وضو کرو

حدیث نمبر :293

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎ کہ ایک صاحب نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کریں؟فرمایا اگر چاہوکرو چاہو نہ کروعرض کیا کہ کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کریں؟فرمایا ہاں اونٹ کے گوشت سے وضو کرو۲؎ عرض کیا کہ میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟فرمایا ہاں عرض کیا کہ کیا اونٹوں کے طویلہ میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟فرمایا نہیں۳؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابوعبداﷲ ہے،قبیلہ بنی عامر سے ہے،سعدابن ابی وقاص کے بھانجے ہیں،صحابی اورصحابی زادہ ہیں،کوفے میں رہے، ۷۴ھ؁ میں وفات ہوئی۔

۲؎ یہاں بھی وضو کے معنی ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہیں۔چونکہ اونٹ کے گوشت میں بو اور چکناہٹ زیادہ ہوتی ہے کہ بغیر ہاتھ منہ دھوئے جاتی نہیں،بکری کے گوشت میں یہ بات نہیں اس لئے کہ اونٹ کے گوشت پر صفائی کی تاکید فرمائی گئی۔امام احمد کے نزدیک اونٹ کےگوشت سےبھی وضو واجب ہے اسی حدیث کی بناء پر۔

۳؎ یعنی جہاں اونٹ بندھے ہوں وہاں نماز نہ پڑھوکیونکہ نمازی کو خطرہ رہتا ہے کہ شاید اونٹ کھلے اور مجھ کو روند دے اس لیے حضور قلب حاصل نہ ہوگا،بکری میں یہ خطرہ نہیں۔وجہ فرق یہ ہے ورنہ اونٹ اور بکری دونوں کا پیشاب نجاست خفیفہ ہے اور زمین سوکھ کر پاک ہوجاتی ہے،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اونٹ کے پیشاب کی چھینٹیں دور تک جاتی ہیں نہ کہ بکری کے پیشاب کی،لہذا نمازی کو وہاں فکر نہ رہے گی نہ کہ یہاں،نیز اونٹ والے اونٹوں کی آڑ میں پیشاب کرلیتے تھے وہاں زمین زیادہ گندی ہوتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.