وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ ‌ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 3

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ ‌ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا

ترجمہ:

اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرسکو گے تو تمہیں جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو ‘ دو ، دو سے تین تین سے اور چار چار سے ‘ پس اگر تمہیں یہ خدشہ ہو کہ تم (ان میں) عدل نہ کرسکو گے تو (صرف) ایک سے نکاح کرو ‘ یا اپنی مملوکہ کنیزوں سے استمتعاع کرو یہ اس سے زیادہ قریب (بہ صحت) ہے کہ تم کسی ایک کی طرف جھک جاؤ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرسکو گے تو تمہیں جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو۔ 

بعض لوگوں کی سرپرستی اور ولایت میں یتیم لڑکیاں ہوتی تھیں وہ لڑکی اس کے مال میں شریک ہوتی تھی اس کا سرپرست اس سے شادی کرنا چاہتا لیکن اس کو پورا مہر نہیں دینا چاہتا تھا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا اے بھتیجے ایک سرپرست کے زیرپرورش ایک یتیم لڑکی ہوتی جو اس کے مال میں شریک ہوتی۔ اس شخص کو اس لڑکی کا مال اور اس کا حسن و جمال پسند آتا وہ اس کے مہر میں عدل و انصاف کئے بغیر اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا اور اس لڑکی کو جتنا مہر دوسرے لوگ دیتے اس سے کم مہر دینا چاہتا تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا حتی کہ وہ ان کے مہر میں عدل و انصاف کریں اور رواج کے مطابق ان جیسی لڑکیوں کو جتنا مہر ملتا ہے اتنا مہران کو دیں۔ (اور اگر وہ ایسا نہ کریں) تو ان یتیم لڑکیوں کے سوا اور لڑکیاں جو ان کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلیں۔ (صحیح البخاری : رقم الحدیث : ٢٤٩٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٠١٨‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٠٦٨ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٣٤٦) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ لڑکی سے نکاح جائز ہے کیونکہ یتیم نابالغ کو کہتے ہیں اور لڑکیوں کو رواج کے مطابق مہردینا چاہیے اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لڑکیاں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو اور لفظ ” ما “ عام ہے ‘ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جواز نکاح کے لیے کفو کی شرط لگانا غلط ہے اور سیدہ کا غیر سید سے نکاح کرنا جائز ہے اس پر حسب ذیل دلائل ہیں :

غیر کفو میں نکاح کے جواز پر احادیث :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کو وہ شخص نکاح کا پیغام دے جس کے دین اور اس کے خلق پر تم راضی ہو تو اس سے تم (اپنی لڑکی کا) نکاح کردو اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو زمین میں فتنہ ہوگا اور بہت بڑا فساد ہوگا۔ 

(الجامع الصحیح ‘ رقم الحدیث : ١٠٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٩٦٧‘ سنن کبری ج ٧ ص ٨٢‘ المستدرک ج ٢ ص ١٦٤‘ مراسیل ابو داؤد ص ١١ کنز العمال ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٩٥‘ مصابیح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٢٢٩٥)

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ نے اس حدیث کو کچھ اضافہ کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

یحیی بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس وہ شخص آئے جسکی امانت اور خلق پر تم راضی ہو تو اس کے ساتھ نکاح کردو خواہ وہ کوئی شخص ہو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ ہوگا اور بہت بڑا فساد ہوگا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠٣٢٥‘ ج ٦ ص ١٥٣۔ ١٥٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) روایت کرتی ہیں کہ حضرت ابو عمرو بن حفص (رض) نے مجھے طلاق دے دی اور آں حالیکہ وہ غائب تھے۔ انکے وکیل نے حضرت فاطمہ (رض) کے پاس کچھ جو، بھیجے وہ ناراض ہوگئیں وکیل نے کہا بہ خدا تمہارا ہم پر اور کوئی حق نہیں ہے ‘ حضرت فاطمہ (رض) رسول اللہ کے پاس گئیں اور یہ واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا تمہارا اس پر کوئی نفقہ واجب نہیں ہے پھر آپ نے انہیں حکم دیا کہ کہ وہ ام شریک کے گھر عدت گزاریں ‘ پھر فرمایا ان کے ہاں تو میرے اصحاب آتے ہیں تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو کیونکہ وہ ایک نابینا شخص ہے تم آرام سے اپنے کپڑے رکھ سکوگی اور جب تمہاری عدت پوری ہوجائے تو مجھے خبر دینا وہ کہتی ہیں کہ جب میری عدت پوری ہوئی تو میں نے آپ کو بتایا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت ابو جہم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابو جہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی اتارتا ہی نہیں اور رہے معاویہ تو وہ مفلس آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے ‘ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ‘ میں نے انکوناپسند کیا آپ نے پھر فرمایا اسامہ سے نکاح کرلو ‘ میں نے ان سے نکاح کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے اس نکاح میں بہت کی اور عورتیں مجھ پر رشک کرتی تھیں۔ 

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٨٠‘ جامع ترمذی رقم الحدیث : ١١٣٥‘ سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢٢٨٤‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٤١٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٦٩‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٢٣٤ مسند احمدج ٦ ص ٤١٢) 

حضرت فاطمہ بنت قیس قریش کے ایک معزز گھرانے کی خاتون تھیں۔ حضرت اسامہ بن زید (رض) غلام زادے تھے ان کے کفو نہ تھے ‘ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نکاح کر کے یہ واضح کردیا کہ غیر کفو میں بھی نکاح جائز ہے اور بسا اوقات اس میں بڑی خیر ہوتی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ بن عبد الشمس کے بیٹے ابو حذیفہ جنگ بدر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تھے ‘ حضرت ابو حذیفہ (رض) نے سالم کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا ‘ سالم ایک انصاری عورت کے غلام تھے ‘ حضرت ابو حذیفہ نے سالم کے ساتھ اپنی سگی بھتیجی ہند بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ کا نکاح کردیا تھا۔ (صحح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٠٨٨ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٨٠‘ مصنف عبدالرزاق ج ٦ ص ١٥٥‘ سنن کبری بیہقی ج ٧ ص ١٣٧) 

اس حدیث میں بھی یہ مذکور ہے ایک آزاد قرشیہ کا نکاح ایک غلام سے کیا گیا۔ 

ان احادیث میں تصریح ہے کہ نکاح کے جواز کے لئے نصب میں کفو اور مساوات اور مماثلت کی شرط لگانا ازروئے اسلام صحیح نہیں ہے۔ 

کفو میں نکاح کی شرط کے متعلق مذاہب اربعہ : 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ حامد آفندی حنفی سے سوال کیا گیا کہ ایک ہاشمی شخص نے دانستہ اپنی مرضی سے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح ایک غیر ہاشمی شخص سے کردیا آیا یہ نکاح صحیح ہے ؟ جواب ہاں اس صورت میں نکاح صحیح ہے۔ (تنقبح الفتاوی الحامدیہ ج ١ ص ٢١‘ مطبوعہ کوئٹہ) 

افضل اور انسب یہی ہے کہ کفو میں یعنی ایک جیسے خاندانوں میں نکاح کیا جائے تاکہ شوہر اور اس کی زوجہ کے درمیان ذہنی یگانگت رہے اور خاندان کی ناہمواری کی وجہ سے ازدواجی زندگی میں تلخیاں پیدا نہ ہوں تاہم اگر کسی وقت کسی احمد کے نزدیک اس مسئلہ میں دو قول ہیں ایک قول کے مطابق کفو شرط ہے اور دوسرے کے مطابق کفو شرط نہیں ہے۔ (مغنی ابن قدامہ ج ٧ ص ٢٦) امام مالک کے نزدیک جواز نکاح کے لئے کفو شرط نہیں ہے (المدونۃ الکبری ج ٢ ص ١٤٥۔ ١٤٤) 

امام شافعی کے نزدیک غیر کفو میں نکاح جائز ہے۔ (کتاب الام ج ٥ ص ١٥‘ روضۃ الطالبین ج ٧ ص ٨٤) فقہاء احناف میں سے امام ابوبکر جصاص اور امام کرخی کے نزدیک کفو مطلقا شرط نہیں ہے اور جمہور فقہاء احناف کے نزدیک اگر لڑکی کے اولیاء (سرپرست) غیر کفو میں اس کی مرضی سے نکاح کردیں تو نکاح صحیح ہے اور اگر لڑکی خود غیر کفو میں نکاح کرے تو اس کے اولیاء کو اس نکاح پر اعتراض کا حق ہے اور عدالت سے یہ نکاح منسوخ کرا سکتے ہیں۔ (رد المختارج ٢ ص ٣١٨) 

اس مسئلہ میں زیادہ تفصیل جانبین کے دلائل اور بحث ونظر کے لئے شرح صحیح مسلم ج ٣ اور ج ٦ کا مطالعہ فرمائیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہیں جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو۔ دو دو سے ‘ تین تین سے اور چار چار سے۔ (النساء : ٣)

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جو شخص مالی اور جسمانی طور پر متعدد بیویاں رکھ سکتا ہے وہ بہ شرط عدل و انصاف چار بیویوں کو اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے اور اگر وہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہ کرسکے تو وہ صرف ایک بیوی کو نکاح میں رکھے۔ 

تعدد ازدواج پر اعتراض کے جوابات :

اسلام نے بہ شرط عدل چار عورتوں سے نکاح کی جو اجازت دی ہے اس پر مستشرقین اعتراض کرتے رہتے ہیں دوسری طرف کچھ آزاد خیال مسلمان ہیں جو اپنے آپکو اللہ اور رسول سے زیادہ حقوق انسانیت کا محافظ سمجھتے ہیں انہی لوگوں کے اثر سے پاکستان میں عائلی قوانین بنائے گئے اور بیوی کی اجازت کے بغیر مرد کے لئے دوسری شادی کرنا قانونا ممنوع قرار دے دیا گیا۔ سالہا سال سے تادم تحریر پاکستان میں یہ قانون نافذ ہے حالانکہ ملک کے تمام اہل فتوہ علماء اس قانون کو مسترد کرچکے ہیں۔ بعض معاشرتی مشکلات کے لئے تعددازدواج کی رخصت ایک معقول حل ہے اور اس کے بغیر اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ عورتوں کی اوسط پیدائش مردوں کی اوسط پیدائش سے زیادہ ہوتی ہے ہم فرض کرلیتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کی شرح پیدائش میں ایک اور دو کی نسبت ہے اب اگر ہر مرد صرف ایک عورت سے شادی کرے تو سوال یہ ہے کہ جو عورتیں بچ جائیں گی ان کے لیے کیا طریقہ تجویز کیا جائے گا اس مسئلہ کے حل کے صرف تین صورتیں ہیں۔ 

(ا) باقی ماندہ عورتیں تمام عمر شادی کے بغیر گزار دیں اور اپنی جنسی خواہش کبھی کسی مرد سے پوری نہ کریں۔ 

(ب) باقی عورتیں بغیر شادی کے ناجائز طریقہ سے اپنی خواہش پوری کریں۔ 

(ج) باقی عورتوں سے وہ مرد شادی کرلیں جو مالی اور جسمانی طور سے اس کے اہل ہوں۔ 

پہلی صورت فطرت کے خلاف ہے اور عام بشری طاقت سے باہر ہے۔ دوسری صورت دین اور قانون دونوں اعتبار سے ناجائز اور گناہ ہے اس لئے قابل عمل ‘ معروف ‘ فطری اور پسندیدہ صورت صرف تیسری صورت ہے جس کو اسلام نے پیش کیا ہے۔ 

دوسری دلیل یہ ہے کہ بالعموم مرد ساٹھ سال کی عمر تک جنسی عمل کا اہل اور تروتازہ رہتا ہے جب کہ عورت بالعموم دس بارہ بچے جن کر چالیس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد جنسی عمل کے لئے پرکشش یا اہل نہیں رہتی اب اگر صرف ایک بیوی سے نکاح کی اجازت ہو تو مرد اپنی زندگی کے بیس سال کیسے گزارے گا۔ اس کی بھی صرف تین صورتیں ہیں۔ 

(١) ان بیس سالوں میں مرد اپنی جنس خواہش کو بالکل پورا نہ کرے۔ 

(ب) اس عرصہ میں مرد ناجائز طریقہ سے اپنی خواہش پوری کرے۔ 

(ج) اس عرصہ کے لئے مرد دوسری عورت سے نکاح کرلیے۔ 

پہلی صورت غیر فطری ہے اور دوسری صورت غیر قانونی اور شرعی ہے اس لیے قابل عمل صرف تیسری صورت ہے۔ 

یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جگہ مرد اور عوت کی جسمانی اہلیت میں عمر کا یہی معیار ہو ‘ اس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے لیکن بعض صورتوں میں یہ مشکل بہرحال بیش آتی ہے اور تعدد ازدواج کے سوا اس کا اور کوئی معقول حل نہیں ہے۔

تیسری دلیل یہ ہے کہ بعض اوقات کسی شخص کی بیوی بانجھ ہوتی ہے جس سے اولاد نہیں ہوسکتی اور انسان اپنی نسل بڑھانے اور اپنا سلسلہ نسب آگے منتقل کرنے کے لیے طبعی طور پر اولاد کا خواہش مند ہوتا ہے اس مشکل کے حل کی بھی صرف دو صورتیں ہیں۔ 

(١) پہلی بیوی کو طلاق دے کر دوسری شادی کرلے۔ 

(ب) پہلی کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کرلے۔ 

اور عدل و انصاف کے مطابق اور انسانی ہمدردی کے نزدیک تر صرف صورت ہے جو اسلام کے تعدد ازواج کے اصول پر مبنی ہے کیونکہ جو عورت بانجھ ہو اس کو خود بھی اولاد کی پیاس ہوتی ہے اور شوہر کی اولاد سے بھی اس کی ایک گونہ تسکین ہوجاتی ہے۔ 

چوتھی دلیل یہ ہے کہ فرض کیجئے کہ کسی شخص کی بیوی ایک متعدی مرض میں مبتلا ہو یا اس کو کوئی ایسی بیماری ہو جس میں شفاء کی امید بالکل نہ ہو یا بہت کم ہو اور اس کا شوہر جوان اور صحت مند ہو۔ اب اس شخص کے سامنے صرف چار راستے ہیں۔ 

(ا) اس عورت کو طلاق دے دے۔

(ب) تمام عمر جنسی خواہش پوری نہ کرے۔ 

(ج) ناجائز طریقہ سے اپن جنسی خواہش پوری کرے۔ 

(د) وہ شخص دوسری شادی کرلے۔ عدل و انصاف اور انسانی ہمدردی کے اعتبار سے یہی صورت قابل عمل ہے۔ 

چار بیویوں پر اقتصار کی توجیہہ :

صاحب استطاعت کو چار بیویوں کی اجازت دینے میں یہ حکمت ہے کہ اگر اس کی صرف ایک یا دو بیویاں ہوں اور وہ دونوں ماہواری کے ایام میں ہوں اور اس کا خاوند صحت مند ‘ قوی اور توانا ہو تو اس کا نفسانی خواہش پر قابو پانا مشکل ہوگا اور جب اس کی چار بیویاں ہوں گی تو ایسا بہت کم اتفاق ہوگا کہ وہ چاروں بیک وقت حیض اور نفاس کے مسائل سے دو چار ہوں اور اگر چار سے زیادہ نکاح کی اجازت ہوتی تو اس بات کا خدشہ تھا کہ وہ ان کے حقوق ادا نہیں کرسکے گا اور بیویوں کے ساتھ بےانصافی ہوگی کیونکہ تمام بیویوں کے حقوق ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ قرآن مجید میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ” اگر تم کو یہ خوف ہو کہ تم ان میں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر صرف ایک عورت سے نکاح کرو “ بیویوں کی باری مقرر کرنے میں ‘ ان کے ساتھ جماع کرنے اور ان کے کھانے ‘ پینے ‘ کپڑوں اور رہائش میں مساوات کرنا عدل اور انصاف ہے اور اگر اس کو کسی ایک بیوی کے ساتھ زیادہ محبت اور دوسری سے کم ہو تو یہ عدل اور انصاف کے منافی نہیں ہے۔ اس لئے صرف چار بیویوں پر اکتفا کرنا عدل اور متوسط صورت ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت میں بیویوں کی تعداد کی کوئی حد معین نہیں تھی۔ تاہم اسلام میں ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت اسی شخص کے لئے ہے جو عدل و انصاف کے ساتھ انکے حقوق ادا کرسکے اور چار سے زیادہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ احادیث میں ہے کہ جن مسلمانوں نے پہلے چار سے زیادہ بیویاں رکھی ہوئی تھیں اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ان میں سے چار کو منتخب کرکے رکھ لیں اور باقی کو الگ کردیں۔ 

قبل از اسلام چار سے زیادہ کی ہوئی بیویوں کے متعلق احادیث :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے اور ان کی زمانہ جاہلیت میں دس بیویاں تھیں وہ بھی انکے ساتھ مسلمان ہوگئیں تو ان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ ان میں سے چار کو اختیار کرلیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٣١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٣) 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت قیس بن حارث (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب میں مسلمان ہوا تو میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں۔ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کو بیان کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان میں سے چار کو اختیار کرلو۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٢٤٢) 

قبل از اسلام سے زیادہ کی ہوئی بیویوں کے متعلق مذاہب ائمہ : 

حافظ زکی الدین منذری متوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان میں سے چار بیویوں کو اختیار کرلو ‘ اس حدیث کی ظاہری عبارت اس پر دلالت کرتی ہے کہ مرد کو اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جن کو چاہے رکھ لے۔ خواہ ان تمام بیویوں سے عقد واحد میں نکاح کیا ہو یا ہر بیوی سے الگ الگ عقد کیا ہو اور اور اس میں پہلی اور پچھلی کا امتیاز نہیں ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر کسی استثناء اس کی طرف اختیار مفوض کردیا ہے۔ 

امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد بن حنبل کا یہی مذہب ہے اور اسحاق بن راہویہ ‘ محمد بن الحسن اور حسن بصری سے بھی یہی منقول ہے۔ اس کے برخلاف امام ابو حنفیہ اور سفیان ثوری نے یہ کہا ہے کہ اگر ان سب سے عقد واحد میں نکاح کیا ہے تو تمام بیویوں کو اس سے الگ کردیا جائے گا اور اگر اس نے متعدد بیویوں سے یکے بعد دیگرے ترتیب سے نکاح کیا ہے تو علی الترتیب پہلی چار سے نکاح صحیح ہوگا اور چار سے زائد بیویوں کو اس سے الگ کردیا جائے گا۔ 

حافظ منذری فرماتے ہیں مذکور الصدر احادیث سے یہ معنی باطل ہوجاتا ہے کیونکہ ان احادیث کی رو سے یہ جائز ہے کہ جس کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں ہیں وہ ان میں سے کسی بھی چار بیویوں کو اختیار کرلے خواہ وہ پہلی ہوں یا پچھلی اور جو ائمہ یہ کہتے ہیں کہ نہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جن کے ساتھ ماضی میں نکاح صحیح تھا وہ اسلام لانے کے بعد نکاح میں برقرار رہیں تو ان پر یہ لازم آئے گا کہ ماضی میں جو نکاح بغیر گواہ اور ولی کی اجازت کے بغیر کئے گئے ہوں وہ بھی اسلام لانے کے بعد صحیح نہ ہوں اور نہ وہ نکاح صحیح ہوں جو پہلی خاوند کی عدت میں کئے گئے اور اگر یہ نکاح اس لئے صحیح قرار دیئے جائیں کہ یہ جاہلیت کے نکاح تھے اور اسلام لانے کے بعد وہ معاف ہوگئے تو اسی طرح متعدد ازواج کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے اور تقدیم اور تاخیر سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ اگر کسی نے جاہلیت میں اپنی ماں یا بہن سے نکاح کرلیا تو وہ بھی اسلام لانے کے بعد صحیح ہونا چاہیے کیونکہ ماں یا بہن ذوات میں سے ہیں وہ ہرحال میں ماں اور بہن ہی رہیں گی اس کے برخلاف کسی بیوی کا مقدم یا موخر ہونا اوصاف میں سے ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٣ ص ١٥٧۔ ١٥٥‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہاں امام اعظم کے مذہب پر اس حدیث کا جواب مشکل ہے کیونکہ ابن ہبیرہ نے یہ نقل کیا ہے کہ جو شخص مسلمان ہوا اور اس کے نکاح میں چار سے زیادہ عورتیں تھیں تو امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ اگر ان سب سے بیک وقت نکاح کیا ہے تو یہ نکاح باطل ہے اور اگر یکے بعد دیگرے نکاح کیا ہے تو پہلی چار کے ساتھ نکاح صحیح ہوگا اور باقی کے ساتھ نکاح باطل ہوگا ‘ اور ائمہ ثلاثہ نے حدیث کے مطابق یہ کہا ہے کہ اسلام لانے کے بعد اس کو اختیار ہوگا وہ ان میں سے جن چار کو چاہے اپنے نکاح میں رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے (روح المعانی ج ٤ ص ‘ ١٩٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

احادیث صحیحہ صریحہ کا اقوال ائمہ پر مقدم ہونا : 

اس مسئلہ میں بلکہ ہر مسئلہ میں ہمارا یہ موقف ہے کہ احادیث صحیحہ صریحہ ہر امام کے قول پر مقدم ہیں البتہ جس مسئلہ میں دو حدیثیں ہوں کسی امام نے ایک حدیث پر عمل کیا اور دوسرے امام نے دوسری حدیث پر عمل کیا تو ہم اسی حدیث پر عمل کریں گے جس پر ہمارے امام نے عمل کیا ہے اور اس کی وجوہ ترجیح بیان کریں گے جیسا کہ عنقریب مہر کی مقدار میں انشاء اللہ واضح ہوجائے گا ‘ اور جس مسئلہ پر بہ ظاہر قرآن مجید اور حدیث کا تعارض ہو ‘ اور ہمارے امام نے قرآن پر عمل کیا ہو ہم اس حدیث کو قرآن مجید کے مطابق کرکے اس کی توجیہہ کریں گے اور جس مسئلہ میں ایک طرف حدیث ہو اور دوسری طرف محض رائے اور قیاس ہو تو اس صورت میں ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ جب کسی مسئلہ میں حدیث صحیح مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے اور زیر بحث صورت ایسی ہی ہے اس لئے صحیح یہی ہے کہ اسلام لانے سے پہلے جس شخص کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ شخص اور اس کی تمام بیویاں ایک ساتھ مسلمان ہوجائیں تو اس شخص کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ ان میں سے جن چار کو چاہے رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے ‘ میں نے تقریبا بیس اکیس سال پہلے تذکرہ المحدثین میں اس کے خلاف لکھا تھا ‘ اس سے میں اب رجوع کرتا ہوں۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کا بیان :

تعدد ازدواج کی بحث میں مستشرقین کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گیارہ شادیاں کیں اور انکے نزدیک زیادہ شادیاں کرنا زیادہ نفسانی خواہشوں پر مبنی ہے ‘ نیز آپ نے تزویج کی زیادہ سے زیادہ حد چار بیویاں مقرر کی ہے پھر آپ کا یہ عمل خود آپ کے قول کے خلاف ہے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ (رض) سے شادی کی وہ ایک بیوہ خاتون تھیں پچاس سال کی عمر تک آپ نے حضرت سودہ (رض) سے نکاح کیا ‘ ہجرت سے دو سال پہلے ہی حضرت عائشہ (رض) سے نکاح ہوگیا تھا اور ہجرت کے ایک سال بعد ان کی رخصتی عمل میں آئی پھر واقعہ بدر کے دو سال بعد حضرت ام سلمہ سے نکاح ہوا ‘ ہجرت کے دو سال بعد حضرت حفصہ (رض) سے نکاح ہوا پھر ٣ ھ میں حضرت زینب بن جحش سے نکاح ہوا پھر ٥ ھ میں حضرت جویریہ سے نکاح ہوا پھر ٦ ھ میں حضرت ام حبیبہ سے نکاح ہوا۔ پھر ٧ ھ میں حضرت صفیہ سے نکاح ہوا پرھ میمونہ بنت الحارث پھر فاطمہ بنت سریح پھر زینب بنت خزیمہ پھر ہند بنت یزید پھر اسماء بنت النعمان پھر قتیلہ بنت الاشعث پھر شتاء بنت اسماء سے نکاح کیا۔ (سبل الہدی والرشاد ج ١١ ص ١٤٥) 

ابو طاہر نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت انس اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ خواتین سے نکاح کیا ‘ تیرہ ازواج کی رخصتی ہوئی اور آپ کے پاس گیارہ ازواج نکاح میں جمع ہوگئیں اور جس وقت آپ کا وصال ہوا اس وقت آپ کی نو ازواج تھیں 

مشہور یہ ہے کہ گیارہ ازواج کی رخصتی ہوئی اور دو میں اختلاف ہے ان گیارہ ازواج میں سے چھ قرشیہ تھیں چار غیر قرشیہ اور ایک بنو اسرائیل میں سے تھیں۔ 

جوچھ ازواج قرشیہ تھیں ان کی تفصیل یہ ہے : حضرت خدیجہ ‘ (رض) حضرت عائشہ (رض) حضرت حفصہ (رض) حضرت ام حبیبہ (رض) حضرت ام سلمہ (رض) ‘ حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) اور جو چار ازواج عربیہ غیر قریشہ تھیں وہ یہ ہیں : حضرت زینب بنت جحش (رض) حضرت میمونہ بنت الحارث ‘ (رض) حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) حضرت جویرہ بنت الحارث ‘ (رض) اور ایک بنو اسرائیل میں سے ہیں حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب (رض) ۔ 

تعددازواج کا آپکی خصوصیت ہونا : 

اس تفصیل سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا متعدد ازواج سے نکاح کرنا کسی نفسانی خواہش کی وجہ سے نہیں تھا کیونکہ نفسانی خواہش کا غلبہ زیادہ سے زیادہ بیس سے پچاس سال کی عمر تک ہوتا ہے اور آپ نے پچیس سال کی عمر میں ایک بال بچوں والی بیوہ خاتون سے نکاح کیا اور جب تک وہ زندہ رہیں آپ نے پچاس سال کی عمر تک دوسرا نکاح نہیں کیا اگر تعدد ازواج کی وجہ سے حظ نفسانی ہوتا تو آپ جوانی میں کسی حسین ‘ کم عمر اور کنواری لڑکی سے نکاح کرتے بلکہ ایسی متعدد لڑکیوں سے نکاح کرتے اور جب آپ نے ایسا نہیں کیا اور مکہ کی زندگی میں تریپن سال کی عمر تک آپ کے حرم میں صرف ایک زوجہ تھیں پہلے حضرت خدیجہ (رض) اور پھر حضرت سودہ (رض) کیونکہ حضرت عائشہ (رض) کی رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی اور مدینہ منورہ میں ہی آپ کے حرم میں متعدد ازواج آئیں جن میں سے حضرت عائشہ (رض) کے علاوہ باقی تمام ازواج معمر ‘ بیوہ یامطلقہ خواتین تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ازواج کا تعدد کسی حظ نفسانی پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ خانگی اور عائلی زندگی میں اسلام کے احکام روایت اور تبلیغ تھی اور زیادہ سے زیادہ خاندانوں کے ساتھ رشتہ قائم کرنا تھا تاکہ دین اسلام کی تبلیغ کے زیادہ مواقع میسر ہوں اور کئی مسلم خاندانوں کو رشتہ داری کا شرف عطا کرنا تھا اور کئی عیالدار خواتین سے نکاح کرکے سوتیلے بچوں کی پرورش اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اسوہ اور نمونہ مہیا کرنا تھا نیز یہ بتلانا تھا کہ عام مسلمان تو دو بیویوں کے درمیان بھی عدل اور انصاف قائم نہیں کر پاتے تو اسلام ہو ان کی سیرت کی عظمت پر جنہوں نے بیک وقت نو ازواج مطہرات کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھا اور یہ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل ہر شعبہ میں آپ کے قول سے بڑھ کر ہوتا ہے آپ نے زیادہ سے زیادہ چار بیویوں میں عدل کرنے کا حکم دیا اور خود نو بیویوں میں عدل کرکے دکھایا اور اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں عام افراد امت کے مساوی نہیں ہیں بلکہ احکام شرعیہ کے ہر شعبہ میں آپ کی انفرادیت اور خصوصیت ہے ‘ آپ کی نیند سے آپکا وضو نہیں ٹوٹتا آپ کے فضلات طیب و طاہر ہیں۔ نماز میں آپ قبلہ کی طرف منہ کرنے کے محتاج نہیں بلکہ قبلہ اپنے قبلہ ہونے میں آپ کی توجہ کا محتاج ہے ‘ آپ کا نماز پڑھنا اس لئے ہے کہ آپ اپنے رب سے راضی ہوں ‘ زکوۃ آپ پر فرض نہیں ‘ صدقات آپ کے لائق نہیں بلکہ قیامت تک آپ کی آل کے بھی لائق نہیں۔ نکاح میں آپ کے لئے تعدد کی شرط نہیں ‘ مہر مقرر کرنا آپ پر ضروری نہیں ‘ ازواج میں باریوں کی تقسیم بھی آپ پر واجب نہیں ‘ آپ کسی کو اپنے ترکہ کا وارث نہیں بناتے کیونکہ آپ زندہ ہیں اسی آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج کا کسی اور سے نکاح کرنا جائز نہیں ‘ سو جس طرح دیگر احکام شرعیہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کا امتیاز قائم رکھا ہے نکاح میں تعدد ازدوازج کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعددازدواج کی تفصیل وار حکمتیں :

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہلی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ بنت خویلد (رض) ہیں آپ کیساتھ نکاح سے پہلے حضرت خدیجہ عتیق بن عائذ کے نکاح میں تھیں ان سے ایک بیٹی ہند تھیں اس کے بعد انہوں نے ابو ہالہ مالک بن نباش کے ساتھ نکاح کیا اور ان سے ہند اور ہالہ نام کے دو بیٹے پیدا ہوئے (اسدالغابہ ج ٥ ص ٤٣٤) زمانہ جاہلیت میں حضرت خدیجہ (رض) کا لقب طاہرہ تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مضاربت پر ان کے مال سے تجارت کرتے تھے۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد حضرت خدیجہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امانت اور دیانت سے متاثر ہوئیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٢٥ سال کی عمر میں حضرت خدیجہ (رض) سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چالیس سال تھی۔ ہجرت سے چار یا پانچ پہلے حضرت خدیجہ (رض) کا انتقال ہوگیا۔ حضرت خدیجہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چار صاحبزادیاں حضرت زینب (رض) ‘ حضرت رقیہ ‘ حضرت ام کلثوم (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) پیدا ہوئیں۔ ان سب نے زمانہ اسلام پایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کی اور ایک صاحب زادے حضرت قاسم پیدا ہوئے، ایک اور صاحبزادہ حضرت ابراہیم ماریہ قبطیہ (رض) سے پیدا ہوئے۔ حضرت خدیجہ (رض) نبی کریم کے ساتھ چوبیس یا پچیس سال تک زندہ رہیں اور ان کی موجودگی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ حضرت خدیجہ (رض) سے آپ کا نکاح عام عادت اور فطرت کے مطابق ہوا اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اس کی حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمام اولاد امجاد حضرت خدیجہ (رض) سے ہی مقدر کردی تھی۔ 

(٢) حضرت عائشہ بنت صدیق (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری زوجہ ہیں۔ امام طبرانی اور احمد نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت خدیجہ (رض) فوت ہوگئیں تو حضرت عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئیں اور عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نکاح کیوں نہیں کرلیتے ؟ آپ نے فرمایا کس سے ؟ عرض کیا آپ چاہیں تو کنواری سے نکاح سے نکاح کرلیں اور چاہیں تو بیوہ سے کرلیں۔ کنواری عائشہ بنت ابی بکر ہیں اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہیں (رض) آپ نے فرمایا جاؤ ان دونوں سے میرا ذکر کرو۔ الحدیث۔ (مجمع الزوائد ج ٩ ص ٢٣١) ہجرت سے دو سال پہلے حضرت عائشہ (رض) سے نکاح ہوا اس وقت حضرت عائشہ (رض) کی عمر چھ سال تھی اور ہجرت کے ایک سال بعد حضرت عائشہ (رض) کی رخصتی ہوئی (صحاح ستہ) نوسال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہیں۔ اور سترہ رمضان منگل کی شب ٥٨ ہجری میں آپ کا وصال ہوگیا۔ مدینہ طیبہ میں وفات ہوئی۔ بقیع میں مدفون ہوئیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے نماز جنازہ پڑھائی۔ 

حضرت عائشہ (رض) سے عادت اور فطرت کے مطابق نکاح ہوا اور جب نکاح ہوا تو تعدد ازواج کا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور ان کے ساتھ نکاح کرنے میں حکمت یہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) جو آپ کے سب سے زیادہ معتمد صحابی تھے انکورشتہ کی فضیلت عطا کرنی تھی کہ وہ آپ کے خسر ہوگئے۔ جس طرح حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے ساتھ اپنی صاحبزادیوں کا نکاح کر کے آپ نے ان کو دامادی کی فضیلت عطا فرمائی اور کمسن اور کنواری لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کا نمونہ قائم کرنا تھا اور یہ بتلانا تھا کہ دوست اور ایمانی بھائی حقیقی بھائی نہیں ہوتا اور اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ 

(٣) آپ کی تیسری زوجہ حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) ہیں یہ بہت پہلے اسلام لا کر بیعت کرچکی تھیں۔ یہ آپ سے پہلے اپنے عمراد سکران بن عمرو کے نکاح میں تھیں۔ وہ حضرت سودہ (رض) کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔ ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی جب یہ دونوں مکہ میں آئے تو انکے خاوند فوت ہوگئے۔ جب ان کی عدت پوری ہوگئی تو حضرت عائشہ (رض) سے نکاح کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انک کو نکاح کا پیغام دیا پھر آپ نے نبوت کے آٹھویں یا دسویں سال ان سے نکاح کرلیا۔ حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد انکی رخصتی ہوئی تھی۔ حضرت عمر (رض) کی خلافت کے اخیر میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی۔ امام واقدی سے منقول ہے کہ حضرت معاویہ کی خلافت کے دوران چون (٥٤) ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔

ان سے نکاح کے وقت بھی تعدد ازواج کا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ حضرت خدیجہ کی وفات ہوچکی تھی اور حضرت عائشہ کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اور ان سے نکاح کرنے میں یہ حکمت تھی کہ یہ قریش اور اپنے اعزہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر حبشہ ہجرت کرگئی تھیں جب یہ حبشہ سے واپس آئیں تو انکے خاوند فوت ہوگئے اب اگر یہ اپنے عزیزوں میں لوٹ جاتیں تو وہ ان پر اور زیادہ ظلم وستم کرتے اور انکے دین کو آزمائش میں ڈال دیتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے حال پر ترس کھا کر ان سے عقد کرکے انکو اپنی حفاظت اور اپنی پناہ میں لے لیا اور انہیں ان کے اسلام اور ان کی ہجرت کی جزا دی۔ نیز اس میں آپکی سیرت کا یہ نمونہ ہے کہ کسی بےسہارا بیوہ عورت سے نکاح کرکے اپنی حفاظت میں لے لینا آپ کی سنت اور آپ کی پاکیزہ سیرت ہے۔ ہجرت کے ایک سال بعد آپ کی دو بیویاں حضرت عائشہ اور حضرت سودہ آپ کے پاس جمع ہوگئیں اور اسی وقت تعدد ازواج کی ابتداء ہوئی اس وقت آپ کی عمر شریف ٥٤ سال تھی۔ 

(٤) آپ کی چوتھی زوجہ حضرت حفصہ بنت عمر بن الخطاب (رض) ہیں یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں۔ یہ پہلے حضرت خنیس بن حذافہ (رض) کے نکاح میں تھیں۔ امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے تھے بدر میں حاضر ہوئے اور مدینہ میں فوت ہوگئے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥١٢٢) ہجرت کے تیس ماہ بعد شعبان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے نکاح کرلیا۔ شعبان ٤٥ ھ میں مدینہ منورہ میں آپ کی وفات ہوئی مروان بن الحکم نے آپکی نماز جنازہ پڑھائی۔ 

ان سے نکاح کا سبب حضرت عمر کی دلداری تھا اور انکو اپنے رشتہ کی فضیلت عطا کرنا تھا جیسا کہ ہم نے حضرت عائشہ (رض) کے سلسلہ میں بیان کیا ہے۔ 

(٥) آپ کی پانچویں زوجہ حضرت زینب بنت خزیمہ ہیں ان کا لقب ام المساکین تھا کیونکہ یہ بہت زیادہ صدقہ اور خیرات کرتی تھیں۔ یہ پہلے حضرت عبداللہ بن جحش (رض) کے نکاح میں تھیں اور جنگ احد میں شہید ہوگئے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ پہلے طفیل بن حارث کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان کو طلاق دے دی پھر ان کے بھائی عبیدہ بن الحارث نے ان سے نکاح کرلیا وہ جنگ بدر میں شہید ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے اکتیس ماہ بعد ان سے نکاح کیا تھا۔ یہ نکاح حضرت حفصہ سے نکاح کے بعد ہوا تھا۔ ابن اثیر نے ذکر کیا ہے کہ حضرت زینب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو یا تین ماہ رہیں۔ اس کے بعد فوت ہوگئیں۔ حضرت زینب چونکہ دوسروں کا سہارا بنی تھیں اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بیوہ ہونے کے بعد ان کو بےسہارا نہیں چھوڑا ان سے نکاح کرنے کی حکمت یہ تھی کہ یہ بہت صدقہ و خیرات کرتی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اس نیکی کے صلہ میں ان کو شرف زوجیت بخشا۔ 

(٦) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چھٹی زوجہ حضرت ام سلمہ عاتکہ بنت عامر (رض) ہیں۔ ان کے پہلے شوہر ابو سلمہ بن عبدالاسد تھے۔ انہوں نے اور ان کے شوہر نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ ان سے سلمہ ‘ عمر ‘ رقیہ اور زینب چار بچے پیدا ہوئے۔ حضرت ابو سلمہ (رض) ٤ ھ میں فوت ہوگئے تھے ‘ عدت پوری ہونے کے بعد شوال چار ہجری میں ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کرلیا۔

امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ جس مسلمان کو وہ مصیبت پہنچے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقدر کی اور وہ یہ دعا کرے ہم اللہ کے لیے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ مجھ کو اس مصیبت میں اجر دے اور اس کے بعد مجھے اس اچھی چیز عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے اچھی چیز عطا فرمائے گا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩١٨) نیز امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ نے فرمایا میں سوچتی تھی میرے لئے ابو سلمہ سے اچھا کون ہوگا ؟ مجھے پہلے حضرت ابوبکر نے نکاح کا پیغام دیا میں نے انکار کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے کہا مرحبا ! اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا شوہر بنادیا۔ میں نے اپنے بچوں کا عذر پیش کیا تو آپ نے فرمایا اللہ تم کو ان سے مستغنی کر دے گا۔ الحدیث۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩١٨) 

یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں ٦١ ھ یا ٦٢ ھ میں چوراسی سال کی عمر گزار کر حضرت ام سلمہ (رض) کی وفات ہوئی۔ امام طبرانی نے سند معتمد کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد آپ کی ازواج میں سے سب سے پہلے حضرت زینب بنت جحش کی وفات ہوئی اور سب سے آخر میں حضرت ام سلمہ کی وفات ہوئی۔ 

حضرت ام سلمہ (رض) سے نکاح کی یہ حکمت تھی کہ انہوں نے دعا کی تھی اے اللہ ! مجھے ابو سلمہ سے بہتر شوہر عطا فرما۔ آپ کے ساتھ نکاح کرنے سے انکی دعا کی قبولیت کا اثر ظاہر ہوا نیز بچوں والی بیوہ عورت سے نکاح کرنا اور اس کے بچوں کی پرورش کرنا آپ کی سنت اور آپ کا اسوہ قرار پایا۔ 

(٧) آپ کی ساتویں زوجہ حضرت زینب بنت جحش (رض) ہیں یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی امیمہ کی بیٹی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت زید بن حارثہ (رض) کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تو آپ نے حضرت زینب بنت جحش سے ان کا نکاح کردیا۔ حضرت زید آزادہ کردہ غلام تھے اور حضرت زینب آزاد اور بنو اسد کے معزز گھرانے سے تھیں اس وجہ سے ان میں ناچاقی رہتی تھی۔ حضرت زید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی شکایتیں کرتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کا نکاح آپ سے کر دے گا لیکن آپ کو یہ پریشانی تھی کہ عرب منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار دیتے ہیں اور بیٹے کی بیوی سے نکاح ممنوع ہے تو وہ اس نکاح کی وجہ سے آپ کی نبوت پر طعن کریں گے اور اس سے آپ کی تبلیغ پر اثر پڑے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ نکاح ہو اور یہ معلوم ہوجائے کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا اور اس کی بیوی سے انقطاع نکاح کے بعد نکاح کرنا جائز ہے تاکہ مسلمانوں پر اس نکاح میں تنگی نہ ہو۔ بالآخر حضرت زید بن حارثہ (رض) نے تنگ آکر حضرت زینب کو طلاق دے دی اور عدت پوری ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے زوجنکھا نازل فرما کر آپ کا حضرت زینب سے خود نکاح کردیا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بغیر کسی عقد کے حضرت زینب آپ کی زوجہ ہوگئیں۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : 

(آیت) ” واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ فلما قضی زید منھا وطرا زوجنکھا لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیآئھم اذا قضوا منھن وطرا وکان امر اللہ مفعولا۔ (الاحزاب : ٣٧) 

ترجمہ : اور جب آپ اس شخص سے فرماتے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے (بھی) اس انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور اللہ سے ڈرو ‘ اور آپ اپنے دل میں اس چیز (حضرت زینب سے نکاح) کو چھپاتے تھے جسے اللہ ظاہر فرمانے والا تھا اور آپ لوگوں (کے اس اعتراض کہ بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرلیا) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں اور جب زید نے (ان کو طلاق دے کر) اپنی غرض پوری کرلی تو ہم نے (عدت کے بعد) آپ کا اس سے نکاح کردیا تاکہ (اس کے بعد) مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے جب وہ (طلاق دے کر) ان سے بےغرض ہوجائیں ‘ اور اللہ کا حکم ضرور ہو کر رہتا ہے۔ 

٣ ہجری میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح کردیا ایک قول ٤ ہجری کا ہے اور ایک قول ٥ ہجری کا ہے۔ اس وقت حضرت زینب کی عمر پینتیس سال تھی۔ حضرت زینب دیگر ازواج سے فخر سے کہتی تھیں کہ تمہارا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح تمہارے اہل نے کیا ہے اور میرا آپ سے نکاح اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ 

امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت زینب بنت جحش کی وفات حضرت عمر (رض) کی دور خلافت میں ٢٠ ھ میں ہوئی اور حضرت عمر (رض) نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اس وقت آپ کی عمر تریپن سال تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد ازواج مطہرات میں سب سے پہلے آپ کی وفات ہوئی تھی۔ 

حضرت زینب (رض) سے نکاح کرنے کی سب سے بڑی حکمت یہ تھی کہ آپ کی سیرت میں یہ نمونہ ہو کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ 

(٨) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آٹھویں زوجہ محترمہ حضرت جویرہ بنت الحارث ہیں آپ پہلے مسافع بن صفوان کے نکاح میں تھیں جو حالت کفر میں قتل کئے گئے تھے۔ ٦ ھ غزوہ بنو المصطلق کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے نکاح کیا۔ 

امام احمد نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو المصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا تو حضرت جویرہ ثابت بن قیس بن شماس کے حصہ میں آئیں۔ (یہ غزوہ بنو المصطلق میں گرفتار کرکے باندی بنا لی گئی تھیں) انہوں نے نواواق چاندی (ایک اوقیہ ٤٠ درہم کا ہوتا ہے) پر ان کو مکاتب کردیا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا یا رسول اللہ ! میں جویرہ بنت الحارث ہوں۔ حارث اپنی قوم کا سردار تھا آپ کو معلوم ہے مجھے باندی بنا لیا گیا ہے۔ آپ میری مکاتبت کی رقم ادا کر کے مجھے آزاد کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا میں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں۔ کہا ہاں ! فرمایا میں تمہاری رقم ادا کر کے تم سے نکاح کرلوں، وہ راضی ہوگئیں۔ جب مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا کہ بنو المصطلق تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسرال والے ہیں ہم ان کو کیسے غلام بنائے رکھیں تو سب مسلمانوں نے اپنے اپنے حصہ کے غلام آزاد کردیئے اور بنو المصطلق کے سو (١٠٠) نفوس آزاد کردیئے گئے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا میں نے کسی اور عورت کو نہیں دیکھا جو اپنی قوم لیے اتنی برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٢٧٧) 

حضرت ام المومنین جویرہ (رض) ٧٠ سال کی عمر گزار کر ربیع الاول ٥٠ ھ میں مدینہ میں فوت ہوئیں۔ مروان بن الحکم نے آپ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ 

حضرت جویرہ (رض) سے نکاح کرنے کی حکمت یہ تھی کہ اس نکاح کی وجہ سے بنو المصطلق کے سو نفوس آزاد کردیئے گئے اور آپ کی زندگی میں ایک باندی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرنے کا نمونہ حاصل ہوا۔ 

(٩) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نویں زوجہ حضرت صفیہ بنت حی بنت اخطب ہیں یہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کے والد بنو النضیر کے سردار تھے۔ ان کے پہلے خاوند قتل کردیئے گئے تھے۔ فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح کیا یہ سات ہجری کا واقعہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اول وقت میں صبح کی نماز پڑھی پھر آپ نے سوار ہو کر کہا اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوگیا۔ ہم جب کسی قوم کے علاقہ پر حملہ آور ہوتے ہیں تو جن کو پہلے ڈرایا جا چکا ہے ان کی کیسی بری صبح ہوتی ہے۔ یہودی اپنی گلیوں سے نکلے اور کہنے لگے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر کے ساتھ آئے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر غالب آگئے۔ ان کے جنگ جو مردوں کو قتل کردیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا گیا۔ حضرت دحیہ (رض) نے کہا یا رسول اللہ مجھے قیدیوں میں سے ایک لڑکی دیجئے۔ آپ نے فرمایا ایک لڑکی لے لو تو انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی کو لے لیا پھر ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے دحیہ کو حضرت صفیہ بنت حیی عطا کردی جو قریظہ اور نضیر کی سردار ہیں وہ آپ کے سوا اور کسی کے لائق نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا صفیہ کو لاؤ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکو دیکھا تو آپ نے حضرت دحیہ سے (فتنہ فرو کرنے کے لئے) فرمایا قیدیوں میں سے اس کے سوا کوئی اور باندی لے لو۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صفیہ کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا۔ ثابت نے حضرت انس (رض) سے پوچھا ان کا مہر کتنا تھا ؟ حضرت انس (رض) نے کہا ان کو آزاد کرنا ہی ان کا مہر تھا۔ حضرت ام سلیم نے کا بناؤ سنگھار کر کے راستہ میں قیام کی ایک جگہ پر رات کو انہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بطور عروس کے صبح کی پھر آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کھانے پینے کی چیز ہو لے آئے پھر چمڑے کا دستر خوان بچھایا گیا کوئی کھجوریں لایا کوئی ستو کوئی گھی پھر اس کا ایک طعام بنایا گیا اور یہ رسول اللہ کی طرف سے ولیمہ تھا۔ (صحیح بخاری : ٩٤٧‘ ٣٧١ صحیح مسلم : ١٣٥٦‘ سنن ابو داؤد : ٢٠٥٤‘ سنن ترمذی : ١١١٥ فی نسخۃ۔ ١١١٨‘ سنن نسائی : ٣٣٤٢‘ سنن ابن ماجہ : ١٩٥٧‘ مسند : ج ٣ ص ١٠٢‘ تحفہ الاشراف : ٢٩١) 

حضرت صفیہ رمضان المبارک ٥٠ یا ٥٢ میں فوت ہوئیں اور بقیع میں مدفون ہوئیں۔ 

حضرت صفیہ (رض) سے نکاح کرنے میں یہ حکمت تھی کہ اگر وہ کسی اور کے حصہ میں آتیں تو فتنہ اور نزاع پیدا ہوتا کیونکہ وہ نبی زادی تھیں قریظہ اور نضیر کی سردار تھیں اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی اور کے ساتھ نکاح پر صحابہ راضی نہ ہوتے نیز ان کے والد قریظہ کے ساتھ قتل کردیئے گئے تھے اور ان کے شوہر جنگ خبیر میں مارے گئے تھے اس لئے ایسی شریف النسب خاتون جو دل شکستہ ہوچکی تھیں انکی تالیف قلب اور انکے اسلام کی یہی صورت تھی اور اس سے بنو اسرائیل کی تالیف قلب بھی ہوئی کہ ان کی معزز خاتون کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرف زوجیت بخشا۔ 

(١٠) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دسویں زوجہ حضرت ام حبیبہ ہیں ان کا نام رملہ بنت ابو سفیان ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے یہ عبید اللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں۔ اس سے حبیبہ نام کی لڑکی پیداہوئی اسی وجہ سے ان کی کنیت ام حبیبہ ہے۔ عبید اللہ نے نے دوسری ہجرت ان کے ساتھ حبشہ کی طرف کی وہ وہاں نصرانی ہو کر مرگیا اور حضرت ام حبیبہ (رض) اسلام پر قائم رہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن امیہ الضمری کو نجاشی کے پاس بھیجا اس نے آپ کا حضرت ام حبیبہ سے نکاح کردیا۔ نجاشی نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے چار سو دینار مہر رکھا۔ 

امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ نے بکر بن حزم سے روایت کیا ہے کہ یہ نکاح ٧ ھ میں ہوا تھا اور جس دن حضرت ام حبیبہ مدینہ آئی تھیں اس وقت ان کی عمر تیس سال سے زیادہ تھی۔ ام حبیبہ (رض) ٤٤ ھ میں حضرت امیر معاویہ (رض) کی خلافت میں وفات پاگئیں۔ (الطبقات الکبری ج ٨ ص ١٠٠۔ ٩٩) 

امام ابن جوزی نے زہری سے روایت کیا ہے کہ جب ابو سفیان بن حرب مدینہ میں صلح کی مدت دراز کرنے کی درخواست لے کر آیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ درخواست منظور نہیں کی۔ وہ اپنی بیٹی ام حبیبہ سے ملنے گیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بستر پر بیٹھنے لگا تو حضرت ام حبیبہ (رض) نے بستر لپیٹ دیا۔ اس نے متعجب ہو کر پوچھا کیوں ؟ حضرت ام حبیبہ (رض) نے فرمایا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بستر ہے اور تم ناپاک مشرک ہو۔ (سبل الہدی والرشاد ج ١١ ص ١٩٦۔ ١٩٥) 

اس نکاح میں حکمت یہ تھی کہ حضرت ام حبیبہ (رض) ہجرت کر کے حبشہ آئیں ان کا شوہر نصرانی ہو کر مرگیا اور یہ ہجرت اور اسلام پر قائم رہیں۔ ان کا باپ سخت دشمن اسلام تھا۔ اب حکمت اور انسانی ہمدردی کا تقاضا کیا تھا کہ اسلام کے لئے ایسی قربانی دینے والی خاتون کو شوہر کے مرنے کے بعد بےسہارا چھورا دیا جاتا جب کہ اس کا باپ اسلام کا کٹر دشمن تھا یا اسلام کی خاطر قربانی دینے والی اس خاتون کو صلہ دینے اور حوصلہ افزائی کرنے کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے نکاح کرلیتے نیز اس نکاح کی وجہ سے بنو امیہ کے ساتھ رشتہ قائم ہوگیا اور اسلام کی تبلیغ اور اس کی نشرواشاعت کا ایک قوی ذریعہ پیدا ہوگیا۔ 

(١١) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گیارہویں زوجہ حضرت میمونہ بنت الحارث (رض) ہیں۔ ان کا نام پہلے برہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام بدل کر میمونہ رکھ دیا۔ ان کی بڑی بہن کا نام ام الفضل لبابہ کبری تھا جو حضرت عباس کی بیوی تھیں اور چھوٹی بہن کا نام لبابہ صغری تھا جو ولید بن مغیرہ کی بیوی اور حضرت خالد بن ولید کی ماں تھیں۔ حضرت میمونہ پہلے ابی رھم بن عبدالعزی کے نکاح میں تھیں وہ مرگیا تھا اور یہ بیوہ ہوچکی تھیں۔ (الاصابہ ج ٤ ص ٤١٢۔ ٤١١) 

امام محمد بن عبدالبر مالکی متوفی ٤٦٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کے بعد اگلے سال ذوالقعدہ ٧ ھ میں (فتح خیبر کے بعد) عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ پہنچے وہاں جاکر آپ نے حضرت جعفر بن ابی طالب کو حضرت میمونہ کے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا حضرت جعفر نے یہ پیغام پہنچایا تو حضرت میمونہ نے یہ معاملہ عباس بن عبدالمطلب کے سپرد کردیا۔ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انکا نکاح کردیا۔ (الاستیعاب علی ہامش الاصابہ ج ٤ ص ٤٠٧۔ ٤٠٦) 

حافظ ابن عبدالبر ‘ حافظ عسقلانی ‘ امام محمد بن سعد اور علامہ زرقانی سب نے اس نکاح کا سال ٧ ھ ہی لکھا ہے لیکن علامہ محمد بن یوسف صالحی شامی متوفی ٩٤٢ ھ نے ابو عبیدہ معمربن المثنی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ نکاح محرم ٨ ھ میں مقام سرف پر ہوا تھا۔ جب آپ عمرہ قضا کے لئے تشریف لے گئے تھے (سبل الہدی والرشاد ج ١١ ص ٢٠٨) 

امام ابن سعد نے بہ کثرت روایات سے یہ بیان کیا ہے کہ جس وقت یہ نکاح ہوا اس وقت آپ محرم تھے۔ 

حضرت میمونہ کی تاریخ وفات میں اختلاف ہے۔ علامہ زرقانی نے امام ابن اسحاق کے حوالہ سے اس کو ترجیح دی ہے کہ آپ کی وفات ٦٣ ھ میں ہوئی ہے۔ امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں معتمد سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ج ٣ ص ٢٥٢ ھ) 

حضرت میمونہ (رض) سے نکاح کی حکمت یہ تھی کہ قبیلہ بنو ہاشم کی مختلف شاخوں کے ساتھ آپ کی قرابت اور رشتہ داری ہوجائے اور اسلام کی تبلیغ اور نشرواشاعت میں آسانی ہو۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاحوں کی تاریخ اور ترتیب میں بہت اختلاف ہے میں نے سیرت کی مختلف کتابوں کے تتبع اور مطالعہ سے یہ ترتیب قائم کی ہے لیکن یہ حتمی نہیں ہے۔ میں نے ازواج مطہرات کی مختصر سوانح جو بیان کی اس کا ماخذ یہ کتابیں ہیں : الطبقات الکبری ‘ الاستیعاب ‘ الاصابہ ‘ شرح الزرقانی اور سبل الہدی والرشاد۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعدد ازدواج کمال ضبط ہے یا حظ نفسانی کی بہتات ؟ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعدد ازدواج کی بحث میں یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں۔ اسی طرح احادیث میں ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بھی سو بیویاں تھیں اور انبیاء (علیہم السلام) کو غیر معمولی قوت حاصل ہوتی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات اور دن کی ساعت واحدہ میں تمام ازواج کو مشرف فرماتے اور وہ گیارہ ازواج تھیں۔ قتادہ نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کیا حضور اس کی طاقت رکھتے تھے ؟ حضرت انس (رض) نے کہا ہم آپس میں یہ کہتے تھے کہ آپ کو تیس مردوں کی طاقت ہے۔ ایک اور سند سے قتادہ سے یہ روایت ہے کہ آپ کی نوازواج تھیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦٨) 

صحیح الاسماعیلی میں ہے کہ آپ کو چالیس مردوں کی طاقت تھی۔ 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابو نعیم نے مجاہد سے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیا ہے کہ آپ کو چالیس جنتی مردوں کی قوت دی گئی اور امام ترمذی نے جامع ترمذی میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جنت میں مومن کو اتنی اتنی عورتوں سے جماع کی قوت دی جائے گی۔ عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! کیا مومن کو اتنی قوت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا مومن کو سو مردوں کی طاقت ہوگی۔ یہ حدیث صحیح غریب ہے ‘ اور امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے جب ہم چالیس کو سو سے ضرب دیں تو حاصل ضرب چار ہزار کے برابر ہوگا اور ابن العربی نے لکھا ہے کہ آپ کو چار ہزار مردوں کی طاقت تھی پھر اس کے باوجود آپ کھانے پینے اور جماع کرنے میں کس قدر ضبط سے کام لیتے تھے ! (عمدۃ القاری ج ٣ ص ٢١٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

سوچئے جن کو اللہ تعالیٰ نے چار ہزار مردوں کی قوت جماع عطا فرمائی تھی انہوں نے بیک وقت نکاح میں صرف نو ازواج کو جمع کیا وہ بھی مختلف تبلیغی وجوہات سے اور یہ تعدد ازواج میں چون سال کی عمر سے شروع ہوا اور اکسٹھ باسٹھ سال کی عمر میں جاکر نوازواج اکٹھی ہوئیں تو اتنی زیادہ جنسی طاقت رکھنے کے باوجود صرف عمر کے آخری حصہ میں نوازواج کو جمع کرنا اپنے نفس پر کمال ضبط اور غایت اعتماد ہے یا حظ نفسانی کی بہتات !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 3

One thought on “وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ ‌ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 3

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.