وَاٰ تُوا الۡيَتٰمٰٓى اَمۡوَالَهُمۡ‌ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِيۡثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ‌ اِلٰٓى اَمۡوَالِكُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوۡبًا كَبِيۡرًا‏‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 2

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاٰ تُوا الۡيَتٰمٰٓى اَمۡوَالَهُمۡ‌ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِيۡثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ‌ اِلٰٓى اَمۡوَالِكُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوۡبًا كَبِيۡرًا‏‏

ترجمہ:

اور یتیموں کو ان کے اموال دے دو اور (اپنے) خراب مال کو (ان کے) اچھے مال کے ساتھ تبدیل نہ کرو اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ مال کر نہ کھاؤ، بیشک یہ بہت بڑا گناہ ہے

تفسیر:

یتیم کا مال ادا کرنے کا حکم :

اس آیت میں یتیموں کے سرپرستوں کو خطاب ہے کہ جب یتیم بالغ ہوجائیں تو ان کے اموال ان کو دے دیئے جائیں ‘ یتیم کا ولی اس کا اچھا مال رکھ لیا تھا اور اپنا خراب مال اس کو دے دیتا تھا اس آیت میں ان کو اس سے منع کیا گیا۔ 

علامہ ابو للیث نصر بن محمد سمرقندی حنفی متوفی ٣٧٥ ھ اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں : 

مقاتل نے کہا یہ آیت غطفان کے ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے اس کے پاس اس کے یتیم بھتیجے کا بہت سار امال تھا جب یتیم بالغ ہوا تو اس نے اپنا تو اس نے اپنا مال طلب کیا ‘ اس کے چچا نے اس کو منع کیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی ‘ اس شخص نے کہا ہم اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور بہت بڑے گناہ سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اس نے اپنے بھتیجے کو مال دے دیا اس جوان نے اس مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٣٣١‘ مطبوعہ دارالباز مکرمہ مکرمہ ‘ ١٤١٣ ھ) 

یتیم کا مال کھانے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی مذمت اور حسن سلوک کی تعریف : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو ‘ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! وہ کیا کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ‘ جادو کرنا ‘ جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق قتل کرنا ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا ‘ مسلمان پاک دامن بےقصور عورت پر تہمت لگانا۔ (صحیح البخاری۔ رقم الحدیث ٦٨٥٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٩‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث ‘ ٢٨٧٤‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٦٧٣) 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمانوں کا سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ‘ ٣٦٧٩‘ ج ٤ ص ١٩٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤١٦) 

اس حدیث میں امام ابن ماجہ منفرد ہیں اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن ابی سلیمان ہے ‘ امام بخاری نے کہا وہ منکر الحدیث ہے ‘ (تاریخ الکبیر ج ٨ ص ٢٩٩٩) امام ابوحاتم نے کہا وہ مضطرب الحدیث ہے (الجرح والتعدیل ج ٩ ص ٦٣٨) امام ابن حبان نے اس کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (کتاب الثقات ج ٩ ص ٢٦٤) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی آپ نے فرمایا : یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٨٧‘ ٢٦٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اس حدیث کی سند صحیح ہے (مجمع الزوائد ج ٨ ص ١٦٠ )

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (النساء : ٣)

نکاح کی ترغیب اور فضیلت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرلیے کیونکہ نکاح نظر کو زیادہ نیچے رکھتا ہے اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرتا ہے اور تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے کیونکہ روزے اس کی شہوت کو کم کریں گے۔ (صحیح البخاری : رقم الحدیث : ١٩٠٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٠‘ جامع الحدیث : ١٠٨١‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٤٦‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٠٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٥) 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نکاح میری سنت سے ہے۔ جس نے میری سنت پر عمل کیا۔ وہ میرے طریقہ (کاملہ) پر نہیں ہے ‘ نکاح کرو کیونکہ تمہاری وجہ سے میری امت دوسری امتوں سے زیادہ ہوگی ‘ جس کے پاس طاقت ہو وہ نکاح کرے اور جس کے پاس طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے ‘ کیونکہ روزے اس کی شہوت کو کم کریں گے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٤٦) 

اس حدیث کی سند میں عیسیٰ بن میمون ایک ضعیف راوی ہے مگر اس حدیث کا ایک صحیح شاہد ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو ایوب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چار چیزیں رسولوں کی سنت ہیں : ختنہ کرنا ‘ عطر لگانا ‘ مسواک کرنا اور نکاح کرنا۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے (جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٠٨٠) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا عارضی نفع کا سامان اور اس میں بہترین نفع کی چیز نیک عورت ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٦٧‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٣٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٥٥‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٦٨) 

امام محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے خوف کے بعد مومن کے فائدہ کی سب سے اچھی چیز اس کی نیک بیوی ہے اگر وہ اس کو حکم دے تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے اگر وہ اس کو دیکھے تو وہ اس کو خوش کرے اگر وہ اس پر قسم کھائے تو وہ اس کی قسم کو پورا کرے اور اگر وہ کہیں چلا جائے تو اس کی جان اور مال کی خیرخواہی کرے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ١٨٥٧) 

اس حدیث کی سند میں علی بن یزید بن جدعان ضعیف ہے لیکن اس حدیث کا ایک شاہد ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے پاس تین شخص آئے اور انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کے متعلق سوال کیا۔ جب ان کو آپ کی عبادت کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے اس کو کم گمان کیا انہوں نے کہا کہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے بہ ظاہر خلاف اولی سب کام معاف فرما دیئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا میں ہمیشہ ساری عمر روزے رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور ساری عمر نکاح نہیں کروں گا۔ سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا تم لوگوں نے اس اس طرح کہا تھا بہ خدا میں تم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ سو جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ میرے طریقہ (کاملہ) پر نہیں ہے۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث ‘ ٥٠٦٣ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٤٠١ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٧٧‘ شعب الایمان ج ٤ ص ٣٨١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کسی عورت سے چار سبب سے نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے ‘ اس کے حسب (آباء و اجداد کا شرف اور فضیلت) کی وجہ سے ‘ اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کی دینداری کی وجہ سے۔ تم اس کو اس کی دینداری کی وجہ سے طلب کرو ‘ تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث ‘ ٥٠٩٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث ‘ : ١٤٦٦‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث ‘ : ٢٠٤٧‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث ‘ : ٣٢٣٠‘ سنن ابن ماجہ “ رقم الحدیث ‘ : ١٨٥٨‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٢١٧٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٢٨‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٨٠) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کئی خصلتوں کی وجہ سے عورت سے نکا کیا جاتا ہے۔ اس کے حسن کی وجہ سے ‘ اس کے مال کی وجہ سے ‘ اس کے عمدہ اخلاق کی وجہ سے اور اس کی دینداری کی وجہ سے ‘ تم دیندار اور اچھے اخلاق والی سے نکاح کرو ‘ تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٨٠‘ کشف الاستار عن زوائد البزار رقم الحدیث : ١٤٠٣‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٠٠٨) 

امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا کی (یہ چیزیں) میرے نزدیک محبوب کی گئی ہیں۔ عورتیں ‘ خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنائی گئی ہے۔ (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٩٤٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ٢٨٥‘ ١٩٩‘ ١٢٨‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٣٤٦٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٧٨) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابونجیح بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نکاح کرنے کی مالی وسعت رکھتا ہو پھر نکاح نہ کرے وہ میری سنت (میرے طریقہ کاملہ) پر نہیں ہے (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٩٩٣‘ ج ١ ص ٥٢٨‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض ١٤٠٥ ھ) 

یہ حدیث مرسل ہے اور اس کی سند حسن ہے (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٥١) 

امام ابو یعلی احمد بن علی موصلی متوفی ٣٠٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبید بن سعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں : آپ نے فرمایا جو میری فطرت سے محبت رکھتا وہ میری سنت پر عمل کرے اور میری سنت سے نکاح ہے۔ (مسند ابویعلی رقم الحدیث ٢٧٤٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٧٨‘ الاصابہ ج ٤ ص ٢٠٤‘ شعب الایمان ج ٤ ص ٣٨١) یہ حدیث مرسل ہے (ابن حجر) اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٥٢) 

امام احمد بن عمرو بزار متوفی ٢٩٢ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے قریش کے جوانو ! زنانہ کرو جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اس کے لیے جنت ہے۔ (کشف الاستار عن زوائد البزار رقم الحدیث : ١٤٠١‘ المعجم الکبیر ج ١٢ ص ١٢٨ رقم الحدیث : ٢٧٧٦‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث ٦٨٤٦) اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٥٣) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں صدقہ جاریہ ‘ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے یا نیک بیٹاجو اس کے لیے دعا کرے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣١‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٧٦‘ سنن نسائی رقم الحدیث ٣٦٥٣‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٣٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٢‘ مصابیح السنۃ ج ١ ص ١٦٧‘ رقم الحدیث : ١٥٢) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا مجھے ایک معزز خاندان کی خوبصورت عورت ملی ہے لیکن وہ بانجھ ہے کیا میں اس سے نکاح کرلوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ اس نے دوسری اور تیسری بار پوچھا آپ نے فرمایا (خاوند سے) محبت کرنے والی اور بچہ پیدا کرنے والی عورت سے نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے امتوں پر فضیلت حاصل کروں گا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٥٠‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٢٧‘ سنن ابی ماجہ رقم الحدیث : ١٨٦٣‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٥٤٨‘ ٣٥٤ ج ٤‘ ٣٤٩‘ ٣٥١) 

نکاح کی حکمتیں اور فوائد : 

(١) نکاح کے ذریعے نسل انسان کا فروغ ہوتا ہے انسان میں شہوت اس لیے رکھی گئی ہے کہ مذکر بیج کا اخراج کرے اور مونث کی کھیتی میں اس کی کاشت کرے ‘ اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کے بغیر بھی نسل انسانی کی افزائش کرسکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا تھا کہ اسباب کا مسببات پر ترتب ہو ‘ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی وجہ سے اولاد کی طلب کی کوشش کرے اور رسول اللہ سے محبت کی وجہ سے آپ کی امت کو بڑھانے کی کوشش کرے۔ 

(٢) نکاح کے ذریعہ اولاد کا حصول ہوتا ہے اور انسان کو نیک اولاد کی دعائیں حاصل ہوتی ہیں جو بعض اوقات اس کی بخشش کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ 

(٣) انسان اولاد کی اچھی تربیت کرکے ملک وملت کی تعمیر اور استحکام کے لیے افراد مہیا کرتا ہے۔ 

(٤) اولاد کی وجہ سے رسول اللہ کی سیرت کے اس حصہ پر عمل کا موقعہ ملتا ہے جس کا تعلق اولاد سے ہے۔ 

(٥) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جن احکام کا تعلق اولاد سے ہے ان پر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

(٦) اولاد کی تربیت اور پرورش کرکے مسلمان اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا مظہر ہوجاتا ہے۔

(٧) جب انسان بوڑھا ہوجاتا ہے تو اولاد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔

(٨) بچوں کی وجہ سے انسان کا گھر میں دل بہلتا ہے انسان بیمار ہو تو بچے اس کی تیمار داری کرتے ہیں۔ 

(٩) بچوں کی کفالت کی وجہ سے انسان کے دل میں زیادہ سے زیادہ محنت کرنے اور کمانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس سے ملک وملت کی تعمیر اور ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

(١٠) بچوں کی وجہ سے انسان کے دل میں رحم اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ 

(١١) شادی شدہ شخص معاشرہ میں الگ تھلگ نہیں رہتا اور اس کی عزت اور توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی معاشرتی اور تمدنی زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

(١٢) اولاد کی شادی بیاہ کی وجہ سے نئی نئی رشتہ داریاں پیدا ہوتی ہیں 

(١٣) بچے اگر کم عمری میں فوت ہوجائیں تو وہ ماں باپ کی شفاعت کرتے ہیں اور ان کی مغفرت کا سبب بن جاتے ہیں۔ 

(١٤) ماں باپ کی تعلیم کی وجہ سے اولاد جو نیکیاں کرتی ہے ان کا اجر ماں باپ کو ملتا رہتا ہے۔ 

(١٥) بعض اوقات اولاد کی نیکیوں سے ماں باپ کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ 

(١٦) نکاح کے ذریعہ انسان کی شہوت کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور وہ شیطان کے شر سے محفوظ ہوجاتا ہے اس کی نظر پاکیزہ ہوجاتی ہے اور وہ بدکاریوں سے بچا رہتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نکاح کرتا ہے وہ اپنے نصف دین کو محفوظ کرلیتا ہے سو باقی نصف دین کو محفوظ کرنے کے لئے خدا سے ڈرنا چاہیے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٧٦٤٣) 

(١٧) انسان کو بیوی کے ذریعہ سکون ملتا ہے : 

(آیت) ” ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا لیسکن الیہا “۔ (الاعراف : ١٨٩) 

ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے۔ 

(١٨) نکاح کی وجہ سے انسان پر اس کی بیوی اور بچوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور ان کے حقوق و فرائض اس کے ساتھ متعلق ہوجاتے ہیں اور اس کی قوت عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

(١٩) انسان اپنے اہل اور عیال کی مصروف ہوتا ہے اور جو شخص صرف اپنی اصلاح میں منہمک ہو اس سے اس کا درجہ بہت زیادہ ہے جو اپنے اہل و عیال کی اصلاح میں بھی مشغول ہو۔ 

(٢٠) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اچھی طرح نماز پڑھتا ہو اس کے بچے زیادہ ہوں اور مال کم ہو اور وہ شخص مسلمانوں کی غیبت نہ کرتا ہو میں اور وہ جنت میں ایک ساتھ ہوں گے۔ (کنزالعمال ‘ رقم الحدیث : ٤٣٤٧٨) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب کسی شخص کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو بال بچوں کے غم میں مبتلا کردیتا ہے۔ (مسند احمدج ٢ ص ١٥٧) 

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی دو بیٹیوں یا دو بیٹیوں یا دو بہنوں یا اپنی دو رشتہ دار لڑکیوں پر خرچ کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انکو اپنے فضل سے غنی کردیا یا ان سے کفایت کردی تو وہ اس کے لئے دوزخ سے حجاب ہوجائیں گی۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ رقم الحدیث : ٣٩٢) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں سے فرمایا تم میں سے جو عورت تین نابالغ بچوں کی موت پر صبر کرے گی وہ اس کے لئے دوزخ سے حجاب بن جائیں گے ایک عورت نے پوچھا اور دو پر ؟ فرمایا دو پر۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٠١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٣٣‘ جامع ترمذی رقم الحدیث : ١٠٥٩‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٨٧٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٠٥‘ مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥‘ ٤٢٩‘ ٤٥١‘ ج ٢ ص ٢٧٦)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 2

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.