درس 018: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 018: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خُلِقَ الْمَاءُ طَهُورًا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ إلَّا مَا غَيَّرَ لَوْنَهُ، أَوْ طَعْمَهُ أَوْ رِيحَهُ»،

وَالطَّهُورُ هُوَ الطَّاهِرُ فِي نَفْسِهِ الْمُطَهِّرُ لِغَيْرِهِ.

نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: پانی کو پاک کرنے والا بنایا گیا ہے لہذا اسے کوئی شے بھی ناپاک نہیں کرسکتی جب تک اس کا رنگ، ذائقہ یا بو تبدیل نہ ہوجائے۔

اور پاک کرنے والا وہی ہوتا ہے جو خود پاک ہو اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

وَقَالَ اللهُ تَعَالَى {وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا} [الفرقان: 48]

وَقَالَ اللهُ تَعَالَى {وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ} [الأنفال: 11].

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا پاک کرنے والا۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

ہم نے گذشتہ درس میں *پانی* سے متعلق *طاہر و مطہر* یعنی پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے کہ تناظر میں اصولی گفتگو کی۔

آپ نے ملاحظہ کیا جتنی بھی اقسام اور اسکے متعلقہ مسائل ہیں۔۔۔ پانی کی پیدائشی ذات و صفت *طاہر و مطہر* کے گرد ہی گھومتے ہیں۔۔

بس یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کون سا پانی اپنی ذات یا صفت پر باقی رہا اور کس میں تبدیلی واقع ہوئی۔

ہاں کچھ پانی ایسے بھی ہیں جن میں ذات یا صفت تو تبدیل نہیں ہوتی مگر کسی دوسرے عارضے کی وجہ اس کا استعمال مکروہ وغیرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔۔ مثلا

*آبِ زم زم:* اس سے وضو و غسل تو جائز ہے، مگر گندگی دور کرنا یا استنجاء کرنا مکروہ ہے اسلئے کہ یہ اس مبارک پانی کی تعظیم کے خلاف ہے۔

*آبِ شمس:* یعنی سورج کی روشنی میں گرم ہونے والا پانی۔۔ چونکہ یہ جسمانی صحت کے لئے نقصان دہ ہے اسلئے مکروہ ہے۔

*عورت/مرد کا جوٹھا پانی:* بسبب شہوت پینا مکروہ ہے۔

*مختلف جانوروں کا جوٹھا پانی:* مختلف وجوہات کے سبب مکروہ ہے۔

ہماری یہاں تک کی گفتگو ذہن میں رکھیں۔۔۔

پانی سے متعلق اگلے سارے دروس میں گذشتہ درس نمبر 16 اور 17 کا حوالہ دیا جاتا رہے گا۔

اور ان شاء اللہ الرحمن۔۔ پانی کے مسائل کے اختتام پر آپ کافی کچھ جان چکے ہوں گے اور اپنے کنسیپٹ کلئیر کرچکے ہوں گے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.