أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ اَوۡ كَثُرَ ‌ؕ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا

ترجمہ:

مردوں کے لئے (اس مال میں) سے حصہ ہے جس کو ماں باپ اور قرابت داروں نے چھوڑا ہو: اور عورتوں کے لیے (بھی) اس (مال میں) سے حصہ ہے جس کو ماں باپ اور قرابت داروں نے چھوڑا ہو خواہ (وہ مال) کم ہو یا زیادہ ‘ یہ (اللہ کی طرف سے) مقرر کیا ہوا حصہ ہے

تفسیر:

زمانہ جاہلیت میں بچوں اور عورتوں کو وارث نہ بنانا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن زید بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں باپ دادا کے ترکہ سے عورتیں وارث نہیں ہوتی تھیں۔ اسی طرح چھوٹا بچہ خواہ مذکر ہو وہ اپنے ماں باپ کے ترکہ سے وارث نہیں کیا جاتا تھا۔ عکرمہ نے بیان کیا ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا یا رسول اللہ ! میرا خاوند فوت ہوگیا اور اس نے مجھ کو اور ایک بیٹی کو چھوڑا ہے اور ہم کو وارث نہیں بنایا جارہا ‘ اس کی بچی کے چچا نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ عورتیں نہ گھوڑے پر سوار ہوسکتی ہیں نہ گھاس کا گٹھا اٹھا کر لاسکتی ہیں نہ دشمن کا مقابلہ کرسکتی ہیں نہ کما لاسکتی ہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی مردوں کے لئے اس (مال میں) سے حصہ ہے جس کو ماں باپ اور قرابت داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے بھی اس (مال میں) سے حصہ ہے جس کو ماں باپ اور قرابت داروں نے چھوڑا ہو خواہ (وہ مال) کم ہو یا زیادہ یہ (اللہ کی طرف سے) مقرر کیا ہوا حصہ ہے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٧٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

تقسیم وراثت میں ورثاء کا اقرب ہونا معیار ہے : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کا مال کھانے سے منع فرمایا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ جب وہ سن شعور کو پہنچ جائیں تو انکے اموال ان کے حوالے کردو اور اس آیت میں یہ واضح کیا ہے کہ یتیموں کے ولی ان کے جس مال کی حفاظت کرتے ہیں اس میں مرد اور عورت کی کوئی تخصیص نہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو وارث بنایا جاتا تھا نہ بچوں کو ‘ وہ کہتے تھے کہ ہم اس کو وارث نہیں بنائیں گے جو نیزوں سے جنگ کرسکے نہ مال غنیمت لوٹ سکے۔ اس آیت میں بتایا ہے کہ جب یتیم بچوں کے ماں باپ اور قرابت دار مال چھوڑ جائیں تو وہ ترکہ کے مستحق ہونے میں برابر ہیں اس میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں ہے اور نہ ترکہ کے کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ ہرچند کہ حصہ کی مقدار میں فرق ہوتا ہے ‘ اسی طرح میت کے ساتھ لاحق ہونے میں بھی فرق ہوتا ہے اور جو میت کے ساتھ بلاواسطہ لاحق ہو اس کے ہوتے ہوئے وہ محروم ہوتا ہے جو کسی واسطہ کے ساتھ میت کے ساتھ لاحق ہوتا ہے مثلا میت کا ایک بیٹا ہو اور ایک یتیم پوتا ہو تو بیٹا میت کے ساتھ بلاواسطہ لاحق ہے اور یتیم پوتا (فوت شدہ) دوسرے بیٹے کے واسطہ سے لاحق ہے۔ اس لئے بیٹے کے ہوتے ہوئے یتیم پوتا محروم رہے گا۔ 

یتیم اس نابالغ بچہ کو کہتے ہیں جس کا باپ فوت ہوگیا ہو۔ 

علم وارثت کا یہ قاعدہ ہے کہ قریب وارث کے ہوتے ہوئے بعید وارث محروم ہوجاتا ہے ایس بناء پر اگر کسی شخص کا ایک بیٹا زندہ اور دوسرے فوت شدہ بیٹے کا بیٹا یعنی یتیم پوتا بھی زندہ ہو تو اس شخص کی وراثت سے بیٹے کے ہوتے ہوئے یتیم پوتے کو حصہ نہیں ملے گا کیونکہ یتیم پوتا میت سے ایک واسطہ سے بعید ہے اور بیٹا میت سے بلاواسطہ لاحق ہے اور اقرب ہے۔ اس قاعدہ کی اصل یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرائض اہل فرائض کو لاحق کردو۔ (قرآن مجید میں ورثاء کے مقرر کردہ حصص کو فرائض کہتے ہیں) اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے وہ میت کے سب سے قریب مرد کو دے دو ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٧٣٢‘ ٦٧٣٥‘ ٦٧٤٧) 

اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ وارث اقرب کے ہوتے ہوئے وارث ابعد محروم ہوجاتا ہے اور اقرب اور ابعد کا یہ اصول ورثاء کے لئے ہے مورث کے لئے نہیں ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت میں جو اقربون کا لفظ ہے وہ مورث کے لئے ہے۔ مردوں کے لیے (اس مال) میں سے حصہ ہے جس کو والدین اور اقربین نے چھوڑا ہے۔ مفتی محمد شفیع نے اس آیت میں اقربین کے لفظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ استحقاق وراثت کے لئے ورثاء کا اقرب ہونا ضروری ہے۔ یہ اصول تو صحیح ہے مگر اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس آیت میں اقربون کا لفظ مورثین اور مرنے والوں کے لیے ہے ورثاء کے لئے نہیں ہے۔ مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ 

نیز اسی لفظ ” اقربون “ سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ مال وراثت کی تقسیم ضرورت کے معیار سے نہیں بلکہ قرابت کے معیار سے ہے اس لیے یہ ضروری نہیں کہ رشتہ داروں میں جو زیادہ غریب اور حاجت مند ہو اس کو زیادہ وراثت کا مستحق سمجھا جائے بلکہ جو میت کے ساتھ رشتہ میں قریب تر ہوگا وہ بہ نسبت بعید کے زیادہ مستحق ہوگا۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٣١١‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 7