قرآن کریم نے قلم و کتابت کی اہمیت سے آگاہ کیا

قرآن کریم نے قلم و کتابت کی اہمیت سے ا ٓگاہ کیا

گذشتہ پیغامات میں اقتباسات تواسلام سے پہلے عرب میں کتابت کے رواج کا پتہ دیتے ہیں ، لیکن اسلام نے جہاں زندگی کے دیگر تمام شعبوں میں دوررس تبدیلیاں کیں وہاں اس نے عربوں کی علمی حالت میں بھی ایک انقلاب برپا کیا ۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات قلم اور کتابت کی اہمیت پرروشنی ڈالتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قلم کو علم سکھا نے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

سورۃ العلق میں ارشادخداوندی ہے ۔

اقرأ وربک الاکرم الذی علم بالقلم ،(القرآن الحکیم، سورۃ العلق، ۳۴)

پڑھئے ! آپ کا رب بڑاکریم ہے ،جس نے علم سکھا یا قلم کے واسطہ سے ۔

قرآن حکیم کے نزدیک قلم وکتابت کی اہمیت کا ثبوت اس سے زیادہ اورکیا ہوسکتا ہے کہ قرآن حکیم کی ایک سورۃ کو ’القلم ،کا نام دیاگیا ہے ،اور اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم بھی یاد فرمائی ہے اور ان چیزوں کی بھی قسم ذکر فرمائی جنہیں قلم لکھتا ہے ۔

نٓ والقلم وما یسطرون ،(القرآن الحکیم، سورہ القلم، ۱)

قسم ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں ۔

قرآن حکیم میں ان کے علاوہ اور بھی بے شمار آیات کریمہ کتابت اورعلم کے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کو فن کتابت کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے خصوصی اہتمام فرمایا ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مشن کا تقاضاہی یہ تھا کہ آپ کی امت میں وہ لوگ کثیر تعداد میں موجود ہوں جو لکھنے پڑھنے کے فن میں منفرد ہوں کیونکہ آپ ایک عالمی دین لیکر تشریف لائے تھے جسکو قیامت تک ساری نسل انسانی کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا تھا ۔آپ کے پیش نظر ایک ایسی امت کی تشکیل تھی جو اس خدائی پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلائے ۔دین کی حفاظت اور ملت کے دینی ،سیاسی ، معاشی ،معاشرتی اور اجتماعی امور کو سرانجام دینے کیلئے فن کتابت کی اشد ضرورت تھی اورقرآن حکیم کی آیات کریمہ اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کررہی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جنگ بدر کے موقع پرمکہ کے جو جنگی قیدی بنے ان میں سے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کی آزادی کیلئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فدیہ مقرر فرمایا تھا کہ ا ن میں سے ہرایک مسلمانوں کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے ۔ ہجرت سے پہلے ہی حضور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں ایک معقول تعداد ان لوگوں کی تھی جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور کتابت وحی کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے ۔ ہجرت کے بعد تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دیگر علوم کی طرح فن کتابت کوبھی ترقی دینے کیلئے خصوصی اہتمام فرمایا ۔

ڈاکٹر محمد عجاج الخطیب لکھتے ہیں :۔

وقد کثر الکاتبون بعد الہجرۃعند ماستقرت الدولۃ الاسلامیۃ فکانت مساجد المدینۃ التسعۃ الی جانب مسجد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم محط انظار المسلمین یتعلمون فیہا القرآن الکریم وتعالیم الاسلام والقرآن والکتابۃ ،وقد تبرع المسلمون الذین یعرفون الکتابۃ والقرأۃ بتعلیم اخوانہم ( السنۃ قبل التدوین، ۲۹۹)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.