کتابت ، ضبط صدر اور عمل کے ذریعہ حفاظت حدیث

کتابت ، ضبط صدر اور عمل کے ذریعہ حفاظت حدیث

ہم ان تمام مثالوں سے بتانا صرف یہ چاہتے ہیں کہ کتابت کی صورت میں کسی علم کے منتقل ہوجانے کے بعد کیا شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی ؟ اورکیا غلطیوں سے بالکل یہ حفاظت وصیانت ہوہی جاتی ہے ۔دیکھئے یہاں تومعاملہ برعکس ہے ۔ وجہ وہی ہے کہ کتابت کو سب کچھ سمجھا گیا ،اگر حفظ واتقان سے کام نہ لیا جاتا تو ان صریح غلطیوں کی نشاندھی کیسے ہوتی ۔چونکہ کتابت کے پس پشت حفظ وضبط کاپورا اہتمام رکھا گیاتھا جسکی مدد سے محدثین نے بروقت گرفتیں کیں اورآئندہ لوگوں کو متنبہ کردیا کہ غلطی میں نہ پڑیں ۔

لہذا انصاف ودیانت کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں طریقوں کو موثر مانا جائے اسکے بعد اگر روایت میں کوتاہی ہوتو کتابت کی مدد سے اسکی تلافی ہوجائے اور کتابت میں غلطی ہوتو روایت کی پشت پناہی سے صحت کابھر پور اہتمام ہوتارہے ۔

ہمارامقصد بھی صرف یہ ہی بتاناہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دونوں طریقوں سے احادیث نبویہ کی حفاظت فرمائی ،بلکہ تیسرا طریقہ عمل وکردار بھی تھا جومذکورہ دونوں طریقوں سے زیادہ موثر اورمجموعی طور پر سنت رسول کی اشاعت کیلئے زیادہ ہمہ گیر ثابت ہوا ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.