شرمگاہ دھولیں اور وضو کرلیں

حدیث نمبر :290

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں بہت مذی والا تھا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے بھی شرماتا تھا آپ کی صاحبزادی کی وجہ سے ۱؎ تو میں نے مقداد سے کہاانہوں نے حضور سے پوچھا تو فرمایا کہ شرمگاہ دھولیں اور وضو کرلیں۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ شہوت کے وقت جو پتلا لیسدار پانی نکلتا ہے وہ مذی ہے۔پیشاب کے بعد جو سفید قطرہ آجاتا ہے وہ ودی کہلاتاہے۔ان دونوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے نہ کہ غسل۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بزرگوں سے حیاو غیرت کرنا کمال ایمان کی دولت ہے،ہاں حیا کی وجہ سے مسئلہ ہی نہ پوچھنا،بے علم رہنا گناہ ہے۔علی مرتضی نے مسئلہ بھی معلوم کرلیا اور حیاء بھی قائم رکھی۔

۲؎ یعنی اس کا حکم پیشاب کا سا ہے کہ نجاست حکمی بھی ہے اور حقیقی بھی۔خیال رہے کہ اگر مذی وغیرہ سے روپے برابر جگہ لتھڑ جائے تو پانی سے استنجاکرناواجب ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.