درس 020: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 020: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فَإِنْ اسْتَوَيَا فِي الْأَجْزَاءِ؟ لَمْ يُذْكَرْ هَذَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَقَالُوا: حُكْمُهُ حُكْمُ الْمَاءِ الْمَغْلُوبِ احْتِيَاطًا

اوراجزاء پانی کی طرح ہوں کوئی بھی غالب نہ ہو تو۔۔؟ اس حوالے سے *ظاہر الروایۃ* (امام محمد کی کتابیں جن میں لکھے ہوئے مسائل کے مطابق فتوی دیا جاتا ہے) میں کچھ ذکر نہیں ملتا۔۔ لہذا فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ ایسے پانی کا حکم ماء مغلوب کا ہوگا احتیاطی طور پر۔ (یعنی ایسے پانی سے وضو کا حکم نہیں دیا جائے گا)

هَذَا إذَا لَمْ يَكُنْ الَّذِي خَالَطَهُ مِمَّا يُقْصَدُ مِنْهُ زِيَادَةُ نَظَافَةٍ

دوسری اشیاء کے ملنے والے احکام اس وقت ہیں جب پانی میں کوئی ایسی چیز نہ ملی ہوجو پانی کی صاف کرنے والی صلاحیت نہ بڑھاتی ہو۔

فَإِنْ كَانَ مِمَّا يُقْصَدُ مِنْهُ ذَلِكَ، وَيُطْبَخُ بِهِ أَوْ يُخَالِطُ بِهِ كَمَاءِ الصَّابُونِ، وَالْأُشْنَانِ يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِهِ، وَإِنْ تَغَيَّرَ لَوْنُ الْمَاءِ، أَوْ طَعْمُهُ، أَوْ رِيحُهُ

اور اگر ایسی چیز ملائی جس سے مقصود صفائی کی صلاحیت بڑھانا ہو۔۔ تواسے ملا کر پکایا جائے۔۔ یا ویسے ہی ملادیاجائے۔۔ جیسے صابون اور اشنان (ایک گھاس) تو اس سے وضو جائز ہے، اگرچہ اس کے سبب پانی کا رنگ، ذائقہ اور مزہ تبدیل ہوجائے۔

لِأَنَّ اسْمَ الْمَاءِ بَاقٍ، وَازْدَادَ مَعْنَاهُ، وَهُوَ التَّطْهِيرُ

اسلئے کہ وہ ابھی بھی پانی ہی کہلائے، بلکہ اب اسکی صفت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور وہ صفت تطہیر ہے یعنی پاک کرنے والا۔

وَكَذَلِكَ جَرَتْ السُّنَّةُ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ بِالْمَاءِ الْمَغْلِيِّ بِالسِّدْرِ، وَالْحُرُضِ فَيَجُوزُ الْوُضُوءُ بِهِ

اسی طرح غسلِ میت کے معاملے میں یہ سنت چلی آرہی ہے کہ بیری یا اشنان کو پانی جوش دے کر میت کو غسل دیتے ہیں، تو اس سے وضو بھی جائز ہے۔

إلَّا إذَا صَارَ غَلِيظًا كَالسَّوِيقِ الْمَخْلُوطِ؛ لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ يَزُولُ عَنْهُ اسْمُ الْمَاءِ، وَمَعْنَاهُ أَيْضًا.

ہاں ناجائز ہونے کی صورت یہ ہے کہ ملنے والی اشیاء سے پانی گاڑھا ہوجائے (یعنی رقت ختم ہوجائے) جیسے ستو ملا پانی۔۔ وجہ یہ ہے کہ اب اس کو پانی نہیں کہا جائے اور نہ ہی یہ اپنی صفت پر باقی رہے گا۔

وَلَوْ تَغَيَّرَ الْمَاءُ الْمُطْلَقُ بِالطِّينِ أَوْ بِالتُّرَابِ، أَوْ بِالْجِصِّ، أَوْ بِالنُّورَةِ أَوْ بِوُقُوعِ الْأَوْرَاقِ، أَوْ الثِّمَارِ فِيهِ، أَوْ بِطُولِ الْمُكْثِ يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِهِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَزُلْ عَنْهُ اسْمُ الْمَاءِ، وَبَقِيَ مَعْنَاهُ أَيْضًا مَعَ مَا فِيهِ مِنْ الضَّرُورَةِ الظَّاهِرَةِ لِتَعَذُّرِ صَوْنِ الْمَاءِ عَنْ ذَلِكَ.

اور اگر ماء مطلق میں کیچڑ، مٹی، چونا، چونے کا پتھر ملنے کے سبب تبدیلی آئی۔۔یا۔۔درخت کے پتے اور پھلوں کے رہنے یا یونہی طویل عرصے تک پڑے رہنے کے سبب اوصاف (رنگ، بو، ذائقہ) میں تبدیلی آگئی تب بھی وضو جائز ہے، اسلئے کہ وہ اب بھی پانی ہے اور اسکی پاک کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔۔ پھر بظاہر اسکی ضرورت بھی ہے کیونکہ پانی کو ان اشیاء سے بچانا مشکل بھی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*ہماری یہاں تک کی گفتگو ذہن میں رکھیں۔۔۔ پانی سے متعلق اگلے سارے دروس میں گذشتہ درس نمبر 16 اور 17 کا حوالہ دیا جاتا رہے گا۔*

اوپر موجود تمام عبارات پڑھ لیجئے۔۔تمام صورتوں میں وضو اسلئے جائز ہورہا ہے کہ *پانی* اپنی ذات و صفت میں اصلی حالت پر باقی ہے ۔

ایک بہن کی جانب سے سوال آیا کہ آپ نے رنگ اور ذائقہ کی مثال زعفران اور سرکہ سے دے دی مگر کسی دوسری شے کے اجزاء غالب ہونے کی مثال نہیں دی گئی۔ دراصل اجزاء کے غالب ہونے سے مراد یہ ہے کہ پانی کی رقت ختم ہوجائے اور گاڑھا پن ظاہر ہوجائے۔

اعلی حضرت قدس سرہ نے اجزاء کے غالب ہونے کی مثال یوں دی ہے۔

"ریشم کو پکانے کیلئے کپیوں کو پانی میں جوش دیتے ہیں اور اُن میں ریشم کے کیڑے ہوتے ہیں اُس پانی سے وضو جائز ہے کیڑے تر ہوں یا خشک جب تک اس کثرت سے نہ ہوں کہ اُن کے اجزا پانی پر غالب آجائیں۔”

ایک اور جگہ فرمایا: جس پانی میں چنے بھگوئے کتنی ہی دیر بھیگے رہیں تحقیق یہ ہے کہ اُس سے وضو جائز ہے مگر یہ کہ اناج کے اجزا اُس میں مل کر اُسے گاڑھا کردیں کہ اپنی رقت وسیلان پر باقی نہ رہے۔

صابن کا پانی اگر پکایا جائے یا یونہی سرف وغیرہ گھول لیا جائے ۔۔ تو جب تک پانی کی رقت یعنی پتلاپن باقی ہے اس سے وضو و غسل جائز ہے اگرچہ رنگت، ذائقہ اور بو تبدیل ہوجائے کیونکہ اسکی وجہ سے پانی کی پاک کرنے کی صلاحیت میں فرق نہیں آیا اور وہ پانی ہی شمار ہوگا ہاں اگر اسکی رقت ختم ہوجائے اور پانی گاڑھا ہوجائے تو اب وضو جائز نہیں ہوگا ۔

اسی طرح کیچڑ، مٹی وغیرہ کے مسائل ذکر ہوئے۔۔ ان تمام میں بھی یہی سبب ہے جب تک پانی غالب ہے ،اسے پانی کہا جارہا ہے اور اس کی رقت بھی موجود ہے تو پانی کی ذات و صفت میں تبدیلی نہیں آئی لہذا اس سے وضو جائز ہے اگر تبدیلی غالب ہوجائے مثلا کیچڑ میں پانی اتنا کم ہو کہ گارا بن جائے تو وضو ناجائز ہے۔

علامہ کاسانی نے اس کے بعد *نبیذِ تمر* یعنی کھجور کے شربت کے مسائل ہیان کئے ہیں کہ اس سے وضو جائز ہے یا نہیں؟

چونکہ فی الوقت اس کی حاجت نہیں ہے اسلئے اسے چھوڑ کر پانی کی تیسری اور چوتھی صورت بیان کی جائے گی اسکے بعد وضو کی سنتوں کا بیان شروع کیا جائے گا۔

*ابو محمد عارفین القادری*

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.