درس 018: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 018: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خُلِقَ الْمَاءُ طَهُورًا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ إلَّا مَا غَيَّرَ لَوْنَهُ، أَوْ طَعْمَهُ أَوْ رِيحَهُ»،

وَالطَّهُورُ هُوَ الطَّاهِرُ فِي نَفْسِهِ الْمُطَهِّرُ لِغَيْرِهِ.

نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: پانی کو پاک کرنے والا بنایا گیا ہے لہذا اسے کوئی شے بھی ناپاک نہیں کرسکتی جب تک اس کا رنگ، ذائقہ یا بو تبدیل نہ ہوجائے۔

اور پاک کرنے والا وہی ہوتا ہے جو خود پاک ہو اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

وَقَالَ اللهُ تَعَالَى {وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا} [الفرقان: 48]

وَقَالَ اللهُ تَعَالَى {وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ} [الأنفال: 11].

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا پاک کرنے والا۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

ہم نے گذشتہ درس میں *پانی* سے متعلق *طاہر و مطہر* یعنی پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے کہ تناظر میں اصولی گفتگو کی۔

آپ نے ملاحظہ کیا جتنی بھی اقسام اور اسکے متعلقہ مسائل ہیں۔۔۔ پانی کی پیدائشی ذات و صفت *طاہر و مطہر* کے گرد ہی گھومتے ہیں۔۔

بس یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کون سا پانی اپنی ذات یا صفت پر باقی رہا اور کس میں تبدیلی واقع ہوئی۔

ہاں کچھ پانی ایسے بھی ہیں جن میں ذات یا صفت تو تبدیل نہیں ہوتی مگر کسی دوسرے عارضے کی وجہ اس کا استعمال مکروہ وغیرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔۔ مثلا

*آبِ زم زم:* اس سے وضو و غسل تو جائز ہے، مگر گندگی دور کرنا یا استنجاء کرنا مکروہ ہے اسلئے کہ یہ اس مبارک پانی کی تعظیم کے خلاف ہے۔

*آبِ شمس:* یعنی سورج کی روشنی میں گرم ہونے والا پانی۔۔ چونکہ یہ جسمانی صحت کے لئے نقصان دہ ہے اسلئے مکروہ ہے۔

*عورت/مرد کا جوٹھا پانی:* بسبب شہوت پینا مکروہ ہے۔

*مختلف جانوروں کا جوٹھا پانی:* مختلف وجوہات کے سبب مکروہ ہے۔

ہماری یہاں تک کی گفتگو ذہن میں رکھیں۔۔۔

پانی سے متعلق اگلے سارے دروس میں گذشتہ درس نمبر 16 اور 17 کا حوالہ دیا جاتا رہے گا۔

اور ان شاء اللہ الرحمن۔۔ پانی کے مسائل کے اختتام پر آپ کافی کچھ جان چکے ہوں گے اور اپنے کنسیپٹ کلئیر کرچکے ہوں گے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

پانچ لاکھ درہم کادعویٰ

حکایت نمبر132: پانچ لاکھ درہم کادعویٰ ۱؎

حضرت سیدنا مصعب بن عبد اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کا دورِ خلافت تھا، حضرت سیدنا عبید بن ظبیان علیہ رحمۃ اللہ المنان رِقّہ(یعنی شہر) کے قاضی تھے اور اس شہر کا امیر (یعنی گورنر) عیسیٰ بن جعفر عبا سی تھا، حضرت سیدنا عبید بن ظبیان علیہ رحمۃ اللہ المنان ایک با ہمت، عادل اور رحم دل قاضی تھے، کسی پر ظلم برداشت نہ کرتے اور حق دار کو حق دلوا کر ہی دم لیتے۔ 

ایک مرتبہ ان کی عدالت میں ایک شخص آیا اور اس نے گورنر ”عیسیٰ بن جعفر” کے خلاف دعوی کیا کہ اس نے مجھ سے پانچ لاکھ درہم لئے تھے اور اب دینے سے انکار کر رہا ہے، خدارا! مجھے میرا حق دلوایا جائے،جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کی بات سنی تو فوراً کاتب کو بلایا اور فرمایا:” امیرِشہر کے نام پیغام لکھو، کاتب نے پیغام لکھا، جس کا مضمون کچھ اس طرح تھا: 

”اے ہمارے امیر! اللہ عزوجل آپ کو سلامت رکھے، اپنی نعمتیں آپ پر نچھاور فرمائے ، آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔

آج میرے پاس ایک شخص نے دعوی درج کرایا ہے کہ” امیرِ شہر نے مجھ سے پانچ لاکھ درہم لے کر واپس نہیں کئے لہٰذا مجھے میرا حق دلوایا جائے۔” اے ہمارے امیر!اب شریعت کا حکم یہ ہے کہ یا تو آپ خود تشریف لائیں یا اپنا کوئی وکیل بھیجیں تاکہ فریقین کی گفتگو سن کر مَیں فیصلہ کر سکوں اور حق واضح ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔والسّلام
قاضی صاحب نے خط پر مہر ثبت فرمائی اور ایک شخص کو وہ خط دے کر امیر(یعنی گورنر) کے پاس بھیج دیا،جب قاصد نے جاکر بتایا کہ قاضی کی طرف سے آپ کو خط آیا ہے تو گورنر نے اس خط کو کوئی اہمیت نہ دی اور اپنے خادم کو بلا کر وہ خط اس کے حوالے کر دیا ۔جب قاصد نے دیکھا کہ قاضی کے خط کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی تو وہ واپس لوٹ آیا اور سارا واقعہ قاضی صاحب کو بتایا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوبارہ خیر خواہی کے جذبے کے تحت خط لکھااور اس میں بھی یہی کہا :”آپ کے خلاف دعوی کیا گیا ہے لہٰذاآپ یا تو خود عدالت میں تشریف لائیں یا اپنے کسی وکیل کو بھیج دیں تاکہ شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے، اللہ عزوجل آپ کو سلامت رکھے ۔پھر آپ نے خط پر مہر لگائی اور دوقاصدوں کو خط دے کر عیسیٰ بن جعفر کے پاس بھیجا ۔جب وہ دونوں قاصد اس کے پاس پہنچے تو اس نے خط دیکھ کر بہت غیض وغضب کااظہارکیا،خط کو زمین پرپھینک دیااورقاصدوں کو بھی ڈانٹا۔چنانچہ دونوں قاصد شرمندہ ہو کرواپس قاضی عبید بن ظبیان علیہ رحمۃ اللہ الحنّان کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ کہہ سنایا۔
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے قاصدوں کی بات سُن کر تیسری مرتبہ پھر خط بھیجا اور اس میں لکھا:”اے ہمارے امیر! اللہ عزوجل آپ کی حفاظت فرمائے آپ کو نعمتوں سے مالامال کرے۔آپ کے خلاف دعوی دائر کیاگیا ہے ۔باربارآپ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ یاتوآپ خود عدالت میں آئیں یا اپنے کسی وکیل کو بھیجیں تاکہ فیصلہ کیا جاسکے۔ اگر اس مرتبہ بھی آپ یاآپ کا وکیل نہ آیا تو میں یہ معاملہ خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کی خدمت میں پیش کروں گا لہٰذا آپ جلدازجلد اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔والسّلام
پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دو آدمیوں کو وہ خط دے کر عیسیٰ بن جعفر کے پاس بھیجا،جب دونو ں قاصد دربار میں پہنچے تو انہیں باہر ہی روک دیا گیا۔کچھ دیر بعد عیسیٰ بن جعفر باہر آیا تو قاصدوں نے اسے قاضی صاحب کا خط دیا۔اس نے خط کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور اسے پڑھنا بھی گوارانہ کیا اور پڑھے بغیرپھینک دیا۔قاصد بیچارے شرمندہ ہو کر قاضی صاحب کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ سنایا، جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ دیکھا کہ عیسیٰ بن جعفر اپنے عہدے اور طاقت کے گھمنڈ میں آکر قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے اورمیں حق دار کو اس کا حق نہ دلوا سکاتو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اسی سوچ کی بناء پر اپنے تمام کاغذات وغیرہ ایک تھیلے میں بھرے اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے اور عدالت میں آنا چھوڑ دیا۔
جب معاملہ طول پکڑگیا اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ عدالت میں نہ آئے تو لوگوں نے خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کو بتایاکہ ہمارے قاضی صاحب دل برداشتہ ہو کر عہدئہ قضاء سے برطرف ہو گئے ہیں اورانہوں نے عدالت میں آنا چھوڑ دیا ہے۔یہ سن کرخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجید نے فوراًآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کواپنے پاس بلوایا۔جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وہاں پہنچے تو خلیفہ نے پوچھا:” بتاؤ! تم دل برداشتہ کیوں ہوگئے اور کیوں اس عہدہ سے برطرف ہونا چاہتے ہو؟” حضرت سیدنا عبید بن ظبیان علیہ رحمۃاللہ المنان نے سارا واقعہ کہہ سنایا کہ میں نے کئی مرتبہ انتہائی نرمی اورباادب طریقے سے عیسیٰ بن جعفر کو پیغام بھجوایا لیکن اس نے بالکل توجہ نہ دی ۔خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے جب قاضی صا حب کی یہ درد بھری داستان سنی تواسی وقت ابراہیم بن اسحاق سے فرمایا:” فوراً عیسیٰ بن جعفر کی رہائش گاہ پر جاؤ اور اس کے گھر کے تمام راستے بند کر دو کوئی شخص بھی نہ تو باہر آسکے اور نہ ہی اندر جا سکے۔ جب تک عیسیٰ بن جعفر اس مظلوم حق دار کا حق ادا نہیں کریگا وہ اسی طرح نظر بند رہے گا۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ اسے اس مصیبت سے آزادی مل جائے تو وہ خود چل کر قاضی کی عدالت میں جائے یا پھر اپنے کسی وکیل کو بھیج دے تاکہ عدالت میں شرعی فیصلہ ہو سکے اور حق واضح ہو جائے۔
حکم پاتے ہی ابراہیم بن اسحاق نے(50) پچاس شہسواروں کو لے کر عیسیٰ بن جعفر کی رہائش گاہ کامحاصرہ کر لیا ۔تمام راستے بندکر دیئے، کسی کوبھی آنے جانے کی اجازت نہ دی گئی ۔
جب عیسیٰ بن جعفر نے یہ حالت دیکھی تو وہ بہت حیران ہوا۔اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ مجھے اس طرح کیوں قید کیا جا رہا ہے؟شاید ہارون الرشید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مجھے قتل کر واناچاہتا ہے لیکن کیو ں؟ آخر میں نے ایسا کون سا جرم کیا ہے؟عیسیٰ بن جعفر بہت پریشان تھا،دوسری طرف اہل خانہ پریشان تھے، وہ چیخ وپکار کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ عیسیٰ بن جعفر نے ان کو خاموش کرایااور ابراہیم بن اسحاق کے ساتھ آئے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک کو بلایااور اس سے کہا:” ابراہیم بن اسحاق کو پیغام پہنچا دوکہ وہ مجھ سے ملاقات کرے میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔
جب ابراہیم بن اسحاق اس کے پاس آیا تواس نے پوچھا:”خلیفہ نے ہمیں اس طرح قید کیوں کروادیا ہے۔
اس نے بتايا:” یہ سب قاضی عبیداللہ بن ظبیان (علیہ رحمۃ اللہ المنان) کی وجہ سے کیا گیا ہے انہوں نے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے،اور ایک شخص پرظلم کیا ہے۔”جب عیسیٰ بن جعفر کو سارا معاملہ معلوم ہو گیا تواسے احساس ہو گیا کہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے ،میں نے طاقت وعہدے کے نشے میں ایک مظلوم کی بددعا لی جس کی وجہ سے مجھے ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا،واقعی ظلم کا انجام برا ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد ضرور کی جاتی ہے مجھے میرے جرم کی سزا مل گئی ہے۔پھر عیسیٰ بن جعفر نے اس شخص کو بلوایا جس سے پانچ لاکھ درہم لئے تھے، اسے وہ درہم واپس کئے، اس سے معذرت کی اورآئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا،اب معاملہ بالکل ختم ہو چکا تھا۔ جب خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کو اطلاع ملی کہ عیسیٰ بن جعفر نے مظلوم کا حق ادا کر دیا ہے اور اس سے معافی بھی مانگ لی ہے تواس نے حکم دیا کہ اب محاصرہ ختم کر دیا جائے اور تمام راستے کھول دےئے جائیں۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے پیغام بھجوایا کہ کبھی بھی کسی پر ظلم نہ کرنا۔ یہ عہدہ ومنصب سب عارضی چیزیں ہیں، ان کے بَل بوتے پر کسی کو تنگ کرنا بہادری نہیں۔ ہمیشہ خوف خدا عزوجل کو پیش نظر رکھو، انصاف کا دامن کبھی نہ چھوڑو ،اللہ ربُّ العزَّت مظلوموں کو بہت جلد ان کا حق دلوا دیتا ہے۔ ا چھاہے وہ شخص جو اللہ عزوجل کی مخلوق کو خوش رکھے اور اس کی وجہ سے کسی بھی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے ۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

(سبحان اللہ عزوجل! ایسے پاکیزہ دین پر قربان جائیں جس نے ہمیں ایسے ایسے جرأت مندافراد عطا کئے جو حق کی خاطر بڑی سے بڑی طاقت سے بھی ٹکرا جاتے، کسی کی دنیاوی ہیبت وحیثیت انہیں مرعوب نہ کر سکتی تھی،وہ اس وقت تک سُکھ کا سانس نہ لیتے جب تک اہل ِحق کو اس کا حق نہ مل جائے ،انہوں نے غیرِ حق کے سامنے کبھی بھی سر نہیں جھکایا،اسلام میں ایسے ایسے حکمران بھی گزرے جنہوں نے ایک غریب مظلوم فریادی کی فریاد پر گورنروں کو پابندِ سلاسل کردیا اور جب تک حق دار کو حق نہ ملا اس وقت تک قید ہی میں رکھا،اللہ رب العزت ہمیں ایسے با ہمت وعادل حکمران اور قاضی دوبارہ عطا فرمائے جوظالموں کو ظلم کی سزا دیں اور مظلوموں اوربے بسوں کی فریاد رسی کریں ، اللہ رب العزت ہمیں اچھے قا ئدین عطا فرمائے اور ہم سے بھی اپنے دین متین کی خدمت کا کام لے لے، ہمیں خوب خوب سنتوں کی تبلیغ کی توفیق عطا فرمائے اورغیرت ایمانی سے مالامال فرمائے، ہمیں ہر حال میں حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے چاہے، اگرچہ اس معاملے میں ہمیں جان ہی کیوں نہ دینی پڑے، اللہ عزوجل ہمارا خاتمہ بالخیرفرمائے ۔اٰمین بجاہ ِالنبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

؎ غلامانِ محمد جان دینے سے نہیں ڈرتے

یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے کچھ پرواہ نہیں کرتے

۱ؔ؎:ااس حکایت کاکچھ حصہ عربی متن میں نہیں اس لئے آخری حصہ قدرے تصرف کے ساتھ علامہ محمد صالح فرفورکی کتاب من رشخات الخلود (مترجم) ص۱۴۳سے لیا گیا ہے

بندۂ مؤمن جب وضو کرنے لگے تو خطائیں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں

حدیث نمبر :285

روایت ہے عبداﷲ صنابحی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندۂ مؤمن جب وضو کرنے لگے تو خطائیں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں۲؎ اور جب ناک میں پانی لے تو خطائیں اس کے ناک سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنا منہ دھوئے خطائیں اس کے چہرے سے نکل جاتی ہیں۳؎ حتی کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے نکلتی ہیں،اور جب اپنے ہاتھ دھوئے تو خطائیں ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنے سر کا مسح کرے تو خطائیں اس کے سر سے نکل جاتی ہیں حتی کہ اس کے کانوں سے نکل جاتی ہیں۴؎ پھر جب پاؤں دھوئے تو خطائیں اس کے پاؤں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں۵؎ پھر اس کا مسجد کی طرف جانا اور نماز پڑھنا زیادتی ہوتی ہے۶؎(مالک ونسائی)

شرح

۱؎ حق یہ ہے کہ آ پ کا نام عبدالرحمن ابن عسیلہ ہے،کنیت ابوعبداﷲ،قبیلہ صنابح سے ہیں،جو قبیلہ مراد کا ایک ٹولہ ہے۔آپ تابعی ہیں صحابی نہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف میں ہجرت کرکے مدینہ پاک کی طرف چلے مقام حجفہ پہنچے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریف واقع ہوگئی،ابوبکر صدیق سے ملاقات ہوئی۔لہذا یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ صحابی کا نام رہ گیا۔

۲؎ یعنی زبان سے جو غیبت،جھوٹ وغیرہ گناہ صغیر ہوئے تھے وہ کلی کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔مؤمن کی قید اس لیے ہے کہ کافر کے وضو کی یہ تاثیر نہیں،ہاں اگر ایمان لانے کے لئے وضو کرے تو شاید مذکورہ فائدہ اسے بھی حاصل ہوجائے۔وضو کو مطلق فرمانے سے معلوم ہوا کہ ہر وضو کا یہ فائدہ ہے نماز کے لئے ہویااورعبادت کے لیے۔

۳؎ یعنی ناک میں پانی لینے کی برکت سے ناک یا دماغ کے گناہ جھڑ جاتے ہیں،جیسے ناجائز خوشبو سونگھنا اور دماغ میں گندے خیالات رکھنا۔خیال رہے کہ یہاں بھی گناہ صغائر ہی مراد ہیں اور چہرے کے دھونے سے آنکھ کے گناہ جھڑتے ہیں،جیسے ناجائزچیزوں کودیکھنایاناجائزاشارے بازیاں۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ کانوں کا شمار سر میں ہے نہ کہ چہرے میں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا،لہذا نہ تو کانوں کو چہرے کے ساتھ دھویا جائے گا اور نہ علیحدہ پانی سے اس کا مسح ہوگا بلکہ مسح سرکی تری سے ہی ان کا مسح بھی کیا جائے گا،یہی امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا مذہب ہے،یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔

۵؎ یعنی جو قدم ناجائز جگہ پر جانے میں پڑے ان کا گناہ اس کی برکت سے معاف ہوجاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ پیر کا دھونا فرض ہے نہ کہ اس کا مسح جیسا کہ روافض نے سمجھا۔

۶؎ یعنی گناہوں سے معافی تو وضو میں ہوچکی اب یہ اعمال معافی گناہ پر زائد ہیں جن سے درجے بلند ہوتے ہیں،یہاں نفل لغوی معنے میں ہے فرماتا ہے:”وَوَہَبْنَا لَہٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوۡبَ نَافِلَۃً”۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 200

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! فی نفسہ صبر کرو اور لوگوں کی زیادیتوں پر صبر کرو اور اپنے نفسوں اور اپنی سرحدوں کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! فی نفسہ صبر کرو اور لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرو اور اپنے نفسوں اور اپنی سرحدوں کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو۔ (آل عمران : ٢٠٠) 

رب آیات : 

یہ اس سورت کی آخری آیت ہے ‘ اور سورة آل عمران میں جو تمام مضامین تفصیلی طور پر ذکر کیے گئے ہیں وہ تمام مضامین اجمالی طور پر اس آیت میں ذکر کردیئے گئے ہیں ‘ اس آیت میں عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف ” اصبروا “ میں اشارہ ہے ‘ اور مخالفین کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی طرف ” صابروا “ میں اشارہ ہے اور کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف ” رابطوا “ میں اشارہ ہے اور اصول اور فروع یعنی عقائد اور اعمال سے متعلق احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی طرف ” واتقوا اللہ “ میں اشارہ ہے۔ 

صبر کا لغوی اور شرعی معنی : 

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

صبر کے معنی ہیں تنگی میں کسی چیز کو روکنا ‘ صبرت الدابۃ کا معنی ہے میں نے بغیر دانے اور چارہ کے سواری کو روک لیا ‘ اور صبر کا اصطلاحی معنی ہے عقل اور شرع کے تقاضوں کے مطابق نفس کو روکنا اور پابند کرنا ‘ صبر ایک جنس ہے اور اس کی کئی انواع ہیں ‘ مصیبت پہنچنے پر نفس کو جزع وفزع ہے اور جنگ کے وقت نفس کو بزدلی سے روکنا صبر ہے اس کو شجاعت کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں بزدلی ہے ‘ عبادات میں مشقتوں کو برداشت کرنا اور غضب ‘ شہوت اور حرص وطمع کی تحریک کے وقت اپنے نفس کو اللہ کی نافرمانی سے روکنا بھی صبر ہے اس کو اطاعت کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں فسق وفجور ہے (مفردات الفاظ القرآن ص ٢٧٣‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

صبر کے متعلق احادیث :

مصیبت کے وقت نفس کو جزع اور فزع سے روکنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عورت کے قریب سے گزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی ‘ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو اس نے کہا ایک طرف ہٹو تم کو میری طرح مصیبت نہیں پہنچی ‘ اس نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ اس کو بتایا گیا کہ یہ تو نبی کریم ہیں ‘ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازہ پر آئی وہاں اس نے کوئی دربان نہیں پایا ‘ اس نے کہا میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا جب پہلی بار صدمہ (یامصبیت نہیں پہنچی ‘ اس نے آپ کو پہنچانا نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا جب پہلی بار صدمہ (یامصیبت) پہنچے اسی وقت (نفس کو روکنا) صبر ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ج ١٢٨٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٢٦) 

اور کفار سے جنگ کے وقت اپنے نفس کو بزدلی سے روکنے کے متعلق یہ حدیث ہے 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمنوں سے جنگ کرتے ہوئے ایک دن انتظار کیا حتی کہ سورج ڈھل گیا ‘ پھر آپ نے لوگوں میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! دشمن سے مقابلہ کی توقع نہ کرو ‘ اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو ‘ اور جب تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو (یعنی بزدلی نہ کرو) اور یقین رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦‘ ٢٩٦٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧) 

عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں کہ جس دن سورج گرہن ہوا اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرائے آپ نے اپنی قمیص پہنی ‘ اور چادر اوڑھی ‘ پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں بہت لمبا قیام کیا پھر آپ نے رکوع کیا ‘ میں نے دیکھا کہ ایک عورت مجھ سے عمر میں بڑی تھی اور کھڑی ہوئی تھی اور ایک عورت میری بہ نسبت بیماری تھی وہ بھی قیام میں تھی تو میں نے دل میں کہا میں تمہاری بنسبت زیادہ حقدار ہوں کہ طول قیام کی مشقت پر صبر کروں (مسند احمد ج ٦ ص ٣٤٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

حرص ‘ غضب اور شہوت کے تقاضوں پر صبر کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سلمہ بن صخر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ظہار کیا پھر ایک رات کو اس سے جماع کرلیا ‘ صبح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ واقعہ عرض کیا : آپ نے فرمایا اے سلمہ ! تم نے یہ کام کیا ؟ میں نے دو مرتبہ عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے تقصیر ہوگئی اور میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں ‘ آپ کو جو اللہ فرمائے آپ مجھے اس کا حکم دیجئے۔ الحدیث : (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٢١٣) 

صابروا کا لغوی معنی اور صبر اور مصابرہ میں فرق : 

علامہ سید محمد مرتضیٰ حسینی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اصبروا وصابروا ورابطوا “ اس آیت میں ادنی سے اعلی کی طرف انتقال ہے ‘ صبر ‘ مصابرہ سے کم ہے اور مصابرہ ‘ مرابطہ سے کم ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اصبروا کا معنی ہے اپنے نفوس کے ساتھ صبر کرو اور صابروا کا معنی ہے مصیبتوں پر اپنے دلوں میں اللہ پر صبر کرو ‘ اور رابطوا کا معنی ہے اپنے اسرار کا اللہ کے ساتھ رابطہ رکھو اور ایک قول یہ ہے کہ اصبروا کا معنی ہے اللہ میں صبر کرو ‘ اور صابروا کا معنی ہے اللہ کے ساتھ صبر کرو اور رابطوا کا معنی ہے اللہ کے ساتھ رابطہ رکھو۔ (تاج العروس ج ٣ ص ‘ ٣٢٤ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب مشرکین کو معاف کردیتے تھے اور ان کی ایذا ارسانیوں پر صبر کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ج ٦٢٠٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے امیر کی کوئی ناگوار چیز دیکھے وہ اس پر صبر کرے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی علیحدہ ہوا ‘ اور مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤٩) 

امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں تشریف فرما تھے ‘ آپ ہنسے ‘ پھر آپ نے فرمایا کیا تم مجھ سے نہیں دریافت کرتے کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ صحابہ نے عرض کیا آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مجھے مومن کے حال پر تعجب ہوتا ہے ‘ اس کا ہرحال خیر ہے اگر اس کو کوئی پسندیدہ چیز ملے اور وہ اس پر اللہ کی حمد کرے تو یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اس کو کوئی ناگوار چیز ملے اور وہ اس پر صبر کرے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے اور مومن کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا ہرحال خیر ہو۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٩٩٩‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٣٣‘ ٣٣٢‘ ج ٦ ص ١٥١٦) 

مرابطہ کے معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

مرابطہ کی دو قسمیں ہیں ‘ مسلمانوں کی سرحدوں کی نگہبانی اور حفاظت کرنا ‘ کہیں اس پر دشمن اسلام حملہ آور نہ ہوں اور دوسری قسم ہے نفس کا بدن کی نگہبانی اور حفاظت کرنا کہیں شیطان اس سے گناہ نہ کرائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا بھی رباط ہے ‘ یہ دوسری قسم ہے اور پہلی قسم کے متعلق یہ آیت ہے : 

(آیت) ” واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل “۔ (الانفال : ٦٠) 

ترجمہ : ان کے لیے بہ قدر استطاعت ہتھیاروں کی قوت اور گھوڑے باندھنے کو فراہم کرو۔ (مفردات الفاظ القرآن ص ١٨٦ ‘۔ ١٨٥‘ مطبوعہ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

آیت مذکورہ میں رابطور کے محامل : 

ہر چند کہ انسان ضبط نفس کرکے فی نفسہ صبر کرتا ہے اور لوگوں کی ایذاء رسانی پر بھی صبر کرتا ہے لیکن پھر بھی اس میں شہوت ‘ غضب اور حرص پر مبنی برے اخلاق ہوتے ہیں اور اپنے نفس کو برے اخلاق سے پاک کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس سے جہاد کرے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور جب کبھی شہوت یا حرص کے غلبہ سے کسی گناہ کی تحریک ہو تو اپنے نفس کو اس گناہ سے آلودہ نہ ہونے دے ‘ اور یہ محاسبہ اور نگہبانی اسی وقت ہوسکتی ہے جب انسان کے دل میں اللہ کا ڈر اور خوف ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا : (آیت) ’ ورابطوا واتقوا اللہ “۔ یعنی اپنے نفس کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں کامیابی کی امید ہو۔ 

چونکہ سورة آل عمران کی زیادہ کی زیادہ تر آیتیں جنگ احد سے متعلق ہیں اور بعض مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی تھی جس کے نتیجہ میں وہ شکست سے دوچار ہوئے اور اس شکست پر آزردہ خاطر ہوئے ‘ اس لیے اس آیت کا ایک ظاہری محمل یہ ہے کہ کفار سے جنگ کے دوران ثابت قدم رہو اور جنگ میں ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرو ‘ اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو ‘ اور اس سلسلہ میں اللہ اور رسول کے احکام پر عمل کرنے میں اللہ سے ڈرتے رہو اور کسی قسم کی حکم عدولی نہ کرو تاکہ تمہیں کامیابی اور سرفرازی کی امید ہو۔ 

اس آیت کا ایک محمل یہ بھی ہے کہ نفسہ صبر کرو اور مخالفوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرو اور ہرحال میں اللہ سے رابطہ استوار رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ 

اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن اور ایک رات سرحد کی حفاظت کرنا ‘ ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے افضل ہے ‘ اور اگر وہ مرگیا تو اس کا یہ اجر جاری رہے گا اور وہ فتنہ میں ڈالنے والے سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٩١٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦٨‘ ٣٦٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٧‘ مسنداحمد ‘ ج ٢ ص ١٧٧‘ ج ٥ ص ٤٤١‘ ٤٤٠‘ تحفۃ الاشراف : رقم الحدیث : ٩١ ٤٤) 

فتنہ میں ڈالنے سے مراد یا تو منکر نکیر ہیں اور یا اس سے مراد شیطان ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل منقطع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے ثواب کو جاری رکھے گا اور جس حدیث میں ہے ابن آدم میں سے ہر ایک کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ماسوا تین کے اس کا مطلب ہے ان تین کا عمل منقطع نہیں ہوتا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل منقطع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کا ثواب جاری رکھے گا۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عثمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منی میں فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کرنا اس کے علاوہ ہزار ایام سے افضل ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٥٧‘ ٦٦‘ ٦٤‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٣١) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹا دے اور درجات کو بلند کر دے ‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا مشقت کے وقت مکمل وضو کرنا ‘ زیادہ قدم چل کر مسجد میں جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ‘ سو یہی رباط ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥١‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٥١، سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٤٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٧‘ ٢٠٢) 

گناہوں کو مٹانے سے مراد یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال سے گناہ مٹادیئے جائیں ‘ یا گناہ کے مقابلہ میں دل کے اندر جو ایک سیاہ نقطہ بن جاتا ہے اس کو مٹا دیا جائے ‘ مشقت کے وقت مکمل وضو کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب انسان کو پانی ٹھنڈا لگے یا پانی کے استعمال سے جسم میں تکلیف ہو اس وقت مکمل وضو کرے ‘ دور سے چل کر مسجد میں آنا یہ واضح ہے ‘ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اس سے یا تو مسجد میں بیٹھ کر انتظار کرنا مراد ہے تو یہ اعتکاف کے ایام میں پانچوں نمازوں سے حاصل ہوتا ہے اور عام دنوں میں آسانی سے عصر کے بعد مغرب کی نماز اور مغرب کے بعد مسجد میں عشاء کی نماز کے انتظار میں حاصل ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ انسان ایک نماز پڑھ کر اپنے گھر یا دکان یا دفتر میں آجائے لیکن اس کا دل و دماغ دوسری نماز کے انتظار میں لگا ہوا ہو ‘ تو یہ انتظار پانچویں نمازوں میں آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے ‘ اس کو آپ نے رباط فرمایا ہے کیونکہ رباط سے مراد نفس کو پابند کرنا ہے۔ خواہ سرحد کی حفاظت پر خواہ ان عبادات میں یا اس لیے کہ رباط کا معنی ہے نفس اور جسم کا عبادات کے ساتھ ارتباط رکھنا ‘ یا رباط کا معنی ہے نگہبانی کرنا خواہ سرحد کی دشمنان اسلام سے نگہبانی کی جائے خواہ وضو سے نماز کی حفاطت کی جائے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرکے اس کی نگہبانی کی جائے اور اس کو ضائع ہونے بچایا جائے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے سو یہی رباط ہے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سورة آل عمران میں جو رابطو ‘ کا لفظ ہے اس سے مراد ان عبادات کی نگہبانی کرنا ہے۔ 

آج ٢٢ صفر المظفر ١٤١٧ ھ۔ جولائی ١٩٩٦ ء بروز پیر سورة آل عمران کی تفسیر مکمل ہوگئی الہ العلمین جس طرح آپ نے آل عمران کی تفسیر مجھ سے مکمل کرائی ہے بقیہ قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں اور اس تفسیر میں مجھ کو غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھیں اور اس تفسیر تبیان القرآن کو تا روز قیامت مقبول اور اثر آفرین رکھیں اور مجھے ‘ میرے والدین ‘ میرے اساتذہ اور میرے قارئین اور محبین کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچائیں اور ان کے لیے دارین کی نعمتوں کا دروازہ کھول دیں ” واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ خیر خلقہ سیدنا محمد و علی الہ و اصحابہ وازواجہ وعلمآء ملتہ واولیآء امتہ وامتہ اجمعین “۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 200

وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 199

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ

ترجمہ:

اور بیشک بعض اہل کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور اس پر جو ان کی طرف نازل کیا گیا درآنحالیکہ ان کے دل اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ‘ وہ اللہ کی آیتوں کے بدلہ میں تھوڑی قیمت نہیں لیتے یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک بعض اہل کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں ‘ اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور اس پر جو ان کی طرف نازل ہوا اور ان کے دل اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ‘ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے (آل عمران : ١٩٩) 

شان نزول : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نجاشی اور اس کے اصحاب کے متعلق نازل ہوئی ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے اور نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔ 

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو منافقین نے اس پر طعن کیا تو یہ آیت نازل ہوئی نیز ابن جریج سے یہ بھی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب خواہ یہود ہوں یانصاری ان میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ مجاہد کی روایت زیادہ اولی ہے (جامع البیان ج ٤ ص ١٤٧۔ ١٤٦‘ مطبوعہ دار المعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

غائب میت کی نماز جنازہ پڑھنے میں مذاہب ائمہ : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی موت کی خبر دی ‘ آپ عیدگاہ کی طرف گئے مسلمانوں نے صفیں باندھیں اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٨٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٥١) 

امام ابو محمد حسین بن مسعود شافعی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

نجاشی کافر قوم کے درمیان تھا وہ مسلمان تھا اور کافروں سے اپنا ایمان چھپاتا تھا ‘ اور جس جگہ وہ تھا وہاں اس کی نماز جنازہ پڑھ کر اس کا حق ادا کرنے والا کوئی نہ تھا اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا اہتمام کیا اسی طرح جس شخص کو معلوم ہو کہ ایک مسلمان ایسی جگہ فوت ہوگیا جہاں اس کی نماز پڑھنے والا کوئی نہیں ہے تو اس پر اس شخص کی نماز جنازہ پڑھنا لازم ہے ‘ اس حدیث کے فوائد سے یہ ہے کہ غائب میت کی نماز جنازہ جائز ہے ‘ وہ لوگ قبلہ کی طرف منہ کریں اس شخص کے شہر کی طرف منہ نہ کریں اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور بعض ائمہ کا قول یہ ہے کہ غائب کی نماز جنازہ جائز نہیں ہے یہ اصحاب رائے (ائمہ احناف اور مالکیہ) کا قول ہے ان کا قول یہ ہے کہ یہ نماز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ قول ضعیف ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال کی اقتداء واجب ہے جب تک کہ تخصیص کی دلیل نہ پائی جائے اور تخصیص کا دعوی صحیح نہیں ہے کیونکہ صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز نہیں پڑھی تھی بلکہ مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اس کی نماز پڑھی تھی۔ (شرح السنہ ج ٣ ص ٢٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ )

علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحید المعروف بابن الھمام المتوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز جنازہ اس لیے پڑھی تھی کہ آپ کے سامنے اس کا تخت لایا گیا تھا ‘ حتی کہ آپ نے اس کو دیکھ لیا تھا ‘ سو یہ اس میت پر نماز تھی جس کو امام دیکھ رہا تھا ‘ اور اس کا جنازہ امام کے سامنے تھا اور مقتدیوں کے سامنے نہیں تھا اور یہ اقتداء سے مانع نہیں ہے ‘ ہرچند کہ یہ ایک احتمال ہے لیکن اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا اٹھو اس پر نماز پڑھو ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور صحابہ نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں ‘ آپ نے چار تکبیریں پڑھیں اور وہ یہ گمان نہیں کرتے تھے کہ اس کا جنازہ آپ کے سامنے تھا ‘ (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث ٣١٠٢) اس حدیث میں اشارہ ہے کہ واقع میں ان کے گمان کے خلاف تھا ‘ یا تو حضرت عمران نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن لیا تھا اور یا ان کے لیے جنازہ منکشف کردیا گیا تھا ‘ یا یہ صرف نجاشی کی خصوصیت تھی اور دوسرا کوئی اس کے ساتھ لاحق نہیں ہے جیسے حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کی شہادت دو شہادتوں کے برابر ہے ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے صحابہ کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے ‘ جیسے حضرت معاویہ بن معاویہ مزنی (رض) ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تبوک میں نازل ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! معاویہ بن معاویہ مزنی مدینہ میں فوت ہوگئے کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کے لیے زمین سمیٹ دی جائے اور آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! انہوں نے اپنے دونوں پر زمین پر زمین پر مارے تو ان کا تخت اٹھا کر آپ کے سامنے رکھ دیا گیا ‘ آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں ‘ اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ‘ پھر وہ تخت واپس ہوگیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ معاویہ نے یہ فضیلت کس وجہ سے حاصل کی۔ انہوں نے کہا وہ سورة ” قل ھو اللہ احد “۔ سے محبت رکھتے تھے اور آتے جاتے ‘ اٹھتے بیٹھتے ہرحال میں اس کو پڑھتے تھے۔ (اس حدیث کو امام طبرانی نے حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ مسند الشامبین ‘ رقم الحدیث : ٨٣١‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥٣٧‘ اور امام ابن السنی نے بھی روایت کیا ہے عمل الیوم واللیلۃ رقم الحدیث : ١٨٠) اور امام ابن سعد نے اس کو طبقات میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اور امام واقدی نے مغازی میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے فرمایا زید بن حارثہ نے جھندا لیا اور وہ لڑتے رہے حتی کہ وہ شہید ہوگئے پھر آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور وہاں دوڑ رہے ہیں ‘ پھر جعفر بن ابی طالب نے فرمایا زید بن حارثہ نے جھنڈا لیا اور وہ لڑتے رہے حتی کہ وہ شہید ہوگئے پھر آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور وہاں دوڑ رہے ہیں ‘ پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا لیا اور وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور اپنے دو پروں کے ساتھ جہاں چاہے جنت میں دوڑ رہے ہیں۔ (کتاب المغازی ج ٢ ص ٧٦٢۔ ٧٦١‘ مطبوعہ عالم الکتب بیروت)

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے خصوصیت کا دعوی اس وقت کیا ہے جب ان کا تخت لایا گیا ہو نہ وہ دکھائی دیئے گئے ہوں ‘ علاوہ ازیں مغازی میں اس کی دونوں سندیں ضعیف ہیں اور یہ حدیث مرسل ہے اور طبقات کی سند میں علاء بن یزید ضعیف ہے اور امام طبرانی کی سند میں بقیہ بن ولید معنعن ہے ‘ پھر خصوصیت کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں اور نجاشی کے سوا اور کسی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ‘ اور ان کے متعلق یہ تصریح ہے کہ ان کا جنازہ آپ کے سامنے لایا گیا تھا اور آپ ان کو دیکھ رہے تھے ‘ جب کہ بہت سے صحابہ متعدد سفروں میں غائبانہ فوت ہوجاتے تھے مثلا حبشہ اور متعدد غزوات میں ‘ اور سب سے زیادہ عزیز آپ کو ستر قاری تھے جن کو تبلیغ کے لیے کافر لے گئے اور ان کو قتل کردیا لیکن یہ کہیں منقول نہیں ہے کہ آپ نے ان میں سے کسی کی نماز جنازہ پڑھی ہو حالانکہ صحابہ میں سے جو فوت ہوجاتے آپ اس کی نماز جنازہ پر ھنے پر بہت حریص تھے حتی کہ آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص بھی مرجائے تم مجھے اس کی خبر دو کیونکہ اس کے اوپر میری نماز (جنازہ) اس کے لیے رحمت ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٣٨٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٧٦۔ ٢٧٥‘ سنن نسائی ج ٤ ص ٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٥٢٨‘ المستدرک ج ٣ ص ٥٩١‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث ٣٠٩٢۔ ٣٠٨٧‘ سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ٣٥) (فتح القدیر ج ٢ ص ١٢٢‘ ١٢١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 199