اہل عرب کتابت سے بھی واقف تھے

اہل عرب کتابت سے بھی واقف تھے

ویسے حق وانصاف کی بات یہ ہے کہ جہاں اہل عرب کے حافظے ضرب المثل تھے اور انہوں نے بہت بڑاسرمایہ زبانی یادرکھا وہیں یہ بات بھی ثابت ومتحقق ہوچکی ہے کہ انکو نوشت وخواند سے بالکلیہ بے بہرہ قرار دینا بھی درست نہیں ۔

علامہ پیرکرم شاہ ازہری لکھتے ہیں:۔

مستشرقین نے اس سلسلہ میں دومتضاد موقف اختیار کئے ہیں ،ایک طرف وہ لوگ ہیں جوکہتے ہیں کہ اسلام سے پہلے عربوں میں صرف گنتی کے چند لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔ اس سے وہ عربوں کو بالکل اجڈ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں : عربوں میں لکھنے پڑھنے والے لوگوں کی کمی نہ تھی بلکہ عرب میں لکھنے پڑھنے کاعام رواج تھا ۔اس خیال کے لوگ اپنے موقف کو ثابت کرنے کیلئے یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن حکیم میں امت مسلمہ کو امیین ۔( ہو الذی بعث فی الأمیین رسولا منہم، الآیۃ، الجمعۃ، ۲)کے لقب سے یاد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی کتاب نہیں آئی تھی ،گویا وہ دینی نقطۂ نگاہ سے امّی تھے ،ان کو امی اس لئے نہیں کہا گیا کہ وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے ۔

مستشرقین کے دونوں موقف حق سے کوسوں دور ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ عرب نہ تو نوشت وخواند سے کلیۃً بے بہرہ تھے ،اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ عربوں میں لکھنے پڑھنے کااتناعام رواج تھاکہ انہیں امی کہاہی نہ جاسکے ۔

عربوں میں کتابت کے رواج کے متعلق ڈاکٹر فواد سزگین اپنی کتاب ’’ مقدمہ تاریخ تدوین حدیث ‘‘ میں رقمطراز ہیں :۔

اسلام سے ایک صدی قبل کے بعض شعراء کی روایت سے ہم کوکم ازکم یہ پتہ چلتا ہے کہ دواوین سے روایت انکے یہاں ایک رائج طریقہ تھا ،اور بعض شعراء کو تولکھنے کی بھی عادت تھی ۔

زہیر بن ابی سلمہ جیسے شعراء خود اپنے قصائد کی تنقیح کیا کرتے تھے ،یہ نظر یہ کہ جاہلی شاعری کاسارا ذخیرہ زبانی روایت پرمبنی ہے دورجدید ہی کی تخلیق ہے ،اسی طرح یہ بھی ایک غلط خیال ہے کہ حدیث کی روایت محض زبانی ہوتی رہی ہے ۔ بلکہ صدر اسلام میں نصوص مدونہ کو روایت کرنے کا رواج دورجاہلیت کی عادت پر مبنی ہے۔ (مقدمہ تاریخ تدوین حدیث، ۳۱)

عربوں میں نوشت وخواند کے رواج کے متعلق ڈاکٹر محمد عجاج الخطیب اپنی کتاب ’السنۃ قبل التدوین ،میں لکھتے ہیں ۔

تدل الدراسۃ العلمیۃ علی ان العرب کانوا یعرفون الکتابۃ قبل الاسلام ، فکانوایؤرخون اھم حوادثہم علی الحجارۃ (السنۃ قبل التدوین، ۱۹۵)

علمی تحقیقات اس حقیقت کا انکشاف کرتی ہیں کہ کہ عرب لوگ اسلام سے پہلے لکھنا پڑھنا جانتے تھے اوروہ اپنی اجتماعی زندگی کے اہم واقعات کو پتھروں پرلکھ لیتے تھے ۔

یہ ہی مصنف ایک اور جگہ لکھتے ہیں :۔

وہذایدل علی وجود بعض الکتاتیب فی الجاہلیۃ یتعلم فیہا الصبیان الکتابۃ والشعروایام العرب ،ویشرف علی ھذہ الکتاتیب معلمون ذومکانۃ رفیعۃ امثال ابی سفیان بن امیۃ بن عبد شمس۔ (السنۃ قبل التدوین، ۲۹۵)

اس سے پتہ چلتاہے کہ زمانۂ جاہلیت میں کچھ مدارس موجود تھے جن میں بچے کتابت ، شاعری اورعربی تاریخ سیکھتے تھے ،اور ان مدارس کے سربراہ بڑے بااثر معلم ہوتے تھے ،جیسے ابوسفیان بن امیہ بن عبد شمس وغیرہ ۔

وکان العرب یطلقون اسم الکامل علی کل رجل یکتب ویحسن الرمی ویجید السباحۃ۔(السنۃ قبل التدوین، ۲۹۵)

جو شخص کتابت ،تیراندازی اور تیراکی کاماہر ہوتا عرب اسے کامل ،کا لقب عطاکرتے تھے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.