپسند یدہ ہیں ۔

اسی طرح مشہور حدیث ہے :۔

البزاق فی المسجد خطیئۃ وکفارتہا دفنہا ۔(الجامع الصحیح للبخاری، باب کفارۃ البزاق فی المسجد، ۱/۵۹الصحیح لمسلم، باب النھی عن البصاق فی المسجد، ۱/۲۰۷)

مسجد میں تھوک گناہ اور اسکا کفارہ دفن کردینا ہے۔

اسکے متعلق ایک محدث صاحب کاواقعہ منقول ہے کہ انہوں نے اسکو ’البراق ‘ پڑھا اور معنی بتائے کہ براق مسجد میں دیکھے تودفن کرڈالے ۔

امام حاکم اس سے بھی عجیب تربیان کرتے ہیں ،کہ مشہور محدث حضرت ابن خزیمہ نے فرمایا : مشہور واقعہ ہے کہ

ان عمربن الخطاب توضأ فی جر نصرانیۃ۔

ایک موقع پر حضرت عمرفاروق اعظم نے ایک نصرانی عورت کے گھڑے سے وضوکیا ۔

پڑھنے والے نے اسکو ’حرّ ، بمعنی اندام نہانی پڑھا ، اب قارئین خود اندازہ کرلیں کہ بات چل رہی تھی کہ کن پانیوں اورکون کونسے برتنون سے وضوہوسکتا ہے اور یہ کیسی فحش کلامی پر اترآئے۔

یہ حال ہے اس کتابت کا محض جس پر منکرین حدیث نے بنائے کار رکھی ہے ۔

ہوسکتا ہے کوئی صاحب کہہ اٹھیں کہ اس طرح کی تصحیف اورایسے ذھول ومسامحات سے کتنوں کا دامن پاک رہا ہے ؟ یہ ان حضرات کی کوتاہی تھی پھر اسکا نفس کتابت سے کیا تعلق کہ اسکو مذموم قرار دیا جائے ۔

ہم کہتے ہیں صحیح ہے کہ فی نفسہ کتابت کسی علم کی حفاظت کیلئے مذموم نہیں ،لیکن اتنی بات توطے ہوگئی کہ محض کتابت پرتکیہ کرلینا اوراسی کو حفاظت علم وفن کا معیار قرار دینا درست نہیں رہا جب تک حفظ وضبط کا اسکے ساتھ مضبوط سہارا نہ ہو۔

پھر یہاں یہ امربھی قابل توجہ ہے کہ جن غلطیوں کی نشاندھی کی گئی ہے وہ معمولی نہیں بلکہ درایت سے کوسوں دورنری جہالت کی پیداوار ہیں ، اختلاف قرأت یا نسخوں کی تبدیلی اس طرح کی غلطیوں میں مسموع نہیں ہوتی ۔بلکہ ان مثالوں کو تصحیف کہنا ہی نہیں چاہیئے انکے لئے تو تحریف کا عنوان دینا ضروری ہے ۔

اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز وہ مثالیں ہیں جن میں قاری نے غلط پڑھنے کے ساتھ ساتھ انکے معانی پر جزم کرکے توجیہ کرتے ہوئے وہ باتیں کہدی ہیں جو بالکل بے سروپا ہیں ۔

ایک حدیث شریف میں ہے: ۔

زرغبا تزددحباً۔

حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا،کبھی کبھی ملاقات سے محبت زیادہ ہوتی ہے ۔

امام حاکم کہتے ہیں :۔

ایک صاحب جنکا نام محمد بن علی المذکرتھا ،ہوسکتا ہے وعظ گوئی کا پیشہ کرتے ہوں لہذا لوگوں کوعشروصدقات کی ترغیب دینے کیلئے ایک واقعہ گڑھ لیا ہو ،چنانچہ اس حدیث کو ان الفاظ میں پڑھکر سنایا ۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔

زرعنا تزداد حناً۔

ہم نے کھیتی کی تو وہ سب مہندی ہو گئی۔

لوگوں نے تعجب خیز انداز میں پوچھا ،جناب اس کا کیا مطلب ہوا ؟بولے:

اصل میں قصہ یہ ہے کہ کسی علاقہ کے لوگوں نے اپنی کھیتی باڑی کا عشر وصدقہ ادانہیں کیاتھا ،لہذا اسکی سزاملی ،حضور کی خدمت میں شکایت لیکر پہونچے ،یارسول اللہ ! ہم لوگوں نے کھیتی کی تھی لیکن وہ سب مہندی کے درخت بن گئی ۔ توحضور نے انکا قول نقل کرتے ہوئے لوگوں کو برے نتائج سے خبر دار کیا ہے ،معاذ اللہ رب العالمین ۔

یہ سب نتیجہ اسی چیز کا تھا کہ حدیث کسی استاذ سے پڑھی نہیں تھی صرف کتاب سے نقل کرکے بتادی جس میں بیچارے کاتب کی خامہ فرسائی سے الفاظ میں تغیر ہوگیا ہوگا جسکو یہ خود سمجھ نہ پائے ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کریمہ کی غلط تاویل بھی بسااوقات

اسی بے علمی اور محض کتابت پر بھروسہ کی پیدا وار ہوتی ہے ۔

حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھی ، چونکہ نماز عید میدان میں اداکی جاتی تھی ،لہذا سترہ کے طور پر کبھی چھوٹاتیز بلم وغیرہ نصب کرلیا جاتا ، دوسرے اوقات کی نمازیں بھی جب سفر میں اداہوتیں تو سترہ کا طریقہ عام تھا ،حدیث کے الفاظ ہیں ۔

کان یرکزالعنزۃ ویصلی الیھا ۔(الصحیح لمسلم، باب السترۃ، ۱/۱۹۵)

نیزہ گاڑاجاتا اور اسکی جانب رخ کرکے دورکعت نمازپڑھی ۔

دوسری حدیث میں ہے:۔

فصلی الی العنزۃ بالناس رکعتین۔ (الصحیح لمسلم، باب السترۃ، ۱/۱۹۶)

پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نیزہ کی طرف رخ کرکے دورکعت نمازپڑھائی۔

اب سنئے۔

عرب کے ایک قبیلہ کانام ’عنزہ ‘تھا ،اسکے ایک فرد ابوموسی عنزی بیان کرتے تھے کہ

ہماری قوم کو بڑا شرف حاصل ہے کہ حضور نے ہمارے قبیلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے۔(مقدمہ بن صلاح، ۱۴۲)

غالبا انکی اسی طرح کی غفلتوں کے پیش نظر امام ذھلی نے فرمایا ۔

فی عقلہ شی۔( میزان الاعتدال، للذہبی، ۴ /۲۴)

انکی عقل میں کچھ فتور تھا ۔

دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے جوامام ابن حبان نے بیان کی ۔

کان لا یقرء الامن کتابہ۔ (میزان الاعتدال للذہبی، ۴/۲۴)

احادیث ہمیشہ کتاب سے پڑھنے کے عادی تھے ۔

نیزامام نسائی فرماتے ہیں ۔

کان یغیر فی کتابہ۔( میزان الاعتدال، للذہبی، ۴/۲۴)

اپنی کتاب میں تغیر سے بھی کام لیتے تھے ۔

حدیث شریف میں ہے :۔

ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجر فی المسجد۔ ( مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں چٹائی سے آڑ کی ۔

اسی معنی کی روایت بخاری شریف میں یوں ہے ۔

کان یحتجرحصیرا باللیل فیصلی ویبسطہ بالنہار فیجلس علیہ۔ ( الجامع الصحیح للبخاری، کتاب اللباس،)

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شب میں ایک چٹائی سے آڑکرکے نماز پڑھتے اوردن میں اسکو بچھاکراس پر تشریف فرماہوتے ۔

قاضی مصر ابن لہیعہ نے اسکو یوں روایت کردیا ۔

احتجم فی المسجد ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد میں فصد کھلوائی ۔

امام ابن صلاح اس غلطی کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

اخذہ من کتاب بغیرسماع۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

ابن لہیعہ نے شیخ سے سماعت کئے بغیر کتاب سے دیکھکر روایت کردیا ۔

حدیث شریف میں ہے ۔

ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نھی عن تشقیق الخطب۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وعظ وتقریر میں نفاظی اور بناوٹی انداز سے منع فرمایا۔

دوسری حدیث یوں مروی ہے ۔

لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الذین یشققون الخطب تشقیق الشعر۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وعظ وتقریر میں بتکلف شعروشاعری کی طرح قافیہ بندی کرنے والوں کو ملعون فرمایا ۔

اب لطیفہ ملاحظہ کریں :۔

اس حدیث کوایک بیان کرنے والے مقرر نے مسجد جامع منصور میں اس طرح پڑھا ،

نھی عن تشقیق الحطب ۔

حضور نے لکڑیاں چیرنے سے منع فرمایا۔

اتفاق سے مجلس میں ملاحوں کی ایک جماعت بھی تھی ،بولے

فکیف نعمل والحاجۃ ماسۃ۔ (مقدمہ بن صلاح، ۱۴۲)

ہم کشتیاں کیسے بنائیں کہ اسکے لئے تو لکڑی چیرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔

ان بیچاروں کا روزگار ہی کشتی چلانے پرتھا توانکی تشویش بجا تھی ،امام ابن صلاح نےآگے کی بات ذکر نہیں کی کہ پھر ان ملاحوں کو جواب کیا ملا ۔

ان جیسے بہت سے قصے امام مسلم نے کتاب التمیز میں ذکر کئے ہیں اوردیگر محدثین مثل دارقطنی وغیرہ نے شرح وبسط سے مفید معلومات بیان کی ہیں ۔

متفرقات

وضاحت:حبِ رسول ﷺ کا معیار اور اس کے تقاضے ‘‘کے عنوان سے میں نے دو کالم لکھے تھے ‘سطورِ ذیل اُن کا تکملہ اور تتمّہ ہیں‘ پچانوے فیصد قارئین کرام نے اسے سراہا ہے ‘ دوچار آراء آئی ہیں ‘وہ بھی اختلافی نہیں ہیں ‘ بلکہ اپنے انداز میں محبت کے قرینے کا اظہار ہے‘ ہماری خواہش ہے کہ ہمارا مقابلہ علم کے میدان میں ہے ‘ان مظاہر میں نہیں ہے ‘لہٰذا ہمیں ترجیحات کا تعیُّن کرنا چاہیے اور چالیس سے زیادہ مشایخ عظام اور مفتیانِ کرام کی توثیقات کے ساتھ ”اصلاحِ عقائد واعمال ‘‘ کتاب ”اَلدِّیْنُ اَلنَّصِیْحَۃ‘‘کے جذبے کے تحت لکھی گئی ہے:

”اگر پگڑی ٹوپی یا جیب پر نعلینِ پاک کی شبیہ سجانے سے محبتِ رسول کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں‘ تو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لیے بہت آسان تھا کہ شبیہ نہیں بلکہ حقیقت میں نعلین خرید کر لاتے اور تاجدارِ کائناتﷺسے درخواست کرتے: ”یارسول اللہ!آپ ایک بار انہیں پہن کر متبرک فرمالیں ‘‘اور پھر وہ انہیں اپنی پگڑی میں سجا لیتے۔ اس طرح طائف کی اذیتوں‘ ہجرت کے آزار‘ بدر‘ اُحد ‘ خندق‘ حدیبیہ‘ خیبر اور تبوک کے مراحل سے گزرے بغیر سچے عاشقِ رسول قرار پاتے‘ کتنا آسان ہوتا عشقِ رسول‘ اگر کوئی یہ کہے کہ حضرتِ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حصولِ برکت کے لیے اپنی دستارِ مبارک میں سید المرسلینؐ کے موئے مبارک رکھے ہوئے تھے‘ تو جواباً گزارش ہے:وہ نمائش کے لیے نہیں بلکہ پگڑی کے اندر رکھے ہوئے تھے اور آپ نعرہ بازی نہیں کر رہے تھے بلکہ میدانِ عمل میں سرگرم تھے‘ اسی طرح سید المرسلین ؐکے وضوئے مبارک سے ٹپکنے والے قطرات کو وہ اپنے چہرے پر مَل لیتے تھے‘ سجاوٹ اور نمود کا کوئی تصور نہیں تھا‘ بس عقیدت تھی اور حقیقت تھی۔ المیہ یہ ہے کہ ارادت اور جماعتی نظم میں بندھے ہوئے علمائے کرام لب کشائی نہیں فرمارہے‘ ورنہ حج اور عمرے کے ہر ہر مرحلے (طواف‘ سعی‘ زمزم ‘منیٰ وعرفات ومزدلفہ کے مناسک)کی ویڈیو تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کرناکیا لِلّٰـہیـت ہے ‘ اخلاص ہے‘ بے ریائی ہے ‘یہ اللہ والوں کی شان ہے ‘ ہم کیسی مثالیں قائم کرنے جارہے ہیں‘کیا علماء ہمیشہ مصلحتوں کا شکار رہیں گے ۔ہم خود بھی اصلاح کی بات قبول کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور سب سے یہی توقع رکھتے ہیں ‘خاص طور پر وہ شخصیات جو لوگوں کیلئے اُسوہ اور قُدوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ کلمات” اَلدِّیْنُ اَلنَّصِیْحَۃ‘‘ کے تحت ہیں۔ تبرکات سے خیروبرکت کا حصول اہلسنت وجماعت کے نزدیک مسلّمہ امر ہے ‘لیکن جو انداز اختیار کیے جارہے ہیں‘ اُن میں ابتذال کا عُنصر بڑھتا جارہا ہے‘ہماری گفتگو کا محور یہ ابتذال ہے۔جو ہمارے ادارے یا تنظیمیں رشد وارشاد اور دعوت وتبلیغ اور تعلیم وتدریس کے میدان میں اچھے کام کر رہے ہیں‘ ہم ان کی تحسین کرتے ہیں ‘اُن کو تسلیم کرتے ہیں اور اُن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں‘ پس ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ فقہی اعتبار سے شبیہ کا حکم اصل کا نہیں ہوتا‘اگر کوئی یہ کہے کہ مولاناحسن رضا خان قادری رحمہ اللہ تعالیٰ کی تو آرزو تھی :

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور

تو پھر کہیں گے کہ ہاں! تاجدار ہم بھی ہیں

لیکن یہ آرزو حقیقی نعلینِ پاک کے لیے تھی ‘اگر شبیہ سے یہ مقصد پورا ہوتا تو ہمارے آج کے عاشقانِ مصطفی ﷺکی طرح وہ بھی شبیہِ نعلینِ پاک بناکر اپنی دستارِ مبارک میں سجالیتے‘ کیونکہ ایسا تو نہیں کہ یہ شبیہ اب دریافت ہوئی ہے اور انہیں اس کا علم نہیں تھا‘‘۔ 

سنتا جا شرماتا جا:ہندو رکنِ قومی اسمبلی جناب رمیش کماروانکوانی نے قومی اسمبلی میں حرمتِ شراب کے بارے میں قرارداد پیش کی ‘ اس کا خلاصہ یہ ہے :”شراب کے پرمٹ غیر مسلموں کے نام پر دئیے جارہے ہیں اور تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں شراب پینا جائز ہے یا شاید پسندیدہ ہے ‘یہ تاثر بالکل غلط ہے ‘ کوئی بھی مذہب خواہ ہندومت ہو‘مسیحیت ہو ‘ سکھ مذہب ہو ‘ شراب نوشی کی ترغیب نہیں دیتا ‘نہ یہ ان مذاہب کی تعلیمات کا حصہ ہے ‘لہٰذا شراب کے پرمٹ جاری کرنے کے لیے ان مذاہب کو آڑ نہ بنایا جائے‘ بطورِ حیلہ استعمال نہ کیا جائے ‘کیونکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ یہ کاروبار مسلمان سرمایہ دار کرتے ہیں ‘وہی سرمایہ لگاتے ہیں ‘ وہی اس سے نفع کماتے ہیں ‘مگر پرمٹ اپنے کسی غیرمسلم ملازم کے نام بنوادیتے ہیں اور اس کی آڑ میں کاروبار کرتے ہیں‘‘ ۔ جنابِ رمیش کمار کا کہنا یہ ہے کہ اس فریب کا پردہ چاک ہونا چاہیے اور اس مذموم کارروائی کی آڑ میں دیگر مذاہب کو بدنام نہیں کرنا چاہیے ‘ مگر اس غیر مسلم رکنِ اسمبلی کی قرار داد کو مسلمان ارکان نے پذیرائی نہ دی اور شورشرابے میں اسے غتربود کردیا گیا ۔ایک ایسا نظامِ حکومت کہ جس میں پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ‘ اُس میں اس طرح کی شرمناک حرکات پر یہی کہا جاسکتا ہے: ”سنتا جا ‘شرماتا جا‘‘۔وزیر اعظم جناب عمران خان کو اس بات کی سنجیدگی سے تحقیق کرنی چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا ؟۔ 

کیسے کیسے لوگ:کسی شاعر نے کہا ہے:

کیسے کیسے ایسے ویسے ہو گئے

ایسے ویسے کیسے کیسے ہو گئے

ہمارے ہاں کیسے کیسے لوگ اعلیٰ مناصب پر فائز ہوجاتے ہیں ‘ جسٹس (ر)جناب جاوید اقبال جوسپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں اور اب ماشاء اللہ!ادارۂ قومی احتساب کے چیئرمین کے منصب پر فائز ہیں ‘فرماتے ہیں: ”کرپشن پر سزائے موت ہو ‘ تو آبادی کم ہوجائے گی ‘‘۔اس سے بالواسطہ دنیا کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ مِن حیثُ القوم ہم کرپٹ لوگ ہیں ‘ہماری آبادی کا غالب حصہ کرپٹ عناصر پر مشتمل ہے اور اگر کرپشن کی سزا موت مقرر کردی جائے تو افزائشِ آبادی کا مسئلہ از خود حل ہوجائے گااور آبادی کنٹرول ہوجائے گی۔ الغرض ہم اپنی تحقیر وتذلیل پر لطف محسوس کرتے ہیں اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان نے انہیں اپنے چیمبر میں بلا کر کہا: ”آپ لوگ محض درخواست ملنے پر لوگوں کی تذلیل کرتے ہیں اور بلیک میل کرتے ہیں ‘‘‘یہ کام تو مسلسل ہورہا ہے اور اب اعلیٰ مناصب پر فائز شخصیات کو میڈیا میں تشہیر کا شوق بھی نفسیاتی عارضے کی صورت اختیار کرچکا ہے ‘اُن کی خواہش ہے کہ وہ روز میڈیا پر اپنے فرموداتِ عالیہ جاری کرتے ہوئے نظر آئیں۔ہماری رائے میں ان کے مندرجہ بالا ریمارکس پوری قوم کی توہین ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت بدعنوان ہے ‘کرپٹ ہے اور سزائے موت کی حق دار ہے اور انہوں نے آبادی کنٹرول کرنے کا یہ نسخہ تجویز کیا ہے کہ کرپشن کی سزا موت قرار دی جائے ‘ کیاوہ سپریم کورٹ کی سطح پر ایسا ہی عدل تقسیم کرتے رہے ہیں ۔وہ اگر بہادر اور جری انسان ہوتے تو ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کردیتے ‘ جس طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کردیا تھا‘‘۔ 

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی فرماتے ہیں: ” مشرقی پاکستان کرپشن کی وجہ سے ٹوٹا تھا‘‘۔اُن کی خدمت ِ عالیہ میں گزارش ہے: ”جنابِ والا! کرپشن کے خلاف جہاد کیجیے ‘ تحریک جاری رکھیے ‘ یہ آپ کی پارٹی کا منشور ہے ‘ لیکن خدارا! تاریخ کو بلا کم وکاست بیان کیجیے ‘ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کا سبب وہاں کے لوگوں کی جمہوری اور معاشی حقوق سے محرومی تھی ‘ اقتدار کی مرکزیت کے رجحان نے اُن میں احساسِ محرومی پیدا کردیا تھا ‘ جس کے نتیجے میں پاکستان کو ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات میں کرپشن کا ذکر نہیں تھا اور نہ اُس دور تک ہمارے ہاں کرپشن موجودہ سطح پر تھی ‘بلکہ اب پلٹ کر دیکھتے ہیں تو معیار کافی بہتر تھا ‘یہی وجہ ہے کہ جنابِ عمران خان ہمیشہ اُس دور کا حوالہ دیتے ہیں‘ ہر غزل میں کرپشن کا مصرع فِٹ کرکے تاریخ کو مسخ نہیں کرنا چاہیے ‘ بلکہ تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور آسمانوں اور زمینوں میں کتنی ہی ایسی نشانیاں ہیں ‘ جن سے لوگ منہ پھیرتے ہوئے گزر جاتے ہیں ‘ (یوسف:105)‘‘۔آپ کا تعلق تو کراچی سے ہے اور کراچی میں آج بھی ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے ‘جو سقوطِ مشرقی پاکستان کے نتیجے میں دُہری ہجرت کے کرب سے گزرے ہیں ‘ ہم تو ایسی قوم ہیں کہ پاکستان اور پاک فوج کا ساتھ دینے کے جرم میں بنگلہ دیش میں جن معمّر لوگوں کو پھانسی چڑھایا گیا‘ ہم سرکاری سطح پر اس پر کوئی مؤثر احتجاج بھی نہیں کرسکے ‘‘۔ 

نیشنل کریکولم کونسل:9جنوری کو وفاقی وزارتِ تعلیم کے دفتر میں جنابِ شفقت محمود کے زیر صدارت نیشنل کریکولم کونسل کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا‘ اس میں جن امور پر اتفاقِ رائے تھا‘ وہ یہ ہیں :(۱) ریاست کی ذمے داری ہے کہ یکساں نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم رائج کرے‘ تاکہ معاشرے کی مڈل کلاس اور زیریں طبقات کے بچوں کو تعلیم وترقی کے یکساں مواقع ملیں اور محض غربت کے سبب قوم کا جوہرِ قابل رُلتا نہ پھرے(۲) تسلیم کیا گیا کہ حکومت کے زیر انتظام نظامِ تعلیم اور پرائیویٹ سیکٹر میں نظامِ تعلیم میں بہت بڑا تفاوُت ہے اور ملک میں تعلیم سب سے کامیاب کاروبار بن کر رہ گئی ہے ‘ متفرق نصابوں سے ایک ذہنی ساخت کی قوم تیار نہیں ہوسکتی ۔ یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ایک ہی جَست میں تمام منزلیں طے نہیں ہوسکتیں ‘ لیکن اگر فوری شروعات کردی جائیں تو پانچ دس سال میں مثبت آثار نظر آئیں گے (۳) میں نے دینی مدارس وجامعات کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہا:اگر قوم ایک نصاب کی منزل کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو دینی مدارس اُس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں ‘ کیونکہ ہمارے ہاں میٹرک سے ہی فیکلٹی متعین ہوجاتی ہے ‘ اصل مسئلہ وہ بنیادی مضامین ہیں ‘جو ہرفیکلٹی کا جزوِ لازم ہیں ‘ اُن کیلئے ہم وفاقی حکومت کے طے کردہ مضامین اور نصابی کتب کو بتدریج اپنانے کیلئے تیار ہوں گے (۴) ہر مجلس میں دینی مدارس وجامعات کے طلبا کے روزگار کا تذکرہ کیا جاتا ہے ‘ جبکہ ہمارے ملک میں کوئی بھی اعلیٰ سے اعلیٰ ڈگری لازمی روزگار کی ضمانت نہیں ہے ‘ خود وزیر تعلیم نے کہا: پی ایچ ڈی کی شہادات کے حامل مارے مارے پھر رہے ہیں‘ لہٰذا دینی طلبا وطالبات کا ذکر باندازِ تحقیر نہ کیا جائے‘ بلکہ بحیثیت ِمجموعی یکساں نصابِ تعلیم ‘نظامِ تعلیم اور معیارِ تعلیم کی بات کی جائے‘ تو میری نظر میں سب کیلئے قابلِ قبول ہوگی۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 198

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ

ترجمہ:

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے (آل عمران : ١٩٨) 

اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس کے قرب کا جنت سے افضل ہونا :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق وعید کا ذکر کیا تھا ‘ اور اب اس آیت میں مسلمانوں کے متعلق وعد اور بشارت کا ذکر فرمایا ہے ‘ یہ بشارت متقین کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اللہ سے ڈرنے والا ‘ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل کرے گا اور جن کاموں سے اس نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہے گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے جنت کے متعلق فرمایا ہے یہ اس کی مہمانی ہے اس کی وضاحت اس حدیث میں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن سلام کو یہ خبر ملی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور کہا میں آپ سے تین سوال کروں گا جن کے جواب کو نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا (الی قولہ) اہل جنت ‘ جنت میں سب سے پہلے کیا کھائیں گے ؟ آپ نے فرمایا اہل جنت جس چیز کو سب سے پہلے کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا ٹکڑا ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث ٤٤٨٠) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن یہ زمین روٹی کی طرح ہوجائے گی ‘ اللہ اہل جنت کی مہمانی کے لیے اپنے ہاتھ سے اس زمین کو الٹ پلٹ دے گا ‘ جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے ‘ پھر ایک یہودی آیا اور کہنے لگا رحمان آپ پر برکتیں نازل فرمائے کیا میں آپ کو یہ بتاؤں کہ قیامت کے دن اہل جنت کی کس چیز سے مہمانی ہوگی ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! اس نے کہا زمین تو ایک روٹی کی طرح ہوجائے گی جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ‘ اس نے کہا کیا میں آپ کو اس کے سالن کی خبر نہ دوں آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! اس نے کہا بالام اور نون ‘ صحابہ نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ اس نے کہا بیل اور مچھلی جن کی کلیجی کے ایک ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھا سکیں گے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے “ اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ دنیا میں نیک لوگوں کے پاس جو نعمتیں تھیں یاد نیا میں کافروں کے پاس جو نعمتیں تھیں ‘ اس کے مقابلہ میں اللہ کے پاس جو اجر وثواب ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان خیال آیا ہے اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ 

(آیت) ” فلا تعلم نفس ما خفی لھم من قرۃ اعین “۔ (الم السجدۃ : ١٧) 

ترجمہ : سو کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے کیا نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧٤٩٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٢٤) 

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٢٥٠‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٤٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٣٣٠‘ سنن دارمی : رقم الحدیث : ٢٨٢٣‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٤٨٣‘ ٤٨٢‘ ٤٣٨‘ ٣١٥‘ ج ٣ ص ٤٣٤‘ ٤٣٣‘ ١٤١‘ ج ٥ ص ٣٣٩‘ ٣٣٨‘ ٣٣٠) 

اس آیت کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متقین کے لیے جنت اور اس میں ان کی مہمانی تیار کر رکھی ہے اور جو اللہ کے پاس اجر ہے وہ جنت اور اس کی مہمانی سے بہتر ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب اور اس کا دیدار اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے ‘ لیکن یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ جو مسلمان دنیا میں ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کام دوزخ سے پناہ مانگنا اور جنت کو طلب کرنا بھی ہے ان ہی کو اللہ کی رضا اور اس کا دیدار نصیب ہوگا اور جو لوگ جنت کو معمولی اور اپنے مقام سے کمتر خیال کرتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں کیونکہ وہ اس چیز کو معمولی اور گھٹیا کہہ رہے ہیں جس کی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت زیادہ تعریف فرمائی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 198

مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ثُمَّ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ‌ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِهَادُ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 197

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ثُمَّ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ‌ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِهَادُ

ترجمہ:

یہ (حیات فانی کا) قلیل سامان ہے پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 197

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِى الۡبِلَادِؕ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 196

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِى الۡبِلَادِؕ

ترجمہ:

(اے مخاطب) کافروں کا شہروں میں (خوش حالی سے) گھومنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے

تفسیر:

غرور کا معنی اور شان نزول : 

انسان کسی چیز کو بہ ظاہر اچھا گمان کرے اور تحقیق وتفتیش کے بعد وہ چیز اس کے بالکل برعکس ہو تو اس کو غرور کہتے ہیں اس آیت میں بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے کہ آپ کفار کی خوشحالی اور ان کے عیش وطرب سے دھوکا نہ کھائیں لیکن اس سے مراد عام مسلمان یا مخاطب ہیں۔ امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ خدا کی قسم اللہ کے نبی نے کفار سے کبھی دھوکا نہیں کھایا حتی کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٤٥‘ مطبوعہ بیروت) 

کفار کے لیے دنیا میں عیش اور مسلمانوں کے لیے تنگی کے متعلق احادیث : 

امام بخاری ایک طویل حدیث کے ضمن میں حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ‘ آپ کے اور چٹائی کے درمیان اور کوئی چیز نہیں تھی ‘ اور آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ ہتھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور آپ کے پیروں کے پاس ایک درخت کے پتوں کا ڈھیر تھا ‘ اور آپ کے پاس کچی (بغیر رنگی ہوئی) کھالیں لٹکی ہوئی تھیں اور میں نے دیکھا کہ چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں گڑ گئے تھے ‘ میں رونے لگا آپ نے فرمایا تم کس وجہ سے رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! بیشک قیصر و کسری کس قدر عیش و آرام میں ہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ! آپ نے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو ! (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٩١٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٧٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٩٥٣‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤١٨٨‘ المستدرک ج ٤ ص ١٠٤‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ١٤٤٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٣٩) 

ایک اور حدیث میں روایت کرتے ہیں : 

میں نے نظر اٹھا کر گھر میں دیکھا تو خدا کی قسم مجھے تین کچی کھالوں کے سو اور کچھ نظر نہیں آیا ‘ میں نے عرض کیا آپ دعا کیجئے اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر وسعت کرے ‘ کیونکہ فارس اور روم پر وسعت کی گئی اور ان کو دنیا دی گئی حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے آپ تکیہ لگائے بیٹھے تھے ‘ آپ نے فرمایا اے ابن الخطاب کیا تم کو شک ہے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی اچھی چیزیں دنیا ہی میں دے دی گئی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے لیے استغفار کیجئے (صحیح البخاری ج ٣‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٨) 

امام ابورحاتم محمد بن حبان السبی المتوفی ٣٥٤ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چارپائی پر سیاہ چادر پڑھی ہوئی تھی ‘ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر آئے تو نبی کریم اس پر لیٹے ہوئے تھے ‘ جب آپ نے دیکھا تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ‘ انہوں نے دیکھا کہ چارپائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نقش ہوگئے تھے ‘ حضرت ابوبکر اور عمر (رض) نے کا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی چارپائی اور پستر کی سختی سے آپ کو کس قدر تکلیف پہنچتی ہے اور یہ قیصر اور کسری ریشم اور دیباج کے بستروں پر سوتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کہو کسری اور قیصر کے بستر دوزخ میں ہیں اور میرا یہ بستر اور میری چارپائی کا انجام جنت ہے۔ (صحیح ابن حبان : ٧٠٤) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر دنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ بھی نہ عطا فرماتا۔ (الجامع الصحیح رقم الحدیث : ٢٣٢٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١١٢٠) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ کے پستر پر ایک مڑی ہوئی چادر دیکھی اس نے حضرت عائشہ (رض) کے پاس ایک گدا بھیجا جس میں اون بھرا ہوا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں انصاری عورت میرے پاس آئی تھی اس نے آپ کا بستر دیکھا تو وہ گئی اور اس نے یہ بستر بھیج دیا ‘ آپ نے فرمایا : اے عائشہ اس کو واپس کردو ‘ خدا کی قسم ! اگر میں چاہوں تو اللہ میرے ساتھ سونے اور چاندی کے پہاڑوں کو روانہ کر دے (شعب الایمان رقم الحدیث : ١٤٦٨‘ دلائل النبوت ج ١ ص ٣٤٥) 

اس حدیث کی سندضعیف ہے ‘ لیکن اس سے بہرحال یہ معلوم ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فقر اختیاری تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کسی مومن پر ظلم نہیں کرتا ‘ اس کی نیکی کا صلہ دنیا میں دے دیا جاتا ہے اور اس کی پوری جزاء اس کو آخرت میں دی جائے گی اور کافر نے دنیا میں اللہ کے لیے جو نیکیاں کی ہیں اس کی پوری جزا دنیا میں دے دی جاتی ہے حتی کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں ہوگی جس کی جزا دی جائے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٠٨) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے ‘ امام ابو عیسیٰ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے بھی روایت ہے۔ (الجامع الصحیح ‘ رقم الحدیث : ٢٣٢٤‘ مسند البرار “ رقم الحدیث : ٣٦٤٥‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٦١٨٣‘ ٦٠٨٧‘ المستدرک ج ٣ ص ٦٠٤)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 196