اہل عرب کا حافظہ ضرب المثل تھا

اہل عرب کا حافظہ ضرب المثل تھا

ویسے اگر تعمق نظر سے کام لیاجائے تویہ بات کوئی لاینحل نہیں کہ اگر صحابہ کرام حفاظت حدیث کا اہتمام صرف حفظ واتقان کے ذریعہ ہی کرتے توبھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہتے۔

اہل عرب کے حالات وکوائف سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ انکے حافظے ضرب المثل تھے ،شعراء جاہلیت کے ادبی کارنامے اورقصائد ودیوان آج بھی ایک مستند ذخیرہ سمجھے جاتے ہیں ۔ کون کہہ سکتا ہے کہ انکو ایام جاہلیت ہی میں کتابت کے ذریعہ مکمل طور پر محفوظ کرلیا گیا تھا ، اپنے آبائو اجداد کے شجر ہائے نسب انکو زبانی یاد رہتے ،واقعات کے تسلسل کو زبانی یاد رکھنا ان کا خاص حصہ تھا ،زبان وبیان میں مہارت آبائی ورثہ خیال کی جاتی تھی ۔

حافظ عمربن عبدالبر لکھتے ہیں ۔

کان احدھم یحفظ اشعار بعض فی سمعۃ واحدۃ۔ (جامع بیان العلم،)

ان میں بعض لوگ صرف ایک مرتبہ سنکر لوگوں کے اشعار یاد کرلیتے تھے ۔

مزید لکھتے ہیں ۔

مذہب العرب انہم کانوا مطبوعین علی الحفظ مخصوصین لذلک۔ (جامع بیان العلم،)

اہل عرب کی عام عادت تھی کہ وہ چیزوں کوزبانی یاد رکھتے اور اس سلسلہ میں انکو خاص امتیاز حاصل تھا ۔

عرب کا بدو کتابوں کا طومار دیکھ کر مذاق اڑاتااور یہ فقرہ اس پر کس دیتا تھا ۔

حرف فی تامورک خیرمن عشرۃ فی کتبک ۔

تیرے دل میں ایک حرف کا محفوظ ہونا کتابوں کی دس باتوںسے بہتر ہے ۔

محض کتابوں کے علم کی انکے یہاں کوئی حیثیت نہیں تھی ،ایک شاعر کہتاہے ۔

لیس بعلم ماحوی القمطر ۔ ماالعلم الاماحوی الصدر ۔

جو کتابوں میں درج ہے وہ علم نہیں ،علم توصرف وہ ہے جوسینہ میں محفوظ ہے

دوسراشاعر کہتاہے

استودع العلم ترسا فضییعہ ۔ وبئس مستودع العلم قراطیس۔

جس نے علم کا غذ کے سپرد کیا گویا اس نے ضائع کردیا ،کیونکہ علم کا نہایت برامدفن کاغذ ہیں ۔

تیسرا کہتاہے :۔

علمی معی حیث مایممت احملہ ۔بطنی وعاء لہ لابطن صندوق۔

میں جہاں جاتاہوں میراعلم میرے ساتھ ہوتاہے ،میراباطن اسکا محافظ ہے نہ کہ شکم صندوق ۔

ایک شاعر یوں کہتا ہے:۔

ان کنت فی البیت کان العلم فیہ معی

اذا کنت فی السوق کان العلم فی السوق

اگر گھر میں رہتاہوں تو علم میرے ساتھ ہے ، اور بازار جائوں توبھی وہ میرے ساتھ جاتاہے ۔

ان اشعار سے بخوبی انکے طبعی رجحان کا پتہ چلتاہے ،کہ وہ لوگ علم کو کتابت سے مقید رکھنے کے عادی نہ تھے ،اوربات بھی یہ ہے کہ آدمی کی جس ماحول میں نشوونما ہوتی ہے وہ اسی کا خوگر بنتاہے ،اور جس قوت سے زیادہ کام لیاجائے اسی میں جلا ا ور وسعت پیدا ہوتی ہے ۔ اقوام عالم میں آپ مختلف قسم کی صلا حیتوں اور خصوصی میدانوں میں مہارتوں کے مناظر جوآئے دن دیکھتے ہیں وہ اسی ماحول کا اثر ہوتا ہے جوانکا ملی وقومی وراثتاً جلاآ رہا ہوتا ہے ۔ فنون سپر گری میں جس طرح اہل عرب یدطولیٰ رکھتے تھے اسی طرح انکے بارے میں یہ بھی مشہور ہے ۔

ان العرب قد خصت بالحفظ۔

اہل عرب قوت حفظ میںخاص امتیازی شان کے حامل تھے ۔

آفتاب اسلام نے طلوع ہوکر صفائے باطنی کی دولت سے سرفراز کیا تو انکی اس خصوصیت میں اضافہ ہی ہوا ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں مشہور ہے کہ انکے سامنے عمرو بن ربیعہ شاعر نے ستر اشعار کا طویل قصیدہ پڑھا ،شاعر توچلا گیالیکن مجلس میں اشعار سے متعلق گفتگو چلی ،ایک شعر سناتے ہوئے حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس نے یوں پڑھا تھا ، لوگوں نے کہا : آپ نے شعر ایک مرتبہ سنکر ہی یاد کر لیا ، آپ نے فرمایا: یہ ہی کیا کہو تو پورا قصیدہ سنادوں اورپھر پورا قصیدہ سنادیا ۔

امام زہری جنکا کارنامہ تدوین حدیث میں امتیازی شان رکھتا ہے فرماتے ہیں ۔

انی لامربالبقیع فاسد اذنی مخافۃ ان یدخل فیھا شیٔ من الخنا ، فواللہ مادخل اذنی شیٔ قط فنسیتہ۔(جامع بیان العلم لا بن عبد ا البر،)

میں بقیع کے راستہ سے گذرتا ہوں تواپنے کانوں کو بند کرلیتا ہوں کہ کہیں کوئی فحش بات میرے کان میں داخل نہ ہوجائے ،کیونکہ قسم بخدامیرے کان میں جوبات بھی پڑی پھرمیں اسے کبھی نہیں بھولا ۔

امام عامرشعبی جنہوں نے پانچسو صحابہ کرام کا زمانہ پایا ، علم حدیث میں حفظ واتقان کا یہ عالم کہ فرماتے تھے ،بیس سال ہوئے میرے کانوں میں کوئی ایسی حدیث نہ پڑی جسکا علم مجھے اس سے زیادہ نہ ہو ۔بآں جلالت علم ارشاد فرمایا:۔

ماکتبت سوداء فی بیضاء ،وما استعدت حدیثا من النسیان۔ (الطبقات الکبری لا بن سعد،)

میں نے کبھی سیاہی سے سفیدی پر نہ لکھا ،اور نسیان کے خوف کی وجہ سے میں نے کبھی کسی کی بات نہ دہرائی ۔

بہر حال عربوں کا حفظ وضبط اتنا نظری مسئلہ نہیں کہ اس پر مزید شہادتیں پیش کی جائیں ، منصف کیلئے یہ بہت کچھ ہیں اور علم وفن سے تعلق رکھنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ان حضرات کا عام مذاق علمی تھا جس سے کام لیکر انہوں نے علوم ومعارف کے دریابہائے جنکا منہ بولتا ثبوت آج کا سرمایہ علم وفن ہے ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.