علم کی اہمیت وفضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں

٭ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ’’العلم حیٰوۃ الاسلام و عماد الدین‘‘ علم اسلام کی زندگی ہے اور دین کا ستون ہے۔ (کنزا لعمال)

٭ حضرتِ عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ علم عبادت سے بہتر ہے۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بہترین عبادت علم کا حاصل کرنا ہے۔ (کنزالعمال)

٭ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تدارس العلم ساعۃ من اللیل خیر من احیائہا‘‘ ایک گھڑی علم حاصل کرنا پوری رات جاگنے سے بہتر ہے۔ (مشکوٰۃ)

٭ حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو علم کی تلاش میں نکلا تو واپسی تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کائنات ﷺ نے فرمایا جو شخص علم کی تلاش میں راستہ چلتا ہے تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس پر جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے اور جب کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں(یعنی مسجد، مدرسہ، خانقاہ میں) جمع ہوتی ہے اور قرآنِ مجید کو پڑھتی اور پڑھاتی ہے تو ان پر خدا سکینہ نازل فرماتا ہے، خدا کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر ان فرشتوں میں کرتا ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں۔ (مسلم شریف)

٭ سید عالم ﷺ فرماتے ہیں ’’مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْراً یُّفَقِّہْہُ فِیْ الدِّیْنِ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ (بخاری،مسلم، مشکوٰۃ)

٭ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے ’’لِکُلِّ شَیْئیٍ طَرِیْقٌ وَّ طَرِیْقُ الجَنَّۃِ العِلْمُ‘‘ ہر چیز کا ایک راستہ ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔ ( کنز العمال ص۸۹)

٭ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص علم کی تلاش میں ہوگا جنت اس کی تلاش میں ہوگی۔ اور جو شخص گناہ کی کھوج میں ہوگا جہنم اس کی کھوج میں ہوگی۔(کنز العمال ج۱ ص۹۲)

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو علم کی تلاش میں نکلا تو واپسی تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (مشکوٰۃ، ص۳۴)

٭ حضرت سنجرہ ازدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے علم حاصل کیا تو یہ حاصل کرنا اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔ (ترمذی، الدارمی)

٭ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے سیر نہیں ہوتے ہیں، ایک علم کا بھوکا علم سے سیر نہیں ہوتا، دوسرا دنیا کا بھوکا دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔ (بیہقی، مشکوٰۃ، ص۳۷)

٭ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب طالبِ علم کو موت آجائے اور وہ طلب علم کی حالت پر مرے تو وہ شہید ہے۔ (کنز العمال، جلد اول ص۷۹)

٭ حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’’مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَکَفَّلَ اللّٰہُ لَہٗ بِرِزْقِہٖ‘‘ یعنی جس نے علم دین حاصل کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی روزی کو اپنے ذمۂ کرم پر لے لیا۔ (کنز العمال)

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے لوگوں کو دیکھنا پسند کرے تو وہ طالب علموں کو دیکھے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، کوئی طالب علم جب کسی عالم کے دروازے پر آتا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے جنت میں ایک شہر تیار کرتا ہے۔ اور وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ زمین اس کے لئے مغفرت طلب کرتی ہے۔ اور صبح و شام اس حال میں کرتا ہے کہ بخشا ہوا ہوتا ہے اور ملائکہ طالب علموں کے لئے گواہی دیتے ہیں کہ وہ جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے ہیں۔ (تفسیر کبیر)

٭ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے قدم علم کی طلب میں گرد آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو جہنم پر حرام فرمائے گا اور خدائے تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے مغفرت طلب کریں گے۔ اور اگر علم کی طلب میں مر گیا تو شہید ہوا اور اس کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی اور اس کی قبر تا حد نگاہ کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے پڑوسیوں پر روشن کر دی جائے گی۔ چالیس قبریں اس کے داہنے، چالیس اس کے بائیں، چالیس اس کے پیچھے اور چالیس قبریں اس کے آگے۔ (تفسیر کبیر، جلد اول، ص۲۸۱)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں عبادت سے ہیں کم کھانا، مسجد میں بیٹھنا، کعبہ دیکھنا، مصحف کو دیکھنا، اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔(فتاویٰ رضویہ)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں عبادت سے ہیں مصحف کو دیکھنا، کعبہ کو دیکھنا، ماں باپ کو دیکھنا، زمزم کے اندر نظر کرنا اور اس سے گناہ اترتے ہیں، اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۴؍۶۱۶)

٭ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دین کی سمجھ رکھنے والا ایک شخص(عالم) شیطان پر ایک ہزار عابدوں کے مقابلہ میں زیادہ بھاری ہے۔

(جامع الاحادیث ص۱۷۳)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو اس سے اس کا عمل کٹ جاتا ہے۔ مگر تین چیزوں کا ثواب برابر جاری رہتا ہے صدقۂ جاریہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔ (مسلم، مشکوٰۃ)

٭ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا دوچیزوں کے سوا کسی میں حسد جائز نہیں۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہِ حق میں خرچ کرے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے دین کا علم عطا فرمایا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ (بخاری )

٭ سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے عالم کی توہین کی تحقیق اس نے علم دین کی توہین کی اور جس نے علمِ دین کی توہین کی تحقیق اس نے نبی ا کی توہین کی اور جس نے نبیٔ کریم ا کی توہین کی یقینا اس نے جبریل علیہ السلام کی توہین کی، اور جس نے جبریل علیہ السلام کی توہین کی تحقیق اس نے اللہ کی توہین کی، اور جس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی توہین کی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسکو ذلیل و رسوا کریگا۔

(تفسیر کبیر، جلد۱، ص۲۸۱)

٭ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عالم زمین میں اللہ تعالیٰ کی دلیل و حجت ہے تو جس نے عالم میں عیب نکالا وہ ہلاک ہو گیا۔ (کنز ا لعمال )

٭ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ’’مُجَالَسَۃُ الْعُلَمَائِ عِبَادَۃٌ‘‘ یعنی عالموں کے ساتھ بیٹھنا عبادت ہے۔ (کنز العمال)

٭ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو چر لیا کرو۔ عرض کیا گیا جنت کے باغ کیا ہیں؟ فرمایا عالموں کی مجلس۔ (کنز ا لعمال)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شریعت کی ایک بات کا سننا سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔ اور علم دین کی گفتگو کرنے والوں کے پاس ایک گھڑی بیٹھنا غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ (کنز العمال)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.