وَابۡتَلُوا الۡيَتٰمٰى حَتّٰىۤ اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ‌ ۚ فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡهُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ اَمۡوَالَهُمۡ‌ۚ وَلَا تَاۡكُلُوۡهَاۤ اِسۡرَافًا وَّبِدَارًا اَنۡ يَّكۡبَرُوۡا‌ ؕ وَمَنۡ كَانَ غَنِيًّا فَلۡيَسۡتَعۡفِفۡ‌ ۚ وَمَنۡ كَانَ فَقِيۡرًا فَلۡيَاۡكُلۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ ؕ فَاِذَا دَفَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ اَمۡوَالَهُمۡ فَاَشۡهِدُوۡا عَلَيۡهِمۡ‌ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيۡبًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 6

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَابۡتَلُوا الۡيَتٰمٰى حَتّٰىۤ اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ‌ ۚ فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡهُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ اَمۡوَالَهُمۡ‌ۚ وَلَا تَاۡكُلُوۡهَاۤ اِسۡرَافًا وَّبِدَارًا اَنۡ يَّكۡبَرُوۡا‌ ؕ وَمَنۡ كَانَ غَنِيًّا فَلۡيَسۡتَعۡفِفۡ‌ ۚ وَمَنۡ كَانَ فَقِيۡرًا فَلۡيَاۡكُلۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ ؕ فَاِذَا دَفَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ اَمۡوَالَهُمۡ فَاَشۡهِدُوۡا عَلَيۡهِمۡ‌ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيۡبًا

ترجمہ:

اور یتیموں کا (بطور تربیت) امتحان لیتے رہو حتی کہ جب وہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں اور تم ان میں سمجھ داری (کے آثار) دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ اور ان کے مال کو فضول خرچ کرکے انکے بڑے ہونے کے خوف سے جلدی جلدی نہ کھاؤ اور جو (یتیم کا ولی) مال دار ہو۔ وہ (ان کا مال کھانے سے) بچتا رہے اور جو حاجت مند ہو وہ دستور کے موافق کھالے ‘ پھر جب تم ان کے مال ان کے حوالے کرو تو ان پر گواہ بنا لو ‘ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم یتیموں کا (بطور تربیت) امتحان لیتے رہو حتی کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ الخ۔ 

لڑکے اور لڑکی کی بلوغت کا معیار : 

لڑکے کے بلوغ کی علامت احتلام اور انزال ہے اور لڑکی کے بلوغ کی علامت احتلام ‘ حیض اور حمل ہے۔ اگر ان دونوں میں ان میں سے کوئی علامت نہ پائی جائے تو ان دونوں کو پندرہ سال کی عمر میں بالغ قرار دیا جائے گا اسی پر فتوی ہے۔ (اس سے یہ معلوم ہوا کہ زیر ناف بالوں کے ظہور کا بلوغ میں اعتبار نہیں ہے ‘ پندرہ سال کی عمر ‘ امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے اور ائمہ ثلاثہ کا بھی یہی مذہب ہے ‘ اور امام اعظم کے نزدیک لڑکے کے لئے اٹھارہ سال اور لڑکی کے لئے سترہ سال بلوغت کا میعار ہے جمہور کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کی عمر جنگ احد میں چودہ سال تھی وہ جہاد کے لئے آئے تو آپ نے قبول نہیں کیا اور ایک سال بعد پندرہ سال کی عمر میں جنگ خندق میں پیش ہوئے تو آپ نے قبول فرمالیا۔ شامی) اور لڑکے کی بلوغ کے لئے کم از کم عمربارہ سال ہے اور لڑکی کی نوسال عمر ہے۔ اگر وہ اس عمر میں بلوغ کا دعوی کریں اور مشاہدہ ان کے دعوی کی تکذیب نہ کرے تو ان کے دعوی کو مان لیاجائے گا۔ (درمختار مع ردالمختار ج ٥ ص ٩٧) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (یتیم کا جو ولی انکے مال سے) مستغنی ہو وہ (ان کا مال کھانے سے) بچتا رہے اور جو حاجت مند ہو وہ دستور کے موافق کھالے۔ (النساء : ٦) 

یتیم کا مال کھانے میں مذاہب فقہاء : 

علامہ ابوبکر جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ نے بیان کیا ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک یتیم کے ولی کے لئے یتیم کا مال کھانا جائز نہیں ہے۔ بطور قرض نہ بطور تبرع۔ نیز انہوں نے لکھا ہے کہ یتیم کے ولی کو قاضی اور عامل پر قیاس نہیں کیا کھانا جائز نہیں ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وصی اور ولی بغیر کسی شرط کے بطریق تبرع اور احسان یتیم کے مال کی دیکھ بھال کرتا ہے اس لئے اس کی اجرت واجب نہیں ہے اور اس کو یتیم کے مال سے لینا جائز نہیں ہے بطور قرض نہ بطور غیر قرض۔

(احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٦٨ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

دیگر ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ضرورت کے وقت قرض کی صورت میں یا بغیر قرض کے یتیم کا مال کھانا جائز ہے۔ حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ نے لکھا ہے کہ فقہاء نے کہا ہے کہ ولی کی ضرورت اور اس کی اجرت میں سے جو کم ہو وہ اس کو لے سکتا ہے اور جب وہ خوش حال ہوجائے تو اس کی واپسی کے متعلق دو قول ہیں : امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا میرے پاس مال ہے اور میرے پاس یتیم ہے آپ نے فرمایا : بغیر اسراف اور تبذیر کے اپنے یتیم کے مال سے کھالو اور نہ مال جمع کرنا اور نہ اپنامال بچانا۔ اور امام ابوداؤد ‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا میرے پاس ایک یتیم ہے جس کا مال ہے اور میرے پاس مال نہیں ہے آیا میں اس کے مال سے کھا لوں ؟ آپ نے فرمایا بغیر اسراف کے اس کے مال سے کھالو دوسرا قول یہ ہے کہ خوش حال شخص بھی یتیم کے مال سے قرض لے سکتا ہے لیکن بعد میں اس کو واپس کر دے اور اس قول کی دلیل یہ ہے کہ امام سعید بن منصور نے اپنی سنن میں حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کہ میرے نزدیک یتیم کا مال بیت المال کے حکم میں ہے اگر میں اس مال سے مستغنی ہوں تو میں اس سے اجتناب کرتا ہوں اور جب ضرورت ہوتی ہے تو میں اس مال سے قرض لیتا ہوں اور جب گنجائش ہوتی ہے تو اس کو واپس کردیتا ہوں۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ‘ ٢٠٦۔ ٢٠٥ مطبوعہ ادارہ اندلس ‘ بیروت ‘ ١٣٨٥ ھ) 

فقیہ ابو اللیث نصربن محمد سمرقندی متوفی ٣٧٠ ھ روایت کرتے ہیں :

اگر ولی فقیر ہو اور اپنی خدمت اور محنت کے مطابق یتیم کے مال سے کھالے تو مجھے امید ہے کہ اس سے مواخذہ نہیں ہوگا کیونکہ بہت سے علماء نے اس کی اجازت دی ہے اور اس سے احتراز کرنا افضل ہے۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٣٣٤‘ مطبو عہ دارا الکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) علامہ عبدالرحمن بن علی الجوزی الحنبلی متوفی ٥٩٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمر (رض) حضرت ابن عباس (رض) حضرت حسن بصری (رض) شعبی ‘ ابوالعالیہ ‘ مجادہ ‘ ابن جبیر، نخغی ‘ قتادہ اور دوسرے فقہاء کے نزدیک غنی کے لئے یتیم کا مال کھانا بالکل جائز نہیں ہے اور جس فقیر کے پاس قدر کفایت مال نہ ہو اور مال یتیم کی حفاظت اور نگرانی کی وہ سے وہ اپنے لئے کسب معاش نہ کرسکتا ہو وہ بغیر اسراف کے بقدر ضرورت یتیم کے مال سے لے سکتا ہے اور جب وہ غنی ہوجائے تو اس مال کو واپس کرنے کے متعلق دو قول ہیں۔ حسن ‘ شعبی ‘ نخغی ‘ قتادہ اور امام احمد کے نزدیک اس پر کوئی ضمان نہیں ہے اور جو کچھ اس نے لیا ہے وہ بہ منزلہ اجرت ہے اور حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں غنی ہونے کے بعد اس مال کو واپس کرنا اس پر واجب ہے۔ (زاد المیسر ج ٢ ص ١٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے شیخ ابو العباس یہ کہتے ہیں کہ اگر یتیم کا مال بہت زیادہ ہو اور اس کی حفاطت اور اس کو کاروبار میں لگانے کے لئے ولی کو اپنے ضروری کاموں کو چھوڑنا پڑے تو اس کی محنت کے مطابق اس کا اجر متعین کیا جائے گا ‘ اور اگر وہ مال کم ہو اور اس کی حفاظت کی وجہ سے اپنا کام چھوڑنا پڑے تو اس مال سے بالکل نہ لے البتہ اس کے جانوروں سے اپنے لئے تھوڑا دودھ لے لینا اس کے لئے جائز ہے اور اس کے کھانے میں سے کچھ کھا لینا اس کے لئے جائز ہے۔ زیادہ نہ لے بلکہ رواج کے مطابق لے ‘ اور اجرت لینا اور کھانے پینے کی کچھ چیزیں لینا دستور کے مطابق ہے اور اس آیت کو اس معنی پر محمول کرنا چاہیے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں میں کہتا ہوں کہ اس سے احتراز کرنا افضل ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ٤٤ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

تعلیم قرآن اور دیگر عبادات پر اجرت لینے کی تحقیق : 

علماء دین اور دینی خدمات بجا لانے والے عاملین کے لئے ان خدمات پر اجرت لینا اس وقت منع ہے جب ان کے علاوہ ان خدمات کو انجام دینے کے لئے اور کوئی شخص نہ ہو اور ان کے حق میں ان خدمات کا انجام دینا فرض عین ہوجائے۔ 

اور جب ایسی صورت حال نہ ہو تو پھر انکے لئے ان خدمات پر اجرت لینا جائز ہے۔ اس کی ممانعت میں جو احادیث مروی ہیں ان میں اکثر غایت درجہ کی ضعیف ہیں۔ ثانیا ان کا محمل یہ ہے کہ جب اس فرض کی ادائیگی کے لئے اور کوئی نہ ہو ‘ نیز احادیث صحیحہ سے دینی امور پر اجرت لینے کا جواز ثابت ہے اس امر کی مکمل تفصیل اور تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم جلد سابع (٧) کے اخیر میں بیان کی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 6