آگ کی زنجیریں

حکایت نمبر133: آگ کی زنجیریں

حضرت سیدنا محمدبن یوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنا ابوسنان علیہ رحمۃ اللہ الحنّان سے نقل کرتے ہیں:” ایک مرتبہ میں بیت المقدس کی پہاڑیوں میں تھا ،ایک جگہ مجھے انتہائی پریشانی کے عالم میں ادھر اُدھر گھومتاہوا ایک غمگین نوجوان نظر آیا، میں اس کے پاس آیا اور سلام کے بعد اس سے پریشانی کا سبب پوچھاتواس نے بتایا:” ہمارے ایک پڑوسی کا بھائی فوت ہو گیا ہے، تم میرے ساتھ چلو تاکہ ہم اس کی تعزیت کریں اور اسے تسلی دیں۔”میں اس نوجوان کے ساتھ چل دیا، ہم ایک شخص کے پاس پہنچے جو بہت اداسی کے عالم بیٹھا ہوا تھا ہم نے اسے صبر کی تلقین کی اور تسلی دینے لگے لیکن اس نے ہماری باتیں نہ سنیں اوربے صبری کرتے ہوئے آہ وزاری اور چیخ و پکار کرنے لگا، ہم نے اسے محبت وپیارسے سمجھا تے ہوئے کہا:” اے اللہ عزوجل کے بندے! اس طرح بے صبری کا مظاہرہ نہ کر، اللہ عزوجل سے ڈر!اور صبر سے کام لے۔بے شک موت ہر کسی کو آنی ہے جس نے بھی زندگی کا سفر شروع کیااس کی منزل وانتہاء موت ہے ۔موت ایک ایسا پُل ہے جس سے ہر ایک نے گزرنا ہے۔ کچھ گزر گئے کچھ گزر رہے ہیں اور کچھ گزر جائیں گے ۔

؎ یاد رکھ! ہر آن آخر موت ہے بن تو مت انجان، آخر موت ہے

مُلکِ فانی میں فنا ہر شے کو ہے سن لگا کر کان، آخر موت ہے

بارہا علمیؔ تجھے سمجھا چکے مان یا مت مان، آخر موت ہے 

ہماری یہ باتیں سُن کر وہ شخص کہنے لگا:”میرے بھائیو!تم نے بالکل ٹھیک کہا، تمہاری باتیں بالکل برحق ہیں لیکن میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ میرے بھائی کو قبر میں بڑی پریشانی کا سامنا ہے۔

جب ہم نے اس کی بات سنی توکہا:” سبحان اللہ عزوجل! کیا تم علمِ غیب جانتے ہو جو تمہیں معلوم ہو گیا کہ تمہارا بھائی قبر میں عذاب سے دو چار ہے؟”تو وہ کہنے لگا:” میں اس ہولناک منظر کی وجہ سے پریشان ہوں جو میں نے دیکھا ہے۔ آؤ! میں تمہیں تفصیل سے سارا واقعہ سناتا ہوں:۔

جب میرے بھائی کا انتقال ہو گیا توتجہیز وتکفین کے بعد ہم نے اسے قبرستان لے جاکردفن کر دیا، لوگ واپس آگئے میں کچھ دیر قبر کے پاس ہی کھڑا رہا، یکایک میں نے قبر سے ایک دردناک آواز سُنی، میرا بھائی نہایت دردمندانہ انداز میں چیخ رہا تھا: ”مجھے بچاؤ ،مجھے بچاؤ۔” جب میں نے یہ آواز سنی توکہا:” واللہ !یہ تو میرے بھائی کی آواز ہے۔”میں نے بے چین ہو کرقبر کھودنا شروع کردی تو ایک غیبی آواز نے مجھے چونکا دیا کوئی کہنے والا کہہ رہاتھا:” اے اللہ عزوجل کے بندے! اس قبر کو نہ کھودو ،یہ اللہ عزوجل کے رازوں میں سے ایک رازہے، اسے پوشیدہ ہی رہنے دو۔” آواز سن کر میں قبر کھودنے سے باز رہا پھر میں وہاں سے اُٹھا اور جانے لگا تو مجھے دردناک آواز سنائی دی:”مجھے بچاؤ،مجھے بچاؤ۔”مجھے اپنے بھائی پر ترس آنے لگا اور میں نے دوبارہ قبر کھودنا شروع کر دی،ابھی میں نے تھوڑی سی مٹی ہٹائی تھی کہ پھرمجھے غیبی آواز سنائی دی:” اللہ عزوجل کے رازوں کو نہ کھولو اور قبر کھودنے سے باز رہو۔” غیبی آواز سن کر میں نے دوبارہ قبر بند کر دی،اور میں وہاں سے جانے لگا تو پھربڑی دردناک آواز میں میرے بھائی نے مجھے پکارا:” مجھے بچاؤ،مجھے بچاؤ۔” اس مرتبہ جب میں نے اپنے بھائی کی آواز سنی تو مجھے بہت رحم آیااور میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ اب تو میں ضرور قبرکھودوں گا۔ چنانچہ میں نے قبر کھودنا شروع کی جیسے ہی میں نے قبر سے سِل ہٹائی تو قبر کا اندرونی منظر دیکھ کر میرے ہوش اُڑ گئے، اندر انتہائی خوف ناک منظر تھا، ابھی ابھی ہم نے جس بھائی کو دفنایا تھا اس کا سارا جسم آگ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا،اس کی قبر آگ سے بھری ہوئی تھی۔جب میں نے اپنے بھائی کو اس حا لت میں دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اسے زنجیروں سے آزاد کرانے کے لئے اپنا ہاتھ اس کی گردن میں بندھی ہوئی زنجیر کی طرف بڑھایا جیسے ہی میرا ہاتھ زنجیر کو لگا میرے ہاتھ کی انگلیاں جل کر ہاتھ سے جدا ہو گئیں ،مجھے بہت زیادہ تکلیف محسو س ہونے لگی ،میں نے جیسے تیسے قبر کوبند کیااور وہاں سے بھاگ نکلا۔یہ دیکھو میرے ہاتھ کی انگلیاں بالکل جل چکی ہیں اور اب تک مجھے شدید درد ہو رہا ہے، اتنا کہنے کے بعداس نے چادر سے اپنا ہاتھ نکالا تو واقعی اس کی چار انگلیاں غائب تھیں اورہاتھ پر زخم کا عجیب وغریب نشان موجود تھا۔ ہم نے اللہ عزوجل سے عافیت طلب کی اوروہاں سے چلے آئے۔حضرت سیدنا ابو سنان علیہ رحمۃ اللہ المنّان فرماتے ہیں:”کچھ عرصہ کے بعد جب میں حضرت سیدنا امام اوزاعی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہیں یہ سارا واقعہ سنایا پھر پوچھا : ”حضور! جب کوئی یہودی یا نصرانی مرتا ہے تو اس کا عذابِ قبر لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتا لیکن مسلمانوں کی قبروں کے حالات بعض مرتبہ ظاہر ہو جاتے ہیں،اس کی کیا وجہ ہے ؟”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباًارشاد فرمایا:” کفّار کے عذاب ِقبرمیں تو کسی مسلمان کو شک ہی نہیں ،انہیں تو دائمی عذاب کا سامنا کرنا ہی ہے۔ سب مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ کفار مرتے ہی عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں اس لئے ان کے عذاب کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔ہاں بعض مرتبہ گناہگا ر مسلمانوں کی قبروں کا حال لوگوں پر منکشف کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں اور گناہوں سے تائب ہو کر اپنے پاک پرورد گا رعزوجل کی رِضا والے اعمال کی طرف راغب ہوں۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل! ہمیں عذابِ قبر سے محفوظ رکھنا،ہمارے کمزور جسم جہنم کی آگ برداشت نہیں کر سکیں گے ہم سے تو دنیوی آگ کی تپش بھی برداشت نہیں ہوتی، ذرا سا پتنگا بھی جسم پر آ لگے تو چیخ نکل جاتی ہے ،نہ گرمی برداشت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی گھٹن برداشت ہوتی ہے، اگر ہمیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے عذابِ نار میں مبتلا کر دیا گیا تو ہمارا کیا بنے گا، اے ہمارے رحیم وکریم اللہ عزوجل! اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے ہمیں عذاب ِقبر سے محفوظ رکھ، ہماری قبروں کو سانپوں ا ور بچھوؤں سے محفوظ رکھ، اگر ہماری قبروں میں ایسے عذابات آگئے تو ہم کہاں جائیں گے، کس کی پناہ لیں گے؟ اے ہمارے پاک پروردگار عزو جل!تو اپنے لطف وکرم سے ہمیں سانپوں اوربچھوؤں کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔آمین بجاہِ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)؎ گر کفن پھاڑ کے سانپوں نے جمایا قبضہ ہائے بر بادی کہاں جا کے چھپوں گا یا رب عزوجل (اے ہمارے پاک پروردگار عزوجل! ہمیں قبر و حشر کی تمام مصیبتوں سے نجات عطا فرما،جب ہمیں اندھیری قبر میں اتارا جائے تو ہماری قبروں کو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جلوؤں سے منور فرما دے اور ہمیں ان کی رحمت کے سائے میں میٹھی میٹھی نیند سونے کی توفیق عطا فرما۔)آمین بجاہ ِالنبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم؎ یا الٰہی ! گور تیرہ کی جب آئے سخت رات ان کے پیارے منہ کی صبحِ جاں فزاکا ساتھ ہو

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.