درس 019: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 019: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) الْمُقَيَّدُ فَهُوَ مَا لَا تَتَسَارَعُ إلَيْهِ الْأَفْهَامُ عِنْدَ إطْلَاقِ اسْمِ الْمَاءِ

ماء مقید: یہ اس پانی کو کہتے ہیں کہ جب لفظ *پانی* کہا جائے تو لوگوں کا ذہن فورا اس طرف منتقل نہیں ہوتا۔

وَهُوَ الْمَاءُ الَّذِي يُسْتَخْرَجُ مِنْ الْأَشْيَاءِ بِالْعِلَاجِ كَمَاءِ الْأَشْجَارِ، وَالثِّمَارِ، وَمَاءِ الْوَرْدِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ

اور یہ وہ پانی ہے جو مختلف اشیاء سے کسی عمل کے ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے، جیسے درختوں اور پھلوں کا پانی اور عرقِ گلاب وغیرہ۔

وَلَا يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ

اس قسم کے پانی سے وضو جائز نہیں ہے۔

وَكَذَلِكَ الْمَاءُ الْمُطْلَقُ إذَا خَالَطَهُ شَيْءٌ مِنْ الْمَائِعَاتِ الطَّاهِرَةِ كَاللَّبَنِ، وَالْخَلِّ، وَنَقِيعِ الزَّبِيبِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ عَلَى وَجْهٍ زَالَ عَنْهُ اسْمُ الْمَاءِ بِأَنْ صَارَ مَغْلُوبًا بِهِ، فَهُوَ بِمَعْنَى الْمَاءِ الْمُقَيَّدِ

اسی طرح اگر ماء مطلق میں کوئی پاک لیکیوڈ شے جیسے دودھ، سرکہ، خشک انگور کا رس وغیرہ اس طرح مل جائے کہ وہ *پانی* کہلانا ختم ہوجائے، اس طور پر کہ پانی کی مقدار مغلوب (کم) رہ جائےتو وہ بھی ماء مقید کے مفہوم میں شامل ہے۔

ثُمَّ يُنْظَرُ إنْ كَانَ الَّذِي خَالَطَهُ مِمَّا يُخَالِفُ لَوْنُهُ لَوْنَ الْمَاءِ كَاللَّبَنِ، وَمَاءِ الْعُصْفُرِ، وَالزَّعْفَرَانِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ تُعْتَبَرُ الْغَلَبَةُ فِي اللَّوْنِ

پھر دیکھا جائے گا کہ پانی میں ملنے والی شے، پانی کی رنگت سے مختلف رنگ رکھتی ہے جیسے دودھ، عصفر (زردی مائل رنگ) یا زعفران کا پانی وغیرہ تو رنگ کے غالب ہونے کا اعتبار ہوگا۔

وَإِنْ كَانَ لَا يُخَالِفُ الْمَاءَ فِي اللَّوْنِ، وَيُخَالِفُهُ فِي الطَّعْمِ كَعَصِيرِ الْعِنَبِ الْأَبْيَضِ، وَخَلِّهِ تُعْتَبَرُ الْغَلَبَةُ فِي الطَّعْمِ

اگر ملنے والی شے رنگت میں تو پانی کی طرح ہے مگر ذائقہ میں مختلف ہے جیسے سفید انگوروں کا رس یا اس کا سرکہ تو ذائقہ کے غالب ہونے کا اعتبار کیا جائے گا۔

وَإِنْ كَانَ لَا يُخَالِفُهُ فِيهِمَا تُعْتَبَرُ الْغَلَبَةُ فِي الْأَجْزَاءِ.

اور اگر ملنے والی شے رنگت اور ذائقہ میں بھی پانی سے مختلف نہیں ہے تو پھر اس کے اجزاء (Particulars) کے غالب ہونے کا اعتبار کیا جائے گا۔

فَإِنْ اسْتَوَيَا فِي الْأَجْزَاءِ؟ لَمْ يُذْكَرْ هَذَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَقَالُوا: حُكْمُهُ حُكْمُ الْمَاءِ الْمَغْلُوبِ احْتِيَاطًا

اور رنگ، ذائقہ، اجزاء سب پانی کی طرح ہوں کوئی بھی غالب نہ ہو تو۔۔؟ اس حوالے سے *ظاہر الروایۃ* (امام محمد کی کتابیں جن میں لکھے ہوئے مسائل کے مطابق فتوی دیا جاتا ہے) میں کچھ ذکر نہیں ملتا۔۔ لہذا فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ ایسے پانی کا حکم ماء مغلوب کا ہوگا احتیاطی طور پر۔ (یعنی ایسے پانی سے وضو کا حکم نہیں دیا جائے گا)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*ہماری یہاں تک کی گفتگو ذہن میں رکھیں۔۔۔ پانی سے متعلق اگلے سارے دروس میں گذشتہ درس نمبر 16 اور 17 کا حوالہ دیا جاتا رہے گا۔*

بدائع الصنائع کی مذکورہ تمام عبارات پڑھ لیجئے اور ہمارے درس نمبر 16 اور 17 کو ذہن میں رکھئے تو نتیجہ آپ کے سامنے آجائے گا کہ اوپر بیان کی گئی ساری صورتوں میں وضو اسلئے جائز نہیں ہورہا کہ *پانی* اپنی ذات و صفت میں اصلی حالت پر باقی نہیں رہا بلکہ اس میں تبدیلی واقع ہوگئی ہے۔۔ یہاں تک کہ اب لوگ بھی مذکورہ صورتوں کو پانی نہیں کہیں گے۔

دیکھ لیجئے۔۔۔۔!!

کیا آپ اور ہم درختوں سے نکلنے والے پانی کو *حقیقی پانی* کہتے ہیں ؟۔۔۔ نہیں

کیا پھلوں اور پھولوں سے نکلنے والے پانی کو *حقیقی پانی* سمجھتے ہیں ؟۔۔۔ نہیں

اگر آپ کے والدین کہیں۔۔

*بیٹا پانی پلانا۔۔*

تو اس سے آپ کا ذہن کس پانی کی طرف جائے گا؟؟

ایسے پانی کی طرف جس میں دودھ کی رنگت غالب اور پانی کی رنگت مدہم ہوگئی ہو ؟

ایسے پانی کی جانب جس میں زعفران مل گیا ہواور پانی کی رنگت پر غالب آگیا ہو ؟

ایسے پانی کی طرف جس میں انگور ، سرکہ وغیرہ کا ذائقہ غالب ہوگیا ہے ۔۔؟؟

مزید آسان کیجئے۔۔ اگر میں آپ سے پانی مانگوں تو کیا آپ مجھے *لیموں پانی* پیش کریں گے ؟؟ ظاہر ہے نہیں۔

وجہ یہی ہے کہ جب بھی پانی کہا جائے گا تو مذکورہ صورتوں کی طرف لوگوں کا ذہن منتقل نہیں ہوگا۔

الحمد للہ ۔۔! ہمارے پچھلے دروس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ جب تک پانی اپنی ذات و صفت میں اصلی حالت پر باقی رہے گا ۔۔۔ اسی سے وضو و غسل جائز ہوگا۔ ان شاء اللہ مزید مثالیں اگلے دروس میں پیش ہوں گی جس سے کنسیپٹ اور کلئیر ہوگا۔

*ابو محمد عارفین القادری*

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.