جسے آگ پکائے اس سے وضو کرو

حدیث نمبر :291

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جسے آگ پکائے اس سے وضو کرو ۱؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہاں وضو لغوی معنی میں ہے،وضاءۃ سےمشتق ہے،بمعنی صفائی۔شرعی معنی مرادنہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آگ کی پکی چیزکھاکر ہاتھ دھونا اور کلی کرنا بہتر ہے۔پھل فروٹ کھانے کے بعد اس کی ضرورت نہیں،جیسا کہ اگلی احادیث سے ظاہر ہورہا ہے،نیز ایک بارحضور علیہ ا لسلام نے گوشت کھا کر ہاتھ دھوئے،کلی کی اور فرمایا آگ کی پکی چیز کا وضو یہ ہے،اس صورت میں یہ حدیث منسوخ نہیں،کھانا کھا کر ہاتھ دھونا مستحب ہے۔

حدیث نمبر :292

بڑے امام شیخ محی السنۃ نے فرمایا کہ یہ حکم حضرت ابن عباس کی حدیث سے منسوخ ہےجو فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا،پھر بغیر وضو کئے نماز پڑھ لی ۱؎(مسلم و بخاری)

شرح

۱؎ صاحب مصابیح شیخ محی السنۃ نے شرح سنہ میں اس حدیث کو منسوخ مانا اس لئے کہ انہوں نے وضو شرعی معنے میں لیا اور امرو جوب کے لیے،لیکن ہماری پیش کردہ توجیہ پر حدیث منسوخ نہیں،نسخ میں تاریخ کا معلوم ہونا ضروری ہے۔نیزقولی حدیث فعلی سے منسوخ جب ہوسکتی ہے جب وہ فعل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے نہ ہو،اس لئے مناسب یہی ہے کہ حدیث منسوخ نہ مانی جائے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.