امام, مقرر, پیر اور ہم

📌امام, مقرر, پیر اور ہم📌

🖊 محمد شاہد علی مصباحی

آج ہندوستان میں ہماری قوم کو جتنا نقصان ہمارے دشمن اپنی رات دن کی محنت اور کوشش سے نہیں پہنچاتے اس سے کہیں زیادہ ہم اور آپ خود پہنچاتے ہیں ۔اور مذہب اسلام کی روح اور جسم دونوں کو زخمی کرتے ہیں۔جبکہ دوسرے لوگ تو صرف ہمارے مذہب کے جسم کو ہی زخمی کرتے ہیں۔

اب آپ یہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے مذہب کو کیوں اور کیسے زخمی کرتے ہیں ؟ ۔ ہم تو اسلام کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔اور اسکے لئے ہم اپنی پوری توانائی کے ساتھ کوشش کرتے ہیں.

تو آئیے میں آپکو بتا دوں ہم اپنی قوم کو کیسے نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ قوم کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت ترقی حاصل کرتی ہے جب اس قوم کے ہادی ،رہبر،مارگ درشک ،پڑھے لکھے اور بلند فکر اور قوم کے لئے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھنے والے ہوں۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری قوم کے رہبر ،ہادی کون ہیں ؟ ۔وہ تیں طرح کے لوگ ہیں ۔ امام ، مقرر اور پیر۔

1⃣امام

امام قوم کا پیشوا اور رہنما ہوتا ہے ۔امام اگر چاہے تو قوم کی کشتی کو ساحل نجات تک پہنچا دے ،یا قوم کو گمنامی کے دلدل میں لے جاکر ڈال دے۔ غور فرمائیں ! امام کب قوم کو صحیح راستہ دکھائے گا ؟ جب وہ پڑھا لکھا اچھی فکر والا حافظ و عالم ہوگا۔

اب ہم اپنے اماموں کے ایجوکیشن انکی تعلیم انکی ڈگری پر غور کریں تو ہمیں نظر آئیگا کہ زیادہ تر امام صرف حافظ ہیں ان میں بھی اکثر تو ایسے ہوتے ہیں جو نماز کے مسائل تک سے واقفیت نہیں ، اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں جنکو قرآن تک پڑھنا نہیں آتا کئی مرتبہ تو ایسا لگتا ہے کہ جماعت چھوڑ کر الگ نماز پڑھ لی جائے۔

ایسے لوگ نہ تو نماز کے مسائل سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ قوم کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ لیکن ہم نے انہیں اپنا امام بنا لیا ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں! کہ کیا وہ ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں ؟ جن کو خود راستہ کا علم نہ ہو ۔ مگر افسوس آج کل ہم نے زیادہ تر ایسے ہی افراد کو اپنا امام بنا لیا ہے۔ اب لامحالہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ

؏ مرا راہبر ہے وہ راہبر جسے راستے کی خبر نہیں

اب ظاہر سی بات ہے انسان وہی خرچ کرتا ہے جو اسکے پاس ہو۔اور برتن سے وہی چیز نکلتی ہے جو اس میں رکھی گئی ہو۔

آپ یوں سمجھئے کسی مریض کو ( ۵۰۰ mg )کی دوا کی ضرورت ہے اور آپ اسے صرف (۰۵mg ) کی دوا دیں تو کیا ہوگا؟۔

اسی لئے ہم جب بھی امام چنیں تو ہمیشہ یہ خیال رکھیں کہ وہ قوم کے لئے مخلص اور حافظ و عالم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا مفکر اور قوم کا غمخوار بھی ہو۔ یا کم از کم نماز کے مسائل سے واقفیت رکھتا ہو ،نیز قرآن کو صحیح طریقہ پر پڑھ نے کی صلاحیت کا ما لک ہو۔

جب امام حافظ کے ساتھ ساتھ عالم نھی ہوگا تو وہ اپنے بیانات میں آپ کو مسائل بتائے گا اور وقت و حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے بیانات سے قوم کی صحیح رہنمائی کریگا۔

ایک جگہ اما م کی ضرورت پیش آئی کچھ لوگوں نے کہا ایک بہت ہی اچھے علامہ، مولانا، حافظ وقاری ہیں تو انہیں بلوایا گیا ۔بڑی لمبی اونچی ٹوپی اور جبہ قبہ کے ساتھ عطر بیزیاں فرماتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے ،جمعہ میں تقریر کی تو یہ محسوس ہوا کہ ساری مسجد سر پر اٹھا لیں گے مگر جب ان سے مارک شیٹ مانگی گئی تو صرف حفظ کی نکلی ۔

2⃣مقرر

(تقریر کرنے والا)۔یہ طبقہ بھی قوم کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

لوگ ان لوگوں کے نام سے جمع ہوتے ہیں جب کسی پوسٹر میں اچھے مقرر ( اسپیکر) کا نام دیکھتے ہیں تو دوڑے چلے آتے ہیں۔اگر یہ لوگ اپنا کام پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائیں تو ساری عوام کو نجات کے راستے پر لگا دیں ،اور تمام مسلمانوں کو اللہ کی بارگاہ میں سر و سجود ہونے والا بنا دیں

مگر افسوس کے ساتھ پھر وہی بات کہنا پڑ رہی ہے کہ اس جماعت کی ایک بڑی فہرست ہے جو نہ تو تعلیم سے شغف رکھتی ہے اور نہ قوم کی خیر خواہی ۔ بلکہ یہ جماعت تقریر صرف اور صرف اپنے فائدے ، نزرانے اور عوام کو خوش کرنے کے لئے کرتی ہے۔ وہ قوم مسلم جو عبادت رب کے لئے پیدا کی گئی ہے اسے نماز ،روزہ، زکوۃ اور ضرورت کے مسائل نہ بتا کر ممبرر سول پر بیٹھ کر چٹکلے ، جھوٹھی روایات، من گڑھت واقعات، امیروں کی چاپلوسی میں وہ قیمتی وقت گزار دیتے ہیں جو قوم کی سیاسی، سماجی ،دینی ، فلاح و بہبود اور اس کی اصلاح کے لیئے وقف کیا گیا تھا ۔اور نہ جانے کتنے مسلم بھائیوں اور بہنوں کی خون پسینہ کی کمائی پر شب خون مار جاتے ہیں ۔ اور افسوس! کہ ہم اور آپ ایسے ہی مقرروں کو پسند کرتے ہیں۔

یاد رکھئے ! جلسے جو قوم کی اصلاح اور رہنمائی کے لئے ہوتے تھے ہم نے انہیں امیروں کی تعریف گاہ ،چٹکلے اور ایکٹنگ کا جوہر دکھانے اسٹیج بنا کر رکھ دیا ہے ۔ اگر یہی حال رہا اور ہم نے ایسے مقرروں (اسپیکرس) کا بائکاٹ نہیں کیا جو ہماری قوم کو تاریکیوں میں ڈال کر اپنی جیبیں بھرنا چاہتے ہیں ۔تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا نام و نشان تک دنیا میں باقی نہیں رہے گا۔

؏ تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اگر واعظ قوم کا درد رکھنے والا ہوگا تو وہ قوم کو ابھرتے ہوئے مسائل سے باخبر کریگا ،انہیں صراط مستقیم پر لانے کی خاطر کوشش کریگا ،انہیں مسائل دینیہ سے آگاہ کریگا ،اسلام کی قدر سے آشنا کریگا، سیرت رسولﷺ اور سیرت صحابہ کرام ﷢ کا درس دیگا، بزرگان دین اور اکابرین امت ﷭ کے ارشادات و فرمودات کی تعلیم عام کریگا ۔اور اگر واعظ مخلص اور قوم کا ہمدرد نہیں تو وہ کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔

3⃣پیر

پیر مسلمان کا جسمانی اور روحانی ہادی ہوتا ہے ۔پیر کو دیکھ مرید راہ ہدایت پا جاتے ہیں اگر پیر کامل ہے تو مرید کو شریعت کے علم و عمل کا غازی بنا دے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں حضور شیخ الشیوخ ،قطب الاقطاب ،محبوب سبحانی سیدنا غوث الاعظم عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں چور آیا تو قطب بن کر لوٹا ۔عطائے رسول سلطان الہند خواجۂ خواجگاں فخر ہندوستاں خواجہ معین الدین چشتی حسن سنجری (خواجہ غریب نواز) رضی اللہ تعالی عنہ نے جادوگر جوگی جے پال یا کو مومن(عبداللہ بیابانی) بنا دیا۔

لیکن کوئی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ کبھی حضور غوث اعظم یا خواجہ غریب نواز (رضی اللہ تعالی علیھم اجمعین کو کسی نے نماز چھوڑتے یا شریعت کے خلاف کوئی کام کرتے دیکھا ہو۔

مگر آج کچھ ایسے پیر بھی ہیں جو قوم مسلم کو بیوقوف بناتے ہیں صرف اور صرف پیسے کے لئے عوام کے سامنے شریعت کا جنازہ نکالتے رہتے ہیں

اذان ہوتی رہتی ہے ،نماز ہوتی رہتی ہے نہ تو پیر صاحب خود نمازادا کرتے ہیں اور نہ مریدوں کو نماز کے لئے کہتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نماز نہیں پڑھتے تو کبھی کسی جاہل پیر سے جواب ملتا ہے کہ ہم مدینہ شریف میں نماز پڑھتے ہیں اور کبھی جواب ملتا ہے کہ ہم روحانی نماز پڑھتے ہیں ، کبھی کہاجاتا ہے کہ اب ہم فنا فی اللہ ہو گئے ہیں اب ظاہری عبادات نماز ، روزہ، خاص کر زکوٰۃ تو بالکل ہم سے ساقط ہے ۔ہاں مگر کوئی مرید دس بار بھی حج کرائے تب بھی حج ساقط نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ فری میں ایک فارن ٹرپ شاپنگ کے ساتھ میسر آتی ہے اور جاتے وقت مریدین جو نذرانہ پیش کرتے ہیں وہ بونس ۔

لوگو! ذرا غور کرو ایسے پیر نماز تو مدینے میں ادا کرتے ہیں مگر کھانا مرید کے گھر پر ہی کھاتے ہیں، فنا فی اللہ ہونے کے بعد کھانا ساقط نہیں ہوتا اور وہ بھی عمدہ اور لذیذ ، کیوں کہ اگر کھانا ساقط پوگیا تو جان بھی ساقط ہوجائے گی۔اور پیر صاحب کو جان بڑی پیاری ہے۔ اور پیسے بھی ساقط نہین ہوتے کیوں کہ انہیں سے عیش و عشرت کا سامان مہیا ہونا ہے، حج ساقط نہیں ہوتا کیوں کہ گھومنے کو ملتا ہے نذرانوں کے ساتھ۔

ہاں اگر کوئی چیز فنا فی اللہ ہونے کے بعد ساقط ہوتی ہے تو وہ نماز ہے۔کیوں کہ اس میں ان ڈھونگیوں کو سوائے مشقت کے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔

کیا کبھی ایسا سنا ہے؟ کہ حضور ﷺ کے گھر سے کوئی مہمان آکر بغیر کھانا کھائے واپس گیا ہو ۔مگر یہ پیر کہتے ہیں کہ حضورﷺ نماز کے لئے مدینہ بلاتے ہیں ۔مگر نماز کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ کھانا مریدوں کے گھر کھا لینا ۔اور وہ بھی (چکن،مٹن) سے کم مت کھانا اگر سبزی روٹی ہو تو کسی دوسرے کے گھر کھا لینا۔

اے لوگو! کب تک ان ڈھونگی پیروں کے چنگل میں پھنستے رہو گے ؟

اور وہ پیر جو کہتے ہیں ہماری نماز معاف ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ جب حضورﷺ کی نماز معاف نہ ہوئی ،تو ان جاہل پیروں کی کیا معاف ہوگی؟۔

ایسے پیروں کے لئے حضرت مولانا روم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

کار شیطاں میکند نامش ولی

گر ولی ایں است لعنت بر ولی

ترجمہ۔شیطان کا کام کرتا ہے اور اپنے آپ کو ولی کہتا ہے اگر اسی کو ولی کہتے ہیں تو لعنت ہے ایسے ولی پر

4⃣ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

پیارے اسلامی بھائیو ! یہ تین لوگ اگر سدھر جائیں تو قوم مسلم آج کے اس دور کے پر آشوب ماحول میں بھی اپنا کھویا ہوا وقار پا سکتی ہے۔اگر ہمارے امام پڑھے لکھے حسساس ہونگے تو ہمیں صحیح راہ دکھائیں گے چاپلوسی کر کے وقت برباد نہیں کریں گے اور اگر ہمارے مقرر (اسپیکرس) ہمیں صحیح راستہ دکھائیں گے اور جوکس اور چاپلوسی سے کام نہیں لیں گے تو ہمیں صحیح جانکاری ملے گی اور ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی اجر پائیں گے۔

اور اگر پیر چاہیں تو شریعت پر خود عمل کر کے سارے مریدوں کو بھی نمازی اور شریعت پر عمل کرنے والا بنا سکتے ہیں یہی وہ تین گروپ ہیں جو قوم مسلم کو صرف اپنے فائدے کے لئے نقصان اور پستی کی گہرائیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ہمیں اب انکی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو بچانا ہے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.