أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ

ترجمہ:

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے (آل عمران : ١٩٨) 

اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس کے قرب کا جنت سے افضل ہونا :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق وعید کا ذکر کیا تھا ‘ اور اب اس آیت میں مسلمانوں کے متعلق وعد اور بشارت کا ذکر فرمایا ہے ‘ یہ بشارت متقین کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اللہ سے ڈرنے والا ‘ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل کرے گا اور جن کاموں سے اس نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہے گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے جنت کے متعلق فرمایا ہے یہ اس کی مہمانی ہے اس کی وضاحت اس حدیث میں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن سلام کو یہ خبر ملی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور کہا میں آپ سے تین سوال کروں گا جن کے جواب کو نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا (الی قولہ) اہل جنت ‘ جنت میں سب سے پہلے کیا کھائیں گے ؟ آپ نے فرمایا اہل جنت جس چیز کو سب سے پہلے کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا ٹکڑا ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث ٤٤٨٠) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن یہ زمین روٹی کی طرح ہوجائے گی ‘ اللہ اہل جنت کی مہمانی کے لیے اپنے ہاتھ سے اس زمین کو الٹ پلٹ دے گا ‘ جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے ‘ پھر ایک یہودی آیا اور کہنے لگا رحمان آپ پر برکتیں نازل فرمائے کیا میں آپ کو یہ بتاؤں کہ قیامت کے دن اہل جنت کی کس چیز سے مہمانی ہوگی ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! اس نے کہا زمین تو ایک روٹی کی طرح ہوجائے گی جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ‘ اس نے کہا کیا میں آپ کو اس کے سالن کی خبر نہ دوں آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! اس نے کہا بالام اور نون ‘ صحابہ نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ اس نے کہا بیل اور مچھلی جن کی کلیجی کے ایک ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھا سکیں گے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے “ اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ دنیا میں نیک لوگوں کے پاس جو نعمتیں تھیں یاد نیا میں کافروں کے پاس جو نعمتیں تھیں ‘ اس کے مقابلہ میں اللہ کے پاس جو اجر وثواب ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان خیال آیا ہے اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ 

(آیت) ” فلا تعلم نفس ما خفی لھم من قرۃ اعین “۔ (الم السجدۃ : ١٧) 

ترجمہ : سو کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے کیا نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧٤٩٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٢٤) 

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٢٥٠‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٤٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٣٣٠‘ سنن دارمی : رقم الحدیث : ٢٨٢٣‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٤٨٣‘ ٤٨٢‘ ٤٣٨‘ ٣١٥‘ ج ٣ ص ٤٣٤‘ ٤٣٣‘ ١٤١‘ ج ٥ ص ٣٣٩‘ ٣٣٨‘ ٣٣٠) 

اس آیت کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متقین کے لیے جنت اور اس میں ان کی مہمانی تیار کر رکھی ہے اور جو اللہ کے پاس اجر ہے وہ جنت اور اس کی مہمانی سے بہتر ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب اور اس کا دیدار اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے ‘ لیکن یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ جو مسلمان دنیا میں ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کام دوزخ سے پناہ مانگنا اور جنت کو طلب کرنا بھی ہے ان ہی کو اللہ کی رضا اور اس کا دیدار نصیب ہوگا اور جو لوگ جنت کو معمولی اور اپنے مقام سے کمتر خیال کرتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں کیونکہ وہ اس چیز کو معمولی اور گھٹیا کہہ رہے ہیں جس کی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت زیادہ تعریف فرمائی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 198