أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِى الۡبِلَادِؕ

ترجمہ:

(اے مخاطب) کافروں کا شہروں میں (خوش حالی سے) گھومنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے

تفسیر:

غرور کا معنی اور شان نزول : 

انسان کسی چیز کو بہ ظاہر اچھا گمان کرے اور تحقیق وتفتیش کے بعد وہ چیز اس کے بالکل برعکس ہو تو اس کو غرور کہتے ہیں اس آیت میں بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے کہ آپ کفار کی خوشحالی اور ان کے عیش وطرب سے دھوکا نہ کھائیں لیکن اس سے مراد عام مسلمان یا مخاطب ہیں۔ امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ خدا کی قسم اللہ کے نبی نے کفار سے کبھی دھوکا نہیں کھایا حتی کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٤٥‘ مطبوعہ بیروت) 

کفار کے لیے دنیا میں عیش اور مسلمانوں کے لیے تنگی کے متعلق احادیث : 

امام بخاری ایک طویل حدیث کے ضمن میں حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ‘ آپ کے اور چٹائی کے درمیان اور کوئی چیز نہیں تھی ‘ اور آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ ہتھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور آپ کے پیروں کے پاس ایک درخت کے پتوں کا ڈھیر تھا ‘ اور آپ کے پاس کچی (بغیر رنگی ہوئی) کھالیں لٹکی ہوئی تھیں اور میں نے دیکھا کہ چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں گڑ گئے تھے ‘ میں رونے لگا آپ نے فرمایا تم کس وجہ سے رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! بیشک قیصر و کسری کس قدر عیش و آرام میں ہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ! آپ نے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو ! (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٩١٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٧٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٩٥٣‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤١٨٨‘ المستدرک ج ٤ ص ١٠٤‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ١٤٤٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٣٩) 

ایک اور حدیث میں روایت کرتے ہیں : 

میں نے نظر اٹھا کر گھر میں دیکھا تو خدا کی قسم مجھے تین کچی کھالوں کے سو اور کچھ نظر نہیں آیا ‘ میں نے عرض کیا آپ دعا کیجئے اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر وسعت کرے ‘ کیونکہ فارس اور روم پر وسعت کی گئی اور ان کو دنیا دی گئی حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے آپ تکیہ لگائے بیٹھے تھے ‘ آپ نے فرمایا اے ابن الخطاب کیا تم کو شک ہے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی اچھی چیزیں دنیا ہی میں دے دی گئی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے لیے استغفار کیجئے (صحیح البخاری ج ٣‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٨) 

امام ابورحاتم محمد بن حبان السبی المتوفی ٣٥٤ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چارپائی پر سیاہ چادر پڑھی ہوئی تھی ‘ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر آئے تو نبی کریم اس پر لیٹے ہوئے تھے ‘ جب آپ نے دیکھا تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ‘ انہوں نے دیکھا کہ چارپائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نقش ہوگئے تھے ‘ حضرت ابوبکر اور عمر (رض) نے کا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی چارپائی اور پستر کی سختی سے آپ کو کس قدر تکلیف پہنچتی ہے اور یہ قیصر اور کسری ریشم اور دیباج کے بستروں پر سوتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کہو کسری اور قیصر کے بستر دوزخ میں ہیں اور میرا یہ بستر اور میری چارپائی کا انجام جنت ہے۔ (صحیح ابن حبان : ٧٠٤) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر دنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ بھی نہ عطا فرماتا۔ (الجامع الصحیح رقم الحدیث : ٢٣٢٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١١٢٠) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ کے پستر پر ایک مڑی ہوئی چادر دیکھی اس نے حضرت عائشہ (رض) کے پاس ایک گدا بھیجا جس میں اون بھرا ہوا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں انصاری عورت میرے پاس آئی تھی اس نے آپ کا بستر دیکھا تو وہ گئی اور اس نے یہ بستر بھیج دیا ‘ آپ نے فرمایا : اے عائشہ اس کو واپس کردو ‘ خدا کی قسم ! اگر میں چاہوں تو اللہ میرے ساتھ سونے اور چاندی کے پہاڑوں کو روانہ کر دے (شعب الایمان رقم الحدیث : ١٤٦٨‘ دلائل النبوت ج ١ ص ٣٤٥) 

اس حدیث کی سندضعیف ہے ‘ لیکن اس سے بہرحال یہ معلوم ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فقر اختیاری تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کسی مومن پر ظلم نہیں کرتا ‘ اس کی نیکی کا صلہ دنیا میں دے دیا جاتا ہے اور اس کی پوری جزاء اس کو آخرت میں دی جائے گی اور کافر نے دنیا میں اللہ کے لیے جو نیکیاں کی ہیں اس کی پوری جزا دنیا میں دے دی جاتی ہے حتی کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں ہوگی جس کی جزا دی جائے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٠٨) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے ‘ امام ابو عیسیٰ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے بھی روایت ہے۔ (الجامع الصحیح ‘ رقم الحدیث : ٢٣٢٤‘ مسند البرار “ رقم الحدیث : ٣٦٤٥‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٦١٨٣‘ ٦٠٨٧‘ المستدرک ج ٣ ص ٦٠٤)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 196