اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا اِنَّمَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا‌ ؕ وَسَيَـصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 10

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا اِنَّمَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا‌ ؕ وَسَيَـصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ناجائز طریقہ سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھر رہے ہیں۔ اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ناجائز طریقے سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ (النساء : ١٠) 

ظلما مال یتیم کھانے پر انتہائی سخت عذاب کی وجہ : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ظلما مال یتیم کھانے پر سخت وعید فرمائی ہے اور اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے ظلما مال یتیم کھانے پر یکے بعد دیگرے آیات نازل فرمائیں۔ فرمایا : (آیت) ” ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب “۔ (النساء : ٢) 

اپنے کھوٹے مال کو ان کے کھرے مال سے نہ تبدیل کرو اور فرمایا :

(آیت) ” ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم انہ کان حوبا کبیرا “۔ (النساء : ٢) ا 

ترجمہ ان کے اموال کو اپنے اموال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ بیشک یہ بہت بڑا گناہ ہے ‘ اور فرمایا : 

(آیت) ” ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا ان یکبروا “۔ (النساء : ٦) 

ترجمہ : اور یتیموں کے بڑے ہوجانے کے خوف سے ان کے اموال کو فضول خرچ کرکے اور جلدی جلدی نہ کھاؤ‘ اور اس سے پہلی آیت میں فرمایا : یتیم کے ولی یہ سوچ کر ڈرایں کہ اگر وہ اپنے مرنے کے بعد بےسہارا اولاد چھوڑ جاتے تو انہیں (مرتے وقت) ان کے متعلق کیسا اندیشہ ہوتا ‘ سو انہیں (یتیموں کے متعلق) اللہ سے ڈرنا چاہیے اور درست بات کہنی چاہیے (النساء : ٩) اور اس آیت میں فرمایا بیشک جو لوگ ناجائز طریقہ سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ (النساء : ١٠) 

ان تمام وعیدوں کا نازل کرنا ‘ یتیموں پر اللہ کی رحمت ہے کیونکہ یتیم کمزور اور بےسہارا ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی زیادہ توجہ اور التفات کے مستحق ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ بہت رحیم وکریم ‘ معاف کرنے اور درگزر کرنے والا ہے تھے اس لئے ان پر ظلم کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی وعید بھی بہت سخت ہے۔ 

ظلما ‘ یتیموں کا مال کھانے والوں کے متعلق احادیث : 

امام محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شعب معراج کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا : میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کی طرح ہیں اور ان کو ایسے لوگوں کے سپرد کردیا گیا ہے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑ رہے ہیں پھر ان کے مونہوں میں ایسے آگ کے پتھر ڈال رہے ہیں جو ان کے دھڑکے نچلے حصہ سے نکل رہے ہیں۔ میں نے کہا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو ظلما یتیموں کا مال کھاتے تھے اور وہ درحقیقت اپنے پیٹوں میں آگ کھا رہے تھے۔ (جامع البیان ج ٤ ض ١٨٤ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام ابو یعلی ‘ امام طبرانی اور امام ابن حبان حضرت ابو برزہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن ایسے لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے جن کے مونہوں سے آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے۔ آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جو لوگ یتیم کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھر رہے ہیں۔ 

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے جو شخص یتیم کا مال ظلما کھاتا ہے جب وہ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو اس کے منہ ‘ اس کے کانوں ‘ اس کی ناک اور اس کی آنکھوں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے اور اسے دیکھ کر ہر شخص پہچان لے گا کہ یہ یتیم کا مال کھانے والا ہے۔ 

امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پر حق ہے کہ وہ چار آدمیوں کو جنت میں داخل کرے نہ ان کو جنت کی نعمتیں چکھائے۔ عادی شرابی، سود کھانے والا، یتیم کا مال ناحق کھانے والا اور ماں باپ کا نافرمان۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٢٤‘ مطبوعہ ایران)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 10

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.