وَاٰ تُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً‌ ؕ فَاِنۡ طِبۡنَ لَـكُمۡ عَنۡ شَىۡءٍ مِّنۡهُ نَفۡسًا فَكُلُوۡهُ هَنِيۡٓــًٔـا مَّرِیۡٓـــٴًﺎ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 4

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاٰ تُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً‌ ؕ فَاِنۡ طِبۡنَ لَـكُمۡ عَنۡ شَىۡءٍ مِّنۡهُ نَفۡسًا فَكُلُوۡهُ هَنِيۡٓــًٔـا مَّرِیۡٓـــٴًﺎ

ترجمہ:

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو ‘ تو پھر اگر وہ خوشی سے اس (مہر) میں سے تم کو کچھ دیں تو اس کو مزے مزے سے کھاؤ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور عورتوں کو ان کے مہرنحلہ۔ (خوشی سے) ادا کرو۔

نحلہ کا معنی :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا کہ بیویوں کے ساتھ عدل اور انصاف کرو اور عدل و انصاف میں ان کے حقوق کی ادائیگی بھی ہے اور حقوق کی ادائیگی بھی ہے اور حقوق کی ادائیگی میں انکا مہر ادا کرنا بھی ہے اس لئے اس آیت میں فرمایا : اور عورتوں کو ان کے مہر نحلہ (خوشی) سے ادا کرو۔ نحلہ کا معنی شریعت اور فریضہ بھی ہیں اور ہبہ اور عطیہ بھی ہیں۔ پہلی صورت میں اس آیت کا معنی ہے کہ عورتوں کو انکے مہر ازروئے شریعت اور بطور فرض ادا کرو ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر کو ادا کرنا تم پر فرض کردیا ہے ‘ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں عرب عورتوں سے بغیر مہر کے نکاح کرتے تھے ‘ اور دوسری صورت میں اس آیت کا معنی ہے۔ عورتوں کو ان کے مہر ادا کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عورتوں کی طرف سے عورتوں کے لئے عطیہ ہے۔ نحل کا معنی کسی کام کو خوشی سے کرنا بھی ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہے کہ عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو اور اس کی ادائیگی میں دل تنگ نہ کرو۔

مہر کا مقرر کرنا صرف مذہب اسلام کی خصوصیت ہے۔

اسلام کے سوا دنیا کے کسی مذہب میں نکاح کے ساتھ مہر کو مقرر نہیں کیا گیا۔ مہر کا فائدہ یہ ہے کہ اگر خاوند عورت کو طلاق دے دے تو دوسری جگہ نکاح ہونے تک اس کے پاس کچھ رقم ہو جس سے وہ اپنی کفالت کرسکے یا گزر اوقات کا کوئی اور معاشی ذریعہ مقرر ہونے تک اس کے پاس اتنی رقم ہو جس سے وہ اپنی کفالت کرسکے۔ اسلام نے مردوں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ عورتوں کو ان کا مہر ادا کریں جیسا کہ ہم انشاء اللہ عنقریب آیات اور احادیث سے واضح کریں گے اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام مذاہب میں عورتوں کے حقوق کا محافظ اور ضامن صرف مذہب اسلام ہے۔

مہر ادا کرنے کی تاکید اور مہر ادا نہ کرنے پر وعید :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا : (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی “۔ الآیہ ‘۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا ایک یتیم لڑکی اپنے سرپرست کے زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ اس کے حسن اور اس کے مال کی اس کی طرف راغب ہوتا تھا اور اس جیسی لڑکیوں کے مہر سے کم مہر مقرر کر کے اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا تو ان کو ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کردیا گیا ماسوا اس کے کہ وہ ان کا پورا پورا مہر مقرر کریں ورنہ وہ ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرلیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا پھر لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن “۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا کہ جب یتیم لڑکی مالدار اور حسین ہو ‘ اور اس کے ولی (سرپرست) اس کے ساتھ نکاح میں راغب ہوں اور اس کو پورا پورا مہر ادا کریں اور اس کا حق نہ ماریں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٧٦٣ )

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت صہیب بن سنان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی عورت کا مہر مقرر کیا اور اللہ کو علم ہے کہ اس کا ارادہ مہر ادا کرنے کا نہ تھا۔ اس شخص نے اس عورت کو دھوکا دے کر اس کی فرج کو حلال کرلیا ‘ قیامت کے دن وہ اللہ سے زانی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا اور جس شخص نے کسی شخص سے قرض لیا اور اللہ کو علم ہے کہ اس کا ارادہ اس قرض کو واپس کرنے کا نہ تھا۔ بہ خدا اس نے اس شخص کو دھوکا دیا اور باطل کے عوض اس کے مال کو حلال کرلیا وہ قیامت کے دن اللہ سے چور ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔ (مسند احمد ج ٤ ص ١٣٣٢‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٣٠١‘ اس حدیث کا ایک روای مجہول ہے باقی ثقہ ہیں ‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٨٤)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

میمون کردی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے کسی عورت سے شادی کی خواہ اس کا مہر کم ہو یا زیادہ اور اس کا ارادہ اس مہر کو ادا کرنے کا نہیں تھا۔ اس نے اس عورت کو دھوکا دیا اور اگر اس نے اس عورت کا حق ادا نہیں کیا تو وہ قیامت کے دن اللہ سے زانی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا اور جس شخص نے کسی سے قرض لیا اور وہ صاحب مال کی رقم ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اور اس نے اس کو دھوکا دے کر اس مال لیا اور اگر وہ اس کا قرض ادا کیے بغیر مرگیا تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔ (المعجم الصغیر ‘ رقم الحدیث : ١١١‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٢)

اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ١٣٢)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے مہر کا بیان :

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

ابو سلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کتنا مہر مقرر کرتے تھے ‘ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا آپ کی ازواج کا مہر بارہ اوقیہ اور نش ہوتا تھا فرمایا تم جانتے ہونش کیا ہے میں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا نصف اوقیہ (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے) تو یہ پانچ سودرہم ہوگئے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کا مہر تھا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٤٢٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٦‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢١٩٩‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٠٥‘ سنن النسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤٧‘ مسند احمد ج ٦ ص ٩٤‘ جامع الاصول ‘ رقم الحدیث : ٩٤٨٣)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ام حبیبہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ وہ پہلے عبید اللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں وہ حبشہ کی سرزمین میں فوت ہوگئے پھر نجاشی نے ان کا نکاح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کردیا اور ان کا چار ہزار درہم مہر مقرر کیا اور ان کو شرجیل بن حسنہ کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیج دیا۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٠٧)

زہری بیان کرتے ہیں کہ نجاشی نے حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان (رض) کا چار ہزار پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ لکھ کر بھیجا تو آپ نے قبول فرما لیا۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٠٨)

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے گھر کے سامان کے عوض نکاح کیا جس کی مالیت چالیس درہم تھی۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٢٠٩٧)

اس حدیث کی سند میں عطیہ عوفی ایک ضعیف راوی ہے لیکن اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ (مجمع الزوائد : ج ٤ ص ٢٨٢)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام سلمہ (رض) سے گھر کے سامان پر نکاح کیا جس کی مالیت دس درہم تھی۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ٢٤٧‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ١٤٢٦‘ مسند ابویعلی ‘ رقم الحدیث ٣٣٧٢‘ ابوداؤد طیالسی ‘ رقم الحدیث : ٢٠٢٢‘ الطالب العالیہ ج ٤ ص ١٣٤)

اس حدیث کی سند میں حکم بن عطیہ ایک ضعیف راوی ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا یہ سچاراوی ہے لیکن اس کے ادہام ہیں اس حدیث کو امام طبرانی نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے بھی روایت کیا ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٤٦٧)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٠٨٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٦٥‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١١٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٥٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٩٥٨‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٣٤٢‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٢٤٣‘ ٢٢٤٢‘ مسند احمد ج ٣ ص ٩٩‘ ١٤٥‘ ١٧٠‘ ١٨١‘ ٢٠٢‘ ٣٢٩‘ ٢٤٢‘ ٢٨٠‘ ٢٩١)

نوٹ : دس درہم ٦١٨ ء ٣٠ گرام چاندی اور دو سودرہم ٣٦‘ ء ٦١٢ گرام چاندی کے برابر ہے۔

رسول اللہ کی صاحبزادیوں کے مہرکا بیان :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

ابو العجفاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا سنو عورتوں کا مہر مقرر کرنے میں غلو نہ کرو کیونکہ اگر اس دنیا میں کوئی عزت ہوتی یا اللہ کے نزدیک اس میں تقوی ہوتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ لائق تھے کہ آپ مہر میں غلو کرتے اور میرے علم کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی کسی زوجہ یا اپنی کسی صاحبزادی کا بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر مقرر نہیں کیا۔

امام ابوعیسی ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بارہ اوقیہ ٤٨٠ درہم کے برابر ہیں۔ (حضرت عائشہ نے ٥٠٠ درہم کا ذکر کیا ہے اس لیے حضرت عمر (رض) کا قول گویا تقریبا ہے۔ نیز حضرت ام حبیبہ کا مہر جو چار ہزار درہم تھا وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقرر نہیں کیا تھا بلکہ نجاشی نے مقرر کیا تھا اس لیے ان حدیثوں میں تعارض نہیں ہے۔ سعیدی غفرلہ) (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١١٧‘ سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢١٠٦‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٣٤٩‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٧‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٠٠‘ مسند احمد ‘ ج ١ ص ٤٠‘ منصف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٠٣٩٩‘ موارد الظمآن الزوائد ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٣٠٧‘ المستدرک ج ٢ ص ١٧٦ جامع الاصول ‘ رقم الحدیث : ٤٩٨٢)

امام ابو یعلی احمد بن علی موصلی متوفی ٣٠٧ ھ روایت کرتے ہیں :

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ابن ابی طالب (رض) نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے لوہے کی ایک زرہ عطا فرمائی تھی۔ آپ نے اس زرہ کے عوض میرا حضرت فاطمہ (رض) سے نکاح کردیا اور فرمایا یہ زرہ فاطمہ ( رض) کے پاس بھیج دو سو میں نے بھیج دی بخدا اس کی قیمت چار سو اور کچھ درہم تھی۔ (مسند ابو یعلی رقم الحدیث ٤٩٩‘ مسند احمد ج ١ ص ٨٠)

(مجاہد کا حضرت علی سے سماع نہیں ہے۔ امام احمد نے جس شخص نے روایت کیا ہے اس کا حضرت علی سے سماع ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٨٣)

امام ابو داؤد اور امام نسائی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دخول سے پہلے حضرت علی (رض) کو زرہ حطمیہ دینے کا حکم دیا (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٢٥‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣٧٥) یہ حدیث صحیح ہے مسانید میں اس زرہ کی قیمت کا ذکر ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج اور آپ کی صاحب زادیوں کے مہر کا تفصیلی نقشہ :

حضرت ام حبیبہ (رض) کا مہر : (٤٠٠٠ درہم۔ ١٤٤٧٢ گرام چاندی۔ ١٠٥٢ تولہ)

حضرت عائشہ (رض) کا مہر : (٤٠ درہم۔ ٤٧٢، ١٢٢، گرام چاندی۔ ٥، ١٠ تولہ)

حضرت ام سلمہ (رض) کا مہر : (١٠ درہم۔ ٣٠٦١٨، گرام چاندی۔ ٦٢٥ تولہ)

دیگرازواج مطہرات کا مہر : (٥٠٠ درہم۔ ١٥٠٩ گرام چاندی۔ ٥، ١٣١ تولہ)

سیدہ فاطمہ زھراء کا مہر : (٤٠٠ درہم۔ ٤٧٢، ١٢٢، گرام چاندی۔ ٥، ١٠ تولہ)

دیگر صاحبزادیوں کا مہر : (٤٨٠ درہم۔ ٦٤، ١٧٣٦، گرام چاندی۔ ١٢٦ تولہ)

مہر کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات :

(آیت) ” واحل لکم ما ورآء ذالکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن فریضہ : (النساء : ٢٤)

ترجمہ : تمہارے لئے وہ سب عورتیں حلال کی گئی ہیں جو ان محرمات کے علاوہ ہیں تم اپنے مال کے عوض ان کو طلب کرو درآں حالیکہ تم ان سے نکاح کرنے والے ہو نہ کہ ان سے زنا کرنے والے ‘ پھر جن عورتوں سے (بذریعہ) نکاح تم فائدہ اٹھا چکے ہو تو ان کا مہر ان کو ادا کردو۔

(آیت) ” واتوالنسآء صدقتھن نحلہ “۔ (النساء : ٤)

ترجمہ : اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو۔

(آیت) ” قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم “۔ (الاحزاب : ٥٠)

ترجمہ : ہم جانتے ہیں ہم نے جو (مہر) مسلمانوں کی بیویوں کے متعلق ان پر فرض کیا ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سہل بن سعد الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس آئی ہوں اور میں نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف دیکھا نظر اوپر اٹھائی پھر نظر نیچے کرلی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سرجھکا لیا۔ جب اس عورت نے یہ دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اگر آپ کو اس کی حاجت نہیں ہے تو پھر اس سے میرا نکاح کر دیجئے۔ آپ نے اس سے فرمایا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : جاؤ اپنے گھر جاؤ شاید تمہیں کوئی چیز مل جائے وہ گیا پھر واپس آگیا اور اس نے کہا بہ خدا لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی لیکن میرے صرف یہ تہبند ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ تمہارے تہہ بند کا کیا کرے گی ؟ اگر تم اس کو پہنو گے تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوگا اور اگر وہ اس کو پہنے گی تو تمہارے پاس کچھ نہیں ہوگا ‘ وہ شخص بیٹھ گیا جب کافی دیر ہوگئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو واپس جاتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کو بلانے کا حکم دیا۔ جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے ؟ اس نے گن کر بتایا کہ اس کو فلاں فلاں سورت یاد ہے۔ آپ نے فرمایا تم ان سورتوں کو زبانی پڑھتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں آپ نے فرمایا جاؤ تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کے سبب سے میں نے یہ عورت تمہاری ملک میں دے دی۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٠٨٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٤٢٥‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١١١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١١٦‘ سنن النسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٠٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٩‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١١١٨‘ مسند احمد ج ٥ ص ٣٣٦‘ ٣٣٠‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٠١)

مہر کی مقدار کے متعلق فقہاء حنبلیہ کا مذہب :

علامہ موفق الدین ابو محمد عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :

مہر کی مقدار مقرر نہیں ہے نہ کم از کم نہ زیادہ سے زیادہ ‘ بلکہ ہر وہ چیز جس میں مال بننے کی صلاحیت ہو وہ مہر ہوسکتی ہے۔ امام شافعی اور داؤد (ظاہری) کا بھی یہی مسلک ہے۔ سعید بن مسیب نے اپنی بیٹی کا مہر دو درہم رکھا اور اگر اس کا مہر ایک رسی بھی ہوتی تو یہ جائز تھا۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ نے کہا مہر کی کم از کم مقدار مقرر ہے اور یہ وہ مقدار ہے جس کے عوض چور کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ‘ نیز مہر کے عوض عورت کا ایک عضو حلال ہوجاتا ہے تو اس کی وہ مقدار مقرر کی جائے گی جس کے عوض چور کا ایک عضو کاٹ دیا جاتا ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عورت سے پوچھا : کیا تو اپنے نفس اور مال کے عوض دو جوتیوں پر راضی ہوگئی ہے ؟ اس عورت نے کہا ہاں ! (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١١٥‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٠٤‘ یہ حدیث عاصم بن عبید اللہ کی وجہ سے ضعیف ہے)

امام احمد حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر ایک شخص کسی عورت کا مٹھی بھر طعام مہر رکھے تو وہ عورت اس کے لئے حلال ہوگی۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٣٥٥) نیز اثرم نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں ایک مٹھی بھر طعام پر نکاح کرلیتے تھے۔ (اس کی سند میں یعقوب بن عطا ایک ضعیف راوی ہے) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” ان (محرمات) کے سوا عورتیں تم پر حلال کردی گئی ہیں تم اپنے مال کے عوض ان کو طلب کرو “ (النساء : ٢٤) اور مال عام ہے وہ قلیل اور کثیر دونوں کو شامل ہے ‘ اور چونکہ مہر بدل منفعت ہے اس لئے جس مقدار پر دونوں فریق راضی ہوجائیں وہ جائز ہے جس طرح اجرت ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک نے جس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ ” دس درہم سے کم مہر صحیح نہیں ہے “ وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کو میسرہ بن عبید نے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے ‘ میسرہ ضعیف ہے اور حجاج مدلس ہے ‘ نیز یہ حدیث حضرت جابر سے روایت کی گئی ہے اور ہم حضرت جابر سے اس کے خلاف حدیث بیان کرچکے ہیں ‘ اور برتقدیر صحت وہ حدیث کسی معین عورت کے معاملہ پر محمول ہے اور چور کے ہاتھ کاٹنے پر ان کا قیاس صحیح نہیں ہے کیونکہ نکاح میں ایک عضو سے نفع حاصل کرنے کی اباحت ہے اور ہاتھ کاٹنے میں ایک عضو کو ضائع کرنا ہے اس سے نفع حاصل کرنے کی اباحت نہیں ہے نیز یہ سزا اور حد ہے اور اس پر اجماع ہے کہ مہر میں زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا “۔ (النساء : ٢٠)

ترجمہ : اور اگر تم ایک بیوی کو چھوڑر کر اس کی جگہ دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہو اور ان میں سے ایک کو تم بہت مال دے چکے ہو تو اس مال سے کچھ واپس نہ لو۔ (المغنی ج ٧ ص ١٦١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

مہر کی مقدار کے متعلق فقہاء شافعیہ کا مذہب :

علامہ ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ لکھتے ہیں :

مہر کی کم از کم مقدار میں اختلاف ہے امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ یہ مقرر نہیں ہے اور ہر وہ چیز جو قیمت اور اجرت ہوسکتی ہے وہ مہر ہوسکتی ہے خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ صحابہ میں سے حضرت عمر بن الخطاب (رض) اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا یہی مذہب ہے ‘ حتی کہ حضرت عمر نے تین مٹھی انگوروں کو مہر فرمایا (سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٤٠) اور تابعین میں سے حسن بصری اور سعید بن مسیب کا یہی مذہب ہے حتی کہ سعید بن مسیب نے اپنی بیٹی کا دو درہم مہر رکھا (سنن سعید بن منصور : ٦٢٠) اور فقہا میں سے ربیعہ ‘ اوزاعی ثوری ‘ احمد اور اسحاق کا یہی مذہب ہے۔

امام مالک کے نزدیک کم از کم مہر کی مقدار وہ ہے جو چور کے ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے اور وہ چوتھائی دینار یا تین درہم ہیں ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کی کم از کم مقدار ایک دینار یا دس درہم ہے۔ امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” تم اپنے مال کے عوض ان کو طلب کرو “ (النساء : ٢٤) اور کم تر چیزوں مثلا دمڑی اور قیراط پر مال کا اطلاق نہیں کیا جاتا ‘ اور حدیث میں ہے از حجاج بن ارطاۃ از عطا از عمرو بن دینار از جابر بن عبداللہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کفو کے سوا عورتوں کا نکاح نہ کرو ‘ اور سوائے ولی کے اور کوئی نکاح نہ کرے اور دس درہم سے کم مہر نہ رکھا جائے (سنن کبری ج ٧ ص ١٣٣) اور یہ نص ہے ‘ اور یہ ایک مال ہے جس کے عوض ایک عضو کو مباح کیا جاتا ہے اس لئے اس کو مقرر ہونا چاہیے اور حقوق عقد میں معین چیز مقرر ہوتی ہے جیسے گواہوں کی مقدار مقرر ہے۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم “۔ (البقرہ : ٢٣٧)

ترجمہ : اور اگر تم نے عورتوں کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی درآں حالیکہ تم ان کے لئے مہر مقرر کرچکے تھے تو جو مہر مقرر کیا گیا تھا اس کا نصف ادا کرنا واجب ہے۔

اس آیت میں لفظ ” ما “ ہے جو قلیل اور کثیر دونوں پر صادق آتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ قلیل اور کثیر دونوں مہر ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حسب ذیل احادیث دلیل ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا علائق کو ادا کرو ‘ صحابہ نے پوچھا :

یا رسول اللہ علائق کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ چیز جس پر دونوں فریق راضی ہوجائیں۔ (سنن کبری ج ٧ ص ٢٣٩) یہ حدیث منقطع اور ضعیف ہے) اس سے وجہ استدلال یہ ہے کہ لفظ ” ما “ (وہ چیز) عام ہے خواہ دونوں فریق قلیل پر راضی ہوں یا کثیر پر۔

امام شافعی نے کتاب الام میں کہا ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے دو درہموں سے حلال کیا اس نے حلال کرلیا۔ (الام ج ٥ ص ٩٥‘ سنن کبری ج ٧ ص ٢٣٨‘ یہ حدیث بھی بلاغات سے ہے اور منقطع ہے)

ابو ہارون العبدی از ابو سعید خدری ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص پر کوئی حرج نہیں ہے جس نے کسی عورت کا مہر مقرر کیا خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر جب کہ گواہ ہوں اور فریقین راضی ہوں۔ (سنن کبری ج ٧ ص ٢٣٩‘ اس کی سند میں ہارون العبدی ہے جس سے استدلال نہیں کیا جاتا)

عامر بن ربیعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے دو جوتیوں کے عوض نکاح کرلیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے پوچھا کیا تم اپنے نفس اور اپنے مال پر ان دو جوتیوں سے راضی ہوگئی ہو ‘ اس نے کہا : ہاں ! (امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١١٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٨‘ سنن کبری ج ٧ ص ٢٣٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٤٥‘ اس حدیث کی سند میں عاصم بن عبداللہ ہے وہ ضعیف اور منکر الحدیث ہے)

ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد الساعدی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا جس نے اس عورت کو نکاح کا پیغام دیا تھا جس نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کردیا تھا ‘ تلاش کرو خواہ ایک لوہے کی انگوٹھی ہو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٠٨٧) اور لوہے کی انگوٹھی قمتی جواہر میں سے نہیں ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دس درہم سے کم مہر ہوسکتا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ انگوٹھی کس خاص لوہے کی ہو جو دس درہم کی ہو اسی طرح وہ جوتیاں بھی دس درہم کی ہوں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث کے اسلوب کے مخالف ہے کیونکہ آپ نے فرمایا خواہ وہ لوہے کی انگوٹھی ہو اس کا تقاضا ہے کہ وہ کوئی بےقیمت چیز ہو ورنہ آپ اس کے بجائے دس درہم فرماتے تو وہ زیادہ سہل تھا۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی عورت کو دو مٹھی طعام مہر دے تو وہ عورت اس پر حلال ہوجائے گی۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١١٠‘ سنن کبری ج ٧ ص ٢٣٨‘ اس حدیث کی سند میں ابو الزبیر ہے وہ حضرت جابر کی روایت میں تدلیس کرتا تھا اور صالح بن مسلم ہے اس کو ابن معین نے کہا کہ وہ ضعیف ہے)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم ایک مٹھی یا دو مٹھی آٹے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں نکاح کرلیا کرتے تھے۔ (سنن کبری ج ٧ ص ٢٤٠‘ اس حدیث کی سند میں یعقوب بن عطا ہے اس کو امام احمد اور یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے)

ان احادیث میں دس درہم سے کم مہر ہونے کی تصریح ہے اور ان کی مخالفت جائز نہیں ہے۔ (ماسوا امام بخاری کی روایت کے باقی روایات کا ضعف ہم نے بیان کردیا ہے۔ سعیدی غفرلہ)

اور قیاس سے دلیل یہ ہے کہ یہ ایک منفعت کا عوض ہے اور اس میں کم از کم مقدار معین نہیں ہوتی جس طرح اجارہ (اجرت) میں ہوتا ہے (رض) نیز خلع بھی اسی چیز کا بدل ہے اور اس میں بھی کم از کم مقدار متعین نہیں ہے ‘ لہذا مہر کی کم از کم مقدار ہونا صحیح نہیں ہے۔ البتہ جزیہ میں کم از کم مقدار معین ہے لیکن وہ کسی منفعت کا عوض نہیں ہے۔

امام ابوحنیفہ نے آیت سے جو استدلال کیا ہے اور دس درہم سے کم کو مال نہیں مانا یہ صحیح نہیں ہے اول تو اس آیت کا ظاہری معنی متروک ہے کیونکہ اگر کوئی شخص مہر کا ذکر کئے بغیر نکاح کرے تو یہ نکاح صحیح ہے ‘ ثانیا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے فلاں کا مال دینا ہے پھر کہے میں نے اس کا ایک درہم دینا ہے یا نصف درہم دینا ہے تو اس کا یہ قول صحیح ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ دس درہم سے کم پر بھی مال کا اطلاق کیا جاتا ہے۔

احناف نے حضرت جابر کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے اس کی سند میں مبشربن عبید ضعیف ہے اور حجاج بن ارطاۃ مدلس ہے علاوہ ازیں حضرت جابر کی دیگر روایات اس کے معارض ہیں ‘ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے یہ حدیث کسی خاص عورت کے معاملہ میں ہو جس کا مہر مثل دس درہم ہو۔ فقہاء احناف نے چور کا ہاتھ کاٹنے پر مہر کو قیاس کیا ہے یہ قیاس صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ چوری میں اس عضو سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا بلکہ اس کو کاٹ دیا جاتا ہے ‘ ثانیا اگر مال کے بدلہ میں اس کا ہاتھ کاٹا جاتا تو پھر چور سے مال واپس نہ لیا جاتا حالانکہ اگر اس سے مال برآمد ہو تو اس سے واپس لیا جاتا ہے اور مالک کو دیا جاتا ہے۔ ثالثا اس سے معلوم ہوا کہ چور کا ہاتھ کاٹنا اس مال کے عوض نہیں ہے بلکہ اللہ کی حد توڑنے کی سزا ہے۔ رابعا ‘ مہر کے ذریعہ عورت کا صرف ایک عضو مباح نہیں ہوتا بلکہ اس کے سارے بدن سے فائدہ حاصل کرنا مباح ہوتا ہے۔ خامسا ‘ یہ کہ چوری میں ہاتھ کاٹنا ایک سزا ہے اس لئے اس کا نصاب مقرر ہونا چاہیے جیسا کہ باقی جنایات میں ہے اس کے برخلاف مہر باہمی رضا مندی سے ایک عقد کا عوض ہے اس لئے جب طرح باقی عقود میں کوئی مقدار شرعا معین نہیں ہے اس میں بھی نہیں ہوگی۔ اسی طرح ان کا شہادت پر قیاس کرنا بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ شہادت عقد کی شرائط میں سے ہے اور مہر عقد کا عوض ہے۔ (الحاوی الکبیر ج ١٢ ص ١٦۔ ١١ ملخصا)

مہر کی مقدار میں غیر مقلدین اور علمائے شیعہ کا نظریہ :

غیر مقلدین کا بھی یہی نظریہ ہے شیخ محمد بن علی شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ لکھتے ہیں نکاح میں کسی قسم کے مال یا منفعت کو مہر مقرر کیا جاسکتا ہے اس کا استدلال بھی لوہے کی انگوٹھی والی حدیث سے ہے۔ (السیل الجرار ج ٢ ص ٢٧٧) حافظ عبداللہ روپڑی لکھتے ہیں : اور مہر حسب حیثیت باندھنا چاہیے جو ادا ہو سکے۔ (فتاوی اہل حدیث ج ٢ ص ٤٧١) علماء شیعہ کے نزدیک نکاح دائم میں مہر کا معین کرنا لازم نہیں اور نکاح عارضی میں مہر معین کرنا لازم ہے لیکن مقدار معین نہیں۔ (شرائع الاسلام ج ٢ ص ٢٤٩)

مہر کی مقدار میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ :

امام ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی ٦٣ ھ لکھتے ہیں :

امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے کہا ہے کہ دس درہم سے کم مہر جائز نہیں ہے ‘ انہوں نے چور کے ہاتھ کاٹنے کے نصاب پر قیاس کیا ہے ‘ اسی طرح امام مالک نے بھی چور کے ہاتھ کاٹنے کے نصاب پر قیاس کیا ہے جو ان کے نزدیک مقرر ہے مدینہ میں امام مالک سے پہلے کسی کا یہ قول نہیں تھا۔ نیز امام مالک نے اس آیت سے استدلال کیا ہے :

(آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المؤمنت فمن ماملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت “۔ (النساء : ٢٥)

ترجمہ : اور تم میں سے جو شخص آزاد کنواری مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی مالی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی مملوکہ مسلمان باندیوں سے نکاح کرے۔

اور اس آیت میں طاقت سے مراد مالی طاقت ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ایک پیسہ ‘ ایک دمڑی یا مٹھی بھر جو ہر شخص کی استطاعت میں ہوتے ہیں تو اگر مہر کی مقدار ایک پیسہ ایک مٹھی جو بھی جائز ہوتی تو پھر ہر شخص کے پاس نکاح کرنے کی مالی طاقت ہوتی اور اس آیت کا کوئی معنی نہ ہوتا اور یہ ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک تین درہم سے کم پر مال کا اطلاق نہیں کیا جاتا۔ اس لئے واجب ہے کہ تین درہم سے کم مہر جائز نہ ہو لیکن امام ابن عبدالبر نے اس استدلال پر یہ اعتراض کیا ہے کہ آزاد اور باندی کے کم از کم مہر کی مقدار میں مالکیہ کے نزدیک کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اگر مسلمان آزاد عورت سے نکاح کی طاقت نہ ہو تو پھر مسلمان باندی سے نکاح کرلو اور جب کہ باندی کا بھی مہر ان کے نزدیک کم از کم تین درہم ہے تو پھر مالی طاقت اس سے زیادہ مراد لینی ہوگی۔ (الاستذکار ج ١٦ ص ٧٢۔ ٧١‘ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

علامہ شمس الدین شیخ محمد عرفہ دسوقی مالکی متوفی ١٢١٩ ھ لکھتے ہیں :

مالکیہ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ مہر کی کم از کم مقدار چوتھائی دینار یا خالص چاندی کے تین درہم ہیں یا جو اس کے مساوی سازوسامان ہے اور زیادہ سے زیادہ مہر کی کوئی حد نہیں ہے ‘ اور قول مشہور کے مقابلہ میں ابن وہب مالکی سے ایک درہم منقول ہے اور ابن وہب سے یہ بھی منقول ہے کہ کم از کم مہر کی کوئی حد نہیں ہے اور نکاح قلیل اور کثیر دونوں کے ساتھ جائز ہے۔ (حاشیۃ الدسوقی علی الشرح الکبیر ج ٢ ص ٣٠٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

مہر کی مقدار میں فقہاء احناف کا مذہب :

علامہ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے نزدیک مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو عورتوں کے نکاح صرف ان کے اولیاء (سرپرست) کریں اور ان کا نکاح صرف ان کے کفو (خاندان) میں کیا جائے اور کوئی مہر دس درہم سے کم نہ رکھا جائے اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ دس درہم سے کم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے اور دس درہم سے کم مہر نہ رکھا جائے ‘ اور کتاب میں ہے کہ ہمیں حضرت علی ‘ حضرت ابن عمر ‘ حضرت عائشہ ‘ عامر اور ابراہیم (رض) سے یہ حدیث پہنچی ہے ‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک عقد کا بدل ہے اور یہ عقد عاقدین کی طرف مفوض نہیں ہے اس لئے اس کی مقدار شرعا مقرر ہے جیسے دیت میں ہے اور عورت کے عضو سے استفادہ شرعا ممنوع ہے جب تک کہ نکاح صحیح نہ ہو اور اس عضو کا عوض واجب نہ ہو خواہ فورا یا بعد میں ‘ اور یہ مقصود اصل مالیت کے بغیر حاصل نہیں ہوگا اور مال کا لفظ حقیر اور خطیر دونوں کو شامل ہے۔ اور یہ مقصود تب پورا ہوگا جب خطیر رقم کو عوض قرار دیا جائے اور وہ مال مقرر ہو۔ قرآن مجید کی اس آیت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے :

(آیت) ” قدعلمنا مافرضنا علیہم فی ازواجھم “۔ (الاحزاب : ٥٠)

ترجمہ : ہم جانتے ہیں جو ہم نے مسلمانوں پر ان کی بیویوں کے متعلق مقرر فرمایا ہے۔

اور عورت کا عضو مخصوص بھی اس کے نفس کے حکم میں ہے اور عمل تزویج نفس کی چسپیدگی کا سبب ہے ‘ اور مال ہی وہ چیز ہے جو نفس میں شرعا بطور بدل مقرر ہوتا ہے ‘ جیسا کہ دیت ہے ‘ اور ہر وہ مال جس کو شرع نے واجب کیا ہو اس کی مقدار بیان کی جاتی ہے جیسا کہ زکوۃ میں ہے ‘ اور اس آیت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے اسی طرح چوری کا نصاب بھی بالاتفاق مقرر ہے کیونکہ اس میں بھی ایک عضو کو مباح کیا جاتا ہے اسی طرح مہر کی مقدار بھی شرعا مقرر ہونی چاہیے۔ امام شافعی نے جو احادیث اور آثار بیان کئے ہیں جن میں دس درہم سے کم چیز کو مہر قرار دیا گیا ہے اس سے مراد مہر معجل ہے اور باقی مہر شوہر کے ذمہ ثابت تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جاؤ تلاش کرو حالانکہ مہر فورا دینا واجب نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان احادیث میں مہر سے مراد مہر معجل ہے اور ہمارے نزدیک مہر معجل کی مقدار شرعا معین نہیں ہے۔ (المبسوط ج ٥ ص ٨١‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد بن ہمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں :

ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! عورتوں کا نکاح صرف ان کے سرپرست کریں اور ان کا نکاح صرف ان کے کفو میں کیا جائے اور کوئی مہر دس درہم سے کم نہ رکھا جائے۔ (سنن دار قطنی ج ٣ ص ٢٤٥‘ سنن کبری ج ٧ ص ١٣٣) اور جن احادیث میں دس درہم سے کم مہر کا ذکر ہے وہ تمام احادیث مہر معجل پر محمول ہیں تاکہ احادیث میں تطبیق ہو ‘ کیونکہ عرب کی عادت تھی کہ وہ مہر کا کچھ حصہ دخول سے پہلے دیا کرتے تھے حتی کہ فقہاء تابعین نے یہ کہا ہے کہ جب تک عورت کو کوئی چیز پہلے نہ دے دے اس وقت تک دخول نہ کرے۔ یہ حضرت ابن عباس (رض) حضرت ابن عمر (رض) زہری اور قتادہ سے منقول ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ کچھ دینے سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو دخول سے منع فرمایا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی حضرت فاطمہ (رض) سے شادی کی اور حضرت علی (رض) نے ان کے ساتھ دخول کا ارادہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو منع فرمایا حتی کہ وہ ان کو کوئی چیز دے دیں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا ان کو اپنی زرہ دے دو ‘ تو آپ نے سیدہ فاطمہ (رض) کو اپنی زرہ دے دی پھر ان کے ساتھ دخول کیا۔ (سنن ابو داؤد : ٢١٢٦‘ ٢١٢٥‘ اس کی سند جید ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں) یہ سنن ابوداؤد کی عبارت ہے اور اس کو امام نسائی نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن نسائی : ٣٣٧٥‘ اس کی سند صحیح ہے) اور یہ معلوم ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ (رض) کا مہر چار سو درہم چاندی تھا ‘ پسندیدہ امر یہ ہے کہ دخول سے پہلے کچھ دے دیا جائے اور بغیر دیئے بھی دخول جائز ہے کیونکہ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ میں ایک عورت کو اس کے خاوند کے کچھ دینے سے پہلے اس کے پاس بھیج دوں۔ (سنن ابوداؤد : ٢١٢٨‘ سنن بیہقی ج ٧ ص ٢٥٣‘ یہ حدیث قوی مرسل ہے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو دخول سے پہلے کچھ دینا مستحب ہے ‘ واجب نہیں ہے تاکہ عورت کا دل دخول کے وقت خوش ہو اور اس کی تالیف قلب ہو اور جب یہ امر معروف ہے تو دس درہم سے کم مہر کی جو احادیث ہیں وہ مہر معجل پر ہی محمول ہیں تاکہ احادیث میں تطبیق ہو۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صحابی کو لوہے کی ایک انگوٹھی ڈھونڈنے کا حکم دیا تھا وہ بھی تالیف قلب کے لئے بہ طور مہر معجل تھا اور جب وہ اس سے بھی عاجز رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس کو بیس آیتوں کی تعلیم دو یہ تمہاری بیوی ہے۔ (سنن ابو داؤد : ٢١١٢) اور یہ حدیث اس کا صحیح محمل ہے جس میں آپ نے فرمایا تم کو جو قرآن یاد ہے۔ اس کے سبب سے میں نے تمہارا اس کے ساتھ نکاح کردیا۔ (صحیح البخاری : ٢٣١٠‘ صحیح مسلم : ١٤٢٥‘ سنن ابو داؤد : ٢١١١‘ سنن ترمذی : ١١١٦‘ سنن نسائی : ٣٢٠٠‘ سنن ابن ماجہ : ١٨٨٩) سو یہ ہماری روایت کردہ حدیث کے منافی نہیں ہے اور اس طریقہ سے احادیث جمع ہوجاتی ہیں ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ان احادیث کو جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حضرت جابر کی دس درہم والی روایت کی سند میں مبشربن عبید اور حجاج بن ارطاۃ دو ضعیف راوی ہیں ‘ تو ہم کہیں گے کہ اس حدیث کا ایک شاہد بھی ہے جو اس کو تقویت پہنچاتا ہے : حضرت علی (رض) نے فرمایا : دس درہم سے کم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے اور دس درہم سے کم مہر مقرر نہ کیا جائے۔ (سنن دار قطنی ج ٣ ص ٢٤٧‘ ٢٤٦‘ ٢٠٠‘ سنن کبری ج ٧ ص ٢٤١‘ ٢٤٠) یہ اثر حضرت علی (رض) حضرت عبداللہ بن عمر ‘ عامر اور ابراہیم سے مروی ہے (ہر چند کہ اس اثر کی اسانید میں محمد بن مروان اصغر ‘ جو بیر اور غیاث بن ابراہیم داؤد الایدی ضعیف راوی ہیں لیکن تعدد طرق کی وجہ سے یہ اثر حسن حلغیرہ ہے اور حدیث جابر کا موید ہے) شرح طحاوی میں اسی سند کے ساتھ یہ اثر حضرت جابر (رض) سے بھی مروی ہے اور چونکہ اس اثر میں نصاب کا عدد معین بیان کیا گیا ہے اس لئے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنے بغیر بیان کیا جاسکتا ہے اس لئے یہ حدیث حکما مرفوع ہے۔ یہ اثر ازاودی از شعبی از حضرت علی مروی ہے ‘ اور داؤد کو امام ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے اور حق یہ ہے کہ بہ اعتبار ظاہر کے بکثرت احادیث ہیں جو دس درہم کی تعیین کی نفی کرتی ہیں (یہ تمام وہ احادیث ہیں جن کو ہم نے علامہ ماوردی شافعی کی تحریر میں باحوالہ ذکر کردیا ہے) لیکن سوائے لوہے کی انگوٹھی والی حدیث کے باقی تمام احادیث ضعیف ہیں۔ (امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے دو جوتیوں والی حدیث روایت کی ہے اس کی سند میں عاصم بن عبید اللہ کو ابن معین نے ضعیف کہا ہے۔ امام ابن حبان نے کہا وہ فاحش الخطاء ہے ‘ امام دار قطنی اور امام طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جس مقدار پر فریقین راضی ہوجائیں خواہ وہ پیلو کی شاخ ہو۔ اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمان، سیلمانی ہے امام بخاری نے کہا یہ منکر الحدیث ہے ‘ ابن القطان نے کہا اس کا ضعف ظاہر ہے امام دار قطنی نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کیا ہے کہ ” گواہ ہونے کے بعد کوئی حرج نہیں خواہ تم نے قلیل مال سے نکاح کیا یا کثیر سے “۔ اس حدیث کی سند میں مرہ ضعیف راوی ہے اور اس کی سند میں حماد بن زید کذاب ہے ‘ اس کے علاوہ اور بھی آثاری ہیں جن کے ضعف کو ہم نے علامہ ماوردی کی تحریر میں ذکر کردیا ہے۔ سعیدی غفرلہ) جس حدیث میں ہے : ” جس نے عورت کے مہر میں دو ستو دیئے “ اس کی سند میں اسحاق بن جبرائیل ہے۔ میزان الاعتدال میں لکھا ہے یہ غیر معروف ہے اور اودی نے اس کو ضعیف کردیا اور اس کی سند میں مسلم بن رومان بھی مجہول ہے اور دو جوتیوں والی حدیث کو ہرچند کہ امام ترمذی نے صحیح کہا ہے لیکن وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کی سند میں عاصم بن عبید اللہ ہے ‘ ابن الجوزی نے کہا یہ فاحش الخطا ہے ‘ غرض یہ تمام آثار ضعیف ہیں اور صحیح حدیث صرف صحاح ستہ کی ہے جس میں آپ نے فرمایا۔ ” ڈھونڈو خواہ لوہے کی انگوٹھی ہو “ ہمارے نزدیک یہ مہر معجل پر محمول ہے ہرچند کہ یہ خلاف ظاہر ہے لیکن اس کو مہر معجل پر محمول کرنا واجب ہے کیونکہ بعد میں آپ نے فرمایا تم کو جو قرآن یاد ہے۔ اس کے سبب میں نے تمہارا اس سے نکاح کردیا ‘ اگر اس کو تعلیم پر محمول کیا جائے یا مہر کی بالکلیہ نفی کردی جائے تو وہ قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے :

(آیت) ” واحل لکم ما ورآء ذالکم ان تبتغوا باموالکم (النسا : ٢٤)

ترجمہ : اور محرمات کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال کردی گئی ہیں کہ تم ان کو اپنے مال سے طلب کرو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مال کو مہر بنانے کا حکم دیا ہے اس لئے اس حدیث میں مہر معجل کی تاویل کرنا واجب ہے اور یہ کہ اس عورت کا مہر بطور مال اس شخص کے ذمہ تھا جو اس وقت نہیں دیا گیا تھا اب اگر شوہر کے ذمہ اس کا مہر نہ مانا جائے تو لازم آئے گا کہ خبر واحد نے قرآن مجید کی اس آیت قطعیہ متواترہ کو منسوخ کردیا ‘ اور اس وقت مہر کا ذکر نہ کرنے سے کوئی حرج نہیں ہوتا کیونکہ جب نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ کیا جائے تو مہر مثل واجب ہوجاتا ہے۔ (فتح القدیر ج ٣ ص ‘ ٣٠٩۔ ٣٠٥ ملخصا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

نوٹ : جو مہر شب زفاف میں دخول (عمل تزویج) سے پہلے یا عند الطلب دیا جائے اس کو مہر معجل کہتے ہیں اور جس مہر کی ادائیگی کا وقت مقررہ کرلیا جائے یا جو انقطاع نکاح (طلاق یا موت کے بعد) کے وقت دیا جائے اس کو مہر موجل کہتے ہیں :

ٹیلی فون پر نکاح کا شرعی حکم :

نکاح کے منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو مسلمانوں گواہوں کے سامنے مجلس نکاح میں ایجاب و قبول کیا جائے۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے البتہ امام مالک کے نزدیک گواہوں کی بجائے اعلان شرط ہے۔ جمہور کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام دار قطنی مفتوفی ٢٨٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود ‘ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بغیر ولی اور دو صالح گواہوں کے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ (سنن دار قطنی ج ٣ ص ٢٢٧‘ ٢٢٥)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ جو عورتیں از خود بغیر گواہوں کے نکاح کرلیں وہ فاحشہ ہیں۔ (سنن ترمذی : ١١٠٤)

بعض اوقات لڑکا ایک ملک میں اور لڑکی دوسرے ملک میں ہوتی ہے اور ضرورت یہ ہوتی ہے کہ لڑکی کا نکاح کرکے اس کو لڑکے کے پاس بھیج دیں مثلا لڑکی پاکستان میں اور لڑکا انگلینڈ میں ہو۔ ایسے مواقع پر لوگ پوچھتے ہیں کہ آیا ٹیلی فون پر نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ ٹیلی فون پر مجلس نکاح میں دو گواہوں کے سامنے ایجاب قبول نہیں ہوتا اس لئے ٹیلی فون پر نکاح جائز نہیں ہے۔ ایسی صورت میں یہ چاہیے کہ خط یا ٹیلی فون کے ذریعہ لڑکا کسی شخص کو اپنا وکیل بنا دے اور وہ وکیل لڑکے کی طرف سے پاکستان میں مجلس نکاح میں دو گواہوں کے سامنے قبول کرلے ‘ اس طرح نکاح منعقد ہوجائے گا اور لڑکی کو لڑکے کے پاس کسی محرم کے ہمراہ بھیجا جاسکتا ہے۔

علامہ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

اگر غائب کسی حاضر شخص کو نکاح کا وکیل بنا دے اور وہ وکیل لڑکی کا نکاح اس غائب شخص سے کر دے تو یہ نکاح صحیح ہے۔ (الی قولہ) اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی طرف خط لکھا اور حضرت ام حبیبہ (رض) کو نکاح کا پیغام دیا اور نجاشی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت ام حبییہ (رض) کا نکاح کردیا کیونکہ وہ سلطان ہونے کی وجہ سے حضرت ام حبیبہ (رض) کا ولی تھا۔

بیویوں کے درمیان عدل کا حکم اور بعض دوسرے مسائل :

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک شب زفاف کے بعد نئی بیوی کا پرانی بیوی سے زیادہ حصہ ہے اگر نئی بیوی کنواری ہے تو اس کے ساتھ شوہر پہلے سات دن رہے گا اور اس کے بعد باری باری ہر بیوی کے ساتھ رہے گا ‘ اور اگر نئی بیوی بیوہ ہے تو اس کے ساتھ پہلے تین دن رہے گا۔ اس کے بعد باری باری ہر بیوی کے ساتھ رہے گا۔ امام ابوحنیفہ بیویوں کے دنوں کی تقسیم کے معاملہ میں نئی پرانی کا فرق نہیں کرتے وہ فرماتے ہیں بیویوں میں تقسیم واجب ہے اگر نئی بیوی کے ساتھ تین دن رہے گا تو باقی بیویوں میں سے ہر ایک کے ساتھ تین تین دن رہے گا۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا فرض ہے۔ نئی پرانی ‘ کنواری اور بیوہ اس حکم میں سب برابر ہیں۔ لباس ‘ کھانے پینے ‘ رہنے کی جگہ اور بیوی کے ساتھ رات گزارنے میں تمام بیویوں کے ساتھ مساوی سلوک کرنا واجب ہے۔ البتہ انس اور محبت پر کسی کا اختیار نہیں ہے۔ آکل لوگ دو شادیاں کرلیتے ہیں۔ ایک بیوی کے ساتھ مستقل رہتے ہیں اور دوسری کے ساتھ نہیں رہتے یہ عدل کے خلاف ہے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مہر کی مستحق عورتیں ہیں نہ کہ ان کے اولیاء ‘ اور اگر اولیاء (سرپرست) نے مہر وصول کرلیا ہو تو ان پر لازم ہے کہ اس مہر کو مستحق عورت تک پہنچا دیں۔

نیز اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو یہ اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اپنے شوہروں کو کل مہر یا مہر کا بعض حصہ ہبہ کردیں لیکن ان سے مہر معاف کرانے کے لئے ان کو مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر وہ خوشی سے تم کو مہر میں سے کچھ دے دیں تو اس کو مزے مزے سے کھاؤ۔ اس لئے ان کی خوشی کے بغیر ان سے مہر معاف کرالینا جائز نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 4

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.