اختلاف موت ہے

👁👁اختلاف موت ہے 👁👁

تحریر: محمد شاہد علی مصباحی

آج امت مسلمہ اختلافات وانتشار کے ایسے بحر عمیق میں غوطہ زن ہے کہ ساحل نجات تک کوئی کرشمہ ہی پہنچا سکتا ہے معاملات ایسے سنجیدہ ہوئے کہ اختلافات کا بھنور علمائے اکابر کی شخصیات سے تجاوز ہوکر صحابہ کرام کی نفوس طیبات تک جاپہنچا۔

لیکن احبا نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لیئے اور کبھی کبھی تو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ یا ہمارے نظریہ کے خلاف کسی نے بات کہی ہےتو بس پڑگئے اس کےپیچھے ہاتھ دھو کر یہ بھی نہ سوچا کہ ہم اپنے مد مقابل کےبغض عنادمیں ایسے غلطاں ہیں کہ ہمیں یہ بھی ہوش نہیں کہ اپنے مخالف کی تردید میں صحابہ کرام تک پر انگشت نمائی کر بیٹھے۔

ہم میدان محشر کے متعلق سنتے آئے ہیں کہ نفسی نفسی کا عالم ہوگا مگر یہاں بھی ایک محشر بپا ہے اور یہاں بھی نفسی نفسی کا عالم ہے مگر یہ نفس پرستی کا محشر ہے نفس پرستی میں ایسے مبتلا ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنے نفس کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا ہم،ہمارا،ہم سب،ہماری قوم،ہمارے اسلاف کی جگہ میں ،میرا،فقط میرا،میرا سلسلہ،میرا مرشد ، میرا گروہ جیسے الفاط نے لے لی۔

ارے میرے بھائی ! یہ تکبر ، یہ نفس پرستی کس کام کی؟ یاد رکھو ! یہ ایوان نما خانقاہیں ، یہ بادشاہوں کو بھی شرمندہ کردینے والی شان و شوکت اور مریدین کی شکل میں غلام انعام جاودانی اور سرمایہ دائمی نہیں ہیں ۔ کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

چنانکہ دست بدست آمدست ملک بنا

بدستہائے دگر ہمچنیں بخواہد رفت

اپنے اپنے عالیشان محلات اور ایوان نما خانقاہوں کے در و دیوار کو صحابہ کرام اور اکابرین کی بےحرمتی کے کالے پانی سے چمکانے کی ناکام کوششیں کرنے والو یاد رکھو !

بزرگش نہ خوانند اہل خرد

کہ نام بزرگاں بزشتی برد

کسی کے بلند مرتبہ اور عظیم منصب سے حسد کرنے والو! کبھی یہ نہیں سوچا کہ انہیں وہ بلند مرتبہ اور عظیم منصب کس نے عطا فرمایا ہے؟ ارشاد ربانی دیکھو ۔

اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ

یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔

اور جسے اللہ بڑھائے اسے کون گھٹا سکتا ہے؟ اسی لئیے تو میرا امام گویا ہے۔

تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے

جب بڑھائے تجھے اللہ تعالی تیرا

اے حاسدو! تمھارا ان نفوس طیبات کیچڑ اچھالنا سورج پر سیاہی پھینک کر اسے مندمل کرنے کی کوشش جیسا ہے کہ اس سے سورج کو تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں البتہ تمھارے ہی منہ کالے ہونے کا یقین کامل ضرور ہے

ہاں مگر تمھاری ان ریشہ دوانیوں سے عوام اہل سنت میں کافی اضطراب اور خلفشار پیدا ہوجاتا ہے ، اور اگر یہی حال رہا تو کچھ وقت بعد یہی اختلافات عوام کو علماے کرام اور پیران عظام سے بیزار ضرور کر دینگے۔

ان سارے اختلافات اور انتشارات کی بنیاد بد ظنی اور حسد ہیں ۔ ایک عالم دوسرے عالم کی مقبولیت کا حاسد اور اس سے بد ظن ہے ، ایک پیر دوسرے پیر کی مقبولیت کا حاسد اور اس سے بد ظن ہے، اور عوام اپنے پیشواؤں کی وجہ سے اغیار سے بد ظنی اورحسد میں مبتلا ہیں جبکہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے ایاکم والظن ترجمہ : بدگمانی سے بچو! اور فرمان محسن کائنات ﷺ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ‌‌‌‌‌‏عَنِ الْأَعْرَجِ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‌‌‌‏ "”إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، ‌‌‌‌‌‏وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولو اور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔.

اس حدیث پاک کا ایک ایک لفظ ایسا ہے جس پر عمل کر کے ہم تمام طرح کے اختلافات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں ۔

ایک اور چیز ہے جو ہمارے مابین تفریق کو بڑھانے میں ایسا کام کرتی ہے جیسا آگ میں گھی ، اور وہ ہے کسی کے عیوب کی تشہیر، ہمین اگر کسی کی کوئی بات معلوم ہوجائے تو ہم اسے ہر ممکن ذریعہ ابلاغ سے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمارے پیارے اآقا ﷺ کا ارشاد پاک ہے ۔حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‌‌‌‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‌‌‌‏ عَنْ عُقَيْلٍ،‌‌‌‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ،‌‌‌‏ عَنْ أَبِيهِ،‌‌‌‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ،‌‌‌‏ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ،‌‌‌‏ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ،‌‌‌‏ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً،‌‌‌‏ فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ،‌‌‌‏ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا،‌‌‌‏ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۱ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔

اگر آپ کسی کے عیب کی پردہ پوشی کرتے ہیں تو دنیاوی فائدہ یہ کہ وہ آپ سے بد ظن نہ ہوگا اور اخروی فائدہ یہ کہ اللہ روز قیامت آپکے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اور کیا چاہیئے ۔

اگر ہم فقط ان دو احادیث کریمہ پر عمل پیرا ہوجائیں تو سمجھ لو کہ ہمارے مابین سے اختلاف ایسے ختم ہو جائے گا جیسے ترشی سے نشہ کافور ہو جاتا ہے

اللہ رب العزت سے کی بارگاہ بے نیاز میں التجا ہے کہ وہ ہم سب سنیوں کو ایک اور نیک بنائے (آمین)

shahidqadri2@gmail.com

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.