أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ

ترجمہ:

اور بیشک بعض اہل کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور اس پر جو ان کی طرف نازل کیا گیا درآنحالیکہ ان کے دل اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ‘ وہ اللہ کی آیتوں کے بدلہ میں تھوڑی قیمت نہیں لیتے یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک بعض اہل کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں ‘ اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور اس پر جو ان کی طرف نازل ہوا اور ان کے دل اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ‘ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے (آل عمران : ١٩٩) 

شان نزول : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نجاشی اور اس کے اصحاب کے متعلق نازل ہوئی ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے اور نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔ 

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو منافقین نے اس پر طعن کیا تو یہ آیت نازل ہوئی نیز ابن جریج سے یہ بھی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب خواہ یہود ہوں یانصاری ان میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ مجاہد کی روایت زیادہ اولی ہے (جامع البیان ج ٤ ص ١٤٧۔ ١٤٦‘ مطبوعہ دار المعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

غائب میت کی نماز جنازہ پڑھنے میں مذاہب ائمہ : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی موت کی خبر دی ‘ آپ عیدگاہ کی طرف گئے مسلمانوں نے صفیں باندھیں اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٨٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٥١) 

امام ابو محمد حسین بن مسعود شافعی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

نجاشی کافر قوم کے درمیان تھا وہ مسلمان تھا اور کافروں سے اپنا ایمان چھپاتا تھا ‘ اور جس جگہ وہ تھا وہاں اس کی نماز جنازہ پڑھ کر اس کا حق ادا کرنے والا کوئی نہ تھا اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا اہتمام کیا اسی طرح جس شخص کو معلوم ہو کہ ایک مسلمان ایسی جگہ فوت ہوگیا جہاں اس کی نماز پڑھنے والا کوئی نہیں ہے تو اس پر اس شخص کی نماز جنازہ پڑھنا لازم ہے ‘ اس حدیث کے فوائد سے یہ ہے کہ غائب میت کی نماز جنازہ جائز ہے ‘ وہ لوگ قبلہ کی طرف منہ کریں اس شخص کے شہر کی طرف منہ نہ کریں اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور بعض ائمہ کا قول یہ ہے کہ غائب کی نماز جنازہ جائز نہیں ہے یہ اصحاب رائے (ائمہ احناف اور مالکیہ) کا قول ہے ان کا قول یہ ہے کہ یہ نماز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ قول ضعیف ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال کی اقتداء واجب ہے جب تک کہ تخصیص کی دلیل نہ پائی جائے اور تخصیص کا دعوی صحیح نہیں ہے کیونکہ صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز نہیں پڑھی تھی بلکہ مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اس کی نماز پڑھی تھی۔ (شرح السنہ ج ٣ ص ٢٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ )

علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحید المعروف بابن الھمام المتوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز جنازہ اس لیے پڑھی تھی کہ آپ کے سامنے اس کا تخت لایا گیا تھا ‘ حتی کہ آپ نے اس کو دیکھ لیا تھا ‘ سو یہ اس میت پر نماز تھی جس کو امام دیکھ رہا تھا ‘ اور اس کا جنازہ امام کے سامنے تھا اور مقتدیوں کے سامنے نہیں تھا اور یہ اقتداء سے مانع نہیں ہے ‘ ہرچند کہ یہ ایک احتمال ہے لیکن اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا اٹھو اس پر نماز پڑھو ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور صحابہ نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں ‘ آپ نے چار تکبیریں پڑھیں اور وہ یہ گمان نہیں کرتے تھے کہ اس کا جنازہ آپ کے سامنے تھا ‘ (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث ٣١٠٢) اس حدیث میں اشارہ ہے کہ واقع میں ان کے گمان کے خلاف تھا ‘ یا تو حضرت عمران نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن لیا تھا اور یا ان کے لیے جنازہ منکشف کردیا گیا تھا ‘ یا یہ صرف نجاشی کی خصوصیت تھی اور دوسرا کوئی اس کے ساتھ لاحق نہیں ہے جیسے حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کی شہادت دو شہادتوں کے برابر ہے ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے صحابہ کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے ‘ جیسے حضرت معاویہ بن معاویہ مزنی (رض) ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تبوک میں نازل ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! معاویہ بن معاویہ مزنی مدینہ میں فوت ہوگئے کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کے لیے زمین سمیٹ دی جائے اور آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! انہوں نے اپنے دونوں پر زمین پر زمین پر مارے تو ان کا تخت اٹھا کر آپ کے سامنے رکھ دیا گیا ‘ آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں ‘ اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ‘ پھر وہ تخت واپس ہوگیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ معاویہ نے یہ فضیلت کس وجہ سے حاصل کی۔ انہوں نے کہا وہ سورة ” قل ھو اللہ احد “۔ سے محبت رکھتے تھے اور آتے جاتے ‘ اٹھتے بیٹھتے ہرحال میں اس کو پڑھتے تھے۔ (اس حدیث کو امام طبرانی نے حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ مسند الشامبین ‘ رقم الحدیث : ٨٣١‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥٣٧‘ اور امام ابن السنی نے بھی روایت کیا ہے عمل الیوم واللیلۃ رقم الحدیث : ١٨٠) اور امام ابن سعد نے اس کو طبقات میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اور امام واقدی نے مغازی میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے فرمایا زید بن حارثہ نے جھندا لیا اور وہ لڑتے رہے حتی کہ وہ شہید ہوگئے پھر آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور وہاں دوڑ رہے ہیں ‘ پھر جعفر بن ابی طالب نے فرمایا زید بن حارثہ نے جھنڈا لیا اور وہ لڑتے رہے حتی کہ وہ شہید ہوگئے پھر آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور وہاں دوڑ رہے ہیں ‘ پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا لیا اور وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور اپنے دو پروں کے ساتھ جہاں چاہے جنت میں دوڑ رہے ہیں۔ (کتاب المغازی ج ٢ ص ٧٦٢۔ ٧٦١‘ مطبوعہ عالم الکتب بیروت)

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے خصوصیت کا دعوی اس وقت کیا ہے جب ان کا تخت لایا گیا ہو نہ وہ دکھائی دیئے گئے ہوں ‘ علاوہ ازیں مغازی میں اس کی دونوں سندیں ضعیف ہیں اور یہ حدیث مرسل ہے اور طبقات کی سند میں علاء بن یزید ضعیف ہے اور امام طبرانی کی سند میں بقیہ بن ولید معنعن ہے ‘ پھر خصوصیت کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں اور نجاشی کے سوا اور کسی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ‘ اور ان کے متعلق یہ تصریح ہے کہ ان کا جنازہ آپ کے سامنے لایا گیا تھا اور آپ ان کو دیکھ رہے تھے ‘ جب کہ بہت سے صحابہ متعدد سفروں میں غائبانہ فوت ہوجاتے تھے مثلا حبشہ اور متعدد غزوات میں ‘ اور سب سے زیادہ عزیز آپ کو ستر قاری تھے جن کو تبلیغ کے لیے کافر لے گئے اور ان کو قتل کردیا لیکن یہ کہیں منقول نہیں ہے کہ آپ نے ان میں سے کسی کی نماز جنازہ پڑھی ہو حالانکہ صحابہ میں سے جو فوت ہوجاتے آپ اس کی نماز جنازہ پر ھنے پر بہت حریص تھے حتی کہ آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص بھی مرجائے تم مجھے اس کی خبر دو کیونکہ اس کے اوپر میری نماز (جنازہ) اس کے لیے رحمت ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٣٨٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٧٦۔ ٢٧٥‘ سنن نسائی ج ٤ ص ٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٥٢٨‘ المستدرک ج ٣ ص ٥٩١‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث ٣٠٩٢۔ ٣٠٨٧‘ سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ٣٥) (فتح القدیر ج ٢ ص ١٢٢‘ ١٢١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 199