بے وضو کی نماز قبول نہیں

باب ما یوجب الوضوء

وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ آٹھ چیزیں وضو توڑ دیتی ہیں:جو کچھ پیشاب یا پاخانہ کی راہ نکلے،منہ بھر قے،بہتا خون،بے ہوشی،نشہ،غفلت کی نیند،رکوع سجدے والی نماز میں آواز سے ہنسنا،مباشرت۔

حدیث نمبر :288

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وضو کی نماز قبول نہیں یہاں تک کہ وضو کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ قبول سے مراد نماز کا جائز ہونا ہے اور وضو سے حقیقی اور حکمی دونوں وضو مراد ہیں یعنی تیمم بھی۔بے وضو کی نماز بغیر وضو یا تیمم جائز نہیں۔احناف کے نزدیک جسے وضو کے لائق پانی اورتیمم کے لائق مٹی نہ ملے وہ نماز قضا کرے،اور اگر قضا کا موقع پانے سے پہلے فوت ہوگیا تو اس پر گناہ نہیں۔یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ عمدًا بے وضو پڑھنا کفر ہے جب کہ نمازکو ہلکاجانتا ہو۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.