پیٹ میں کچھ پائے تو اس پر مشتبہ ہوجائے

حدیث نمبر :294

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ پائے تو اس پر مشتبہ ہوجائے کہ کچھ نکلایانہیں تو مسجد سے نہ جائے،تاآنکہ آواز سن لے یا بُو محسوس کرے ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یعنی اگرکوئی شخص مسجد میں جماعت سے نماز پڑھ رہا ہے کہ اس کے پیٹ میں گڑ گڑاہٹ ہوئی لیکن بو محسوس نہ ہوئی،ہوا کے نکلنے کا یقین نہ ہوا،یونہی شبہ ساہوگیاتوشبہ کا اعتبار نہ کرے،وہ باوضو ہے،نماز پڑھے جائے۔آواز سننے سے مراد ہے نکلنے کا یقین۔اس سےمعلوم ہوا کہ یقینی وضو مشکوک حدث سے نہیں جاتا،ہمیں یقین ہے کہ ظہر کے وقت ہم نے وضو کیا تھا مگر ٹوٹنے کا صرف شبہ ہے یقینی نہیں تو ہمارا وضو باقی ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.