وَاِذَا حَضَرَ الۡقِسۡمَةَ اُولُوا الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنُ فَارۡزُقُوۡهُمۡ مِّنۡهُ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 8

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا حَضَرَ الۡقِسۡمَةَ اُولُوا الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنُ فَارۡزُقُوۡهُمۡ مِّنۡهُ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا

ترجمہ:

اور جب (ترکہ کی) تقسیم کے وقت (غیروارث) قرابت دار ‘ یتیم اور مسکین (بھی) موجود ہوں، تو (اس ترکہ سے) انہیں بھی کچھ دے دو ، اور ان سے خیر خواہی کی بات کہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب (ترکہ کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) قرابت دار یتیم اور مسکین (بھی) موجود ہوں تو (اس ترکہ سے) انہیں بھی کچھ دے دو اور ان سے خیر خواہی کی بات کہو ،۔ (النساء : ٨)

ورثاء میں ترکہ کی تقسیم کی تفصیل : 

اس آیت میں یہ بتلایا ہے کہ اے ایمان والو جب تم اپنے کسی رشتہ دار کا ترکہ تقسیم کرو اور تقسیم کے وقت ایسے رشتہ دار اور یتیم آجائیں جن کو اس ترکہ سے از روئے شریعت کچھ نہ مل رہا ہو یا دوسرے غریب اور مسکین آجائیں تو اس ترکہ سے انہیں بھی کچھ دے دو اور ان سے نرمی اور خیر خواہی کی بات کرو مثلا یہ کہو کہ تم یہ مال لے لو ‘ تمہیں اللہ برکت دے وغیرہ وغیرہ۔ 

جب کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کے ترکہ کے ساتھ چار حقوق متعلق ہوئے اول یہ کہ میانہ روی کے ساتھ اس کی تجہیز اور تکفین کی جائے ثانی یہ کہ اس کے ترکہ سے اس کا قرض ادا کیا جائے اگر قرض ہو۔ اگر بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ بھی میت پر قرض ہے اور تقسیم ترکہ سے پہلے ادا کیا جائے گا۔ ثالث یہ کہ اس کے ثلث (ایک تہائی) مال سے اس کی وصیت پوری کی جائے اگر اس نے وصیت کی ہو۔ رابع یہ کہ اس کے باقی ماندہ مال کو اس کی ورثاء میں قرآن ‘ حدیث اور اجماع کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ 

تقسیم میں اصحاب الفرائض سے ابتداء کی جائے۔ اصحاب الفرائض وہ ہیں جن کے حصص قرآن مجید میں مقرر کردیئے گئے ہیں مثلا ایک بیٹی کو نصف مال ملے گا دو یا دو سے زائد بیٹیوں کو دو ثلث (دو تہائی) اور ان کے لینے والے بارہ ہیں۔ چار مرد ہیں : باپ ‘ جد صحیح (دادا اور نانا ‘ نانا ‘ جد فاسد ہے) اخیافی بھائی (ماں کی طرف سے) اور خاوند ‘ اور آٹھ عورتیں ہیں : بیوی بیٹی ‘ پوتی ‘ عینی بہن (سگی بہن) اخیافی بہن ‘ علاتی بہن (باپ کی طرف سے) ماں اور جدہ صحیحہ (نانا کی ماں جدہ فاسدہ ہے) ان کے حصوں کی تفصیل انشاء اللہ آگے آئے گی۔ 

اصحاب الفرائض کو ان کا حصہ دینے کے بعد اگر ترکہ بچ رہے ‘ یا اصحاب الفرائض نہ ہوں تو پھر وہ تمام ترکہ عصبات کو دیا جاتا ہے۔ باپ کی طرف سے قرابت داروں کو عصبات کہا جاتا ہے عصبات بنفسہ چار ہیں : بیٹا پوتا ‘ باپ یا دادا ‘ بھائی اور چچا ‘ عصبات میں جو قریب ہو اس کو ملے گا اور بعید محروم ہوگا۔ اگر بیٹے کے ساتھ بیٹیاں بھی ہوں تو وہ عصبات بالغیر ہیں ‘ اور اگر بیٹیوں کے ساتھ بہنیں بھی ہوں تو وہ عصبات مع الغیر ہیں۔ اگر عصبات نہ ہوں تو پھر تمام مال ذوی الارحام میں تقسیم کردیا جاتا ہے ‘ ذوی الارحام وہ ہیں جو مال کی طرف سے میت کے رشتہ دار ہوں ان کے چار درجات ہیں پہلا درجہ ہے بیٹی کی اولاد اور پوتی کی اولاد۔ دوسرا درجہ ہے : جد فاسد اور جدات فاسدہ یعنی نانا اور نانا کی ماں ‘ اور تیسرا درجہ ہے۔ بہنوں کی اولاد اور عینی اور علاتی بھائیوں کی بیٹیاں اور اخیافی بھائی کی اولاد ‘ اور چوتھا درجہ ہے پھوپھیاں ‘ اخیافی چچا اور ماموں اور خالہ ان میں درجہ بدرجہ ترتیب ہے اور اقرب کے مقابلہ میں ابعد محروم ہوگا۔

اگر ذوی الارحام نہ ہوں تو پھر میت کا ترکہ اس شخص کو دیا جائے گا جس کے لئے میت نے کل مال کی وصیت کی ہو اور اگر یہ بھی نہ ہو تو پھر میت کا ترکہ بیت المال یعنی سرکاری خزانہ میں دال کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ہم نے ترکہ کی تقسیم میں لونڈی ‘ غلام ‘ مولی الموالات اور مقرلہ وغیرہ کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اب ان کا رواج نہیں ہے ہم نے اکثر پیش آمدہ صورتیں بیان کی ہیں جو حضرات پوری تفصیل جاننا چاہیں وہ سراجی اور شریفیہ وغیرہ کا مطالعہ کریں۔ 

رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کو دینا احسان نہیں ان کا حق پہنچانا ہے۔

اب اس آیت کی تفسیر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص فوت ہوگیا اور اس کا ایک بیٹا ‘ دو بیٹیاں اور اس کا ایک چچا اور بھانجا ہو تو اس صورت میں بیٹا عصبہ بنفسہ ہے اور بیٹیاں عصبہ بالغیر ہیں۔ چچا بھی عصبہ ہے مگر بیٹے کی بہ نسبت بعید ہے اور بھانجا ذوی الارحام کے تیسرے درجہ میں ہے۔ اس صورت میں کل ترکہ کے چار حصے کئے جائیں گے دو حصہ ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصہ دو بیٹیوں کو ملے گا۔ چچا عصبہ بعید ہونے کی وجہ سے محروم ہوگا اور بھانجا عصبہ کی موجودگی میں ذوالارحام ہونے کی وجہ سے محروم ہوگا تاہم چچا اور بھانجہ کو ورثاء انسانی ہمدردی کے تحت اپنی طرف سے تبرعا کچھ دے دیں تو یہ اس آیت پر عمل ہوگا اسی طرح اگر کوئی اور مسکین ہو تو اس کو بھی دے دیا جائے اور ان سے نرم اور ملائم گفتگو کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” وات ذالقربی حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا “۔ (بنواسرائیل : ٢٦) 

ترجمہ : اور رشتہ داروں کو ان کا حق ادا کرو اور مسکینوں اور مسافروں کو اور فضول خرچ نہ کرو۔ 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنے رشتہ داروں کو کچھ دے رہا ہے تو ان پر احسان نہیں کر رہا بلکہ ان کا حق ان تک پہنچا رہا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

(آیت) ” وفی اموالھم حق للسآئل والمحروم “۔ (الذاریات : ١٩) 

ترجمہ : اور ان کے اموال میں سوال کرنے والے اور محروم کا حق ہے۔ 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسکنیوں ‘ حاجت مندوں اور سائلوں کو انسان کچھ دیتا ہے تو ان پر کوئی احسان نہیں کر رہا بلکہ ان کا حق ان تک پہنچا رہا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 8

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.