حدیث نمبر :285

روایت ہے عبداﷲ صنابحی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندۂ مؤمن جب وضو کرنے لگے تو خطائیں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں۲؎ اور جب ناک میں پانی لے تو خطائیں اس کے ناک سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنا منہ دھوئے خطائیں اس کے چہرے سے نکل جاتی ہیں۳؎ حتی کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے نکلتی ہیں،اور جب اپنے ہاتھ دھوئے تو خطائیں ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنے سر کا مسح کرے تو خطائیں اس کے سر سے نکل جاتی ہیں حتی کہ اس کے کانوں سے نکل جاتی ہیں۴؎ پھر جب پاؤں دھوئے تو خطائیں اس کے پاؤں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں۵؎ پھر اس کا مسجد کی طرف جانا اور نماز پڑھنا زیادتی ہوتی ہے۶؎(مالک ونسائی)

شرح

۱؎ حق یہ ہے کہ آ پ کا نام عبدالرحمن ابن عسیلہ ہے،کنیت ابوعبداﷲ،قبیلہ صنابح سے ہیں،جو قبیلہ مراد کا ایک ٹولہ ہے۔آپ تابعی ہیں صحابی نہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف میں ہجرت کرکے مدینہ پاک کی طرف چلے مقام حجفہ پہنچے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریف واقع ہوگئی،ابوبکر صدیق سے ملاقات ہوئی۔لہذا یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ صحابی کا نام رہ گیا۔

۲؎ یعنی زبان سے جو غیبت،جھوٹ وغیرہ گناہ صغیر ہوئے تھے وہ کلی کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔مؤمن کی قید اس لیے ہے کہ کافر کے وضو کی یہ تاثیر نہیں،ہاں اگر ایمان لانے کے لئے وضو کرے تو شاید مذکورہ فائدہ اسے بھی حاصل ہوجائے۔وضو کو مطلق فرمانے سے معلوم ہوا کہ ہر وضو کا یہ فائدہ ہے نماز کے لئے ہویااورعبادت کے لیے۔

۳؎ یعنی ناک میں پانی لینے کی برکت سے ناک یا دماغ کے گناہ جھڑ جاتے ہیں،جیسے ناجائز خوشبو سونگھنا اور دماغ میں گندے خیالات رکھنا۔خیال رہے کہ یہاں بھی گناہ صغائر ہی مراد ہیں اور چہرے کے دھونے سے آنکھ کے گناہ جھڑتے ہیں،جیسے ناجائزچیزوں کودیکھنایاناجائزاشارے بازیاں۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ کانوں کا شمار سر میں ہے نہ کہ چہرے میں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا،لہذا نہ تو کانوں کو چہرے کے ساتھ دھویا جائے گا اور نہ علیحدہ پانی سے اس کا مسح ہوگا بلکہ مسح سرکی تری سے ہی ان کا مسح بھی کیا جائے گا،یہی امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا مذہب ہے،یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔

۵؎ یعنی جو قدم ناجائز جگہ پر جانے میں پڑے ان کا گناہ اس کی برکت سے معاف ہوجاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ پیر کا دھونا فرض ہے نہ کہ اس کا مسح جیسا کہ روافض نے سمجھا۔

۶؎ یعنی گناہوں سے معافی تو وضو میں ہوچکی اب یہ اعمال معافی گناہ پر زائد ہیں جن سے درجے بلند ہوتے ہیں،یہاں نفل لغوی معنے میں ہے فرماتا ہے:”وَوَہَبْنَا لَہٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوۡبَ نَافِلَۃً”۔