وَلۡيَخۡشَ الَّذِيۡنَ لَوۡ تَرَكُوۡا مِنۡ خَلۡفِهِمۡ ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَيۡهِمۡ ۖفَلۡيَتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡيَقُوۡلُوا قَوۡلًا سَدِيۡدًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 9

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلۡيَخۡشَ الَّذِيۡنَ لَوۡ تَرَكُوۡا مِنۡ خَلۡفِهِمۡ ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَيۡهِمۡ ۖفَلۡيَتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡيَقُوۡلُوا قَوۡلًا سَدِيۡدًا‏

ترجمہ:

وہ لوگ یہ سوچ کر ڈریں کہ اگر وہ اپنے (مرنے کے) بعد بےسہارا اولاد چھوڑ جاتے تو انھیں (مرتے وقت) ان کے متعلق کیسا اندیشہ ہوتا، سو انھیں (یتیموں کے متعلق) اللہ سے ڈرنا چاہیے اور درست بات کہنی چاہیے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ لوگ یہ سوچ کر ڈریں کہ اگر وہ اپنے (مرنے کے) بعد بےسہارا اولاد چھوڑ جاتے تو انہیں (مرتے وقت) ان کے متعلق کیسا اندیشہ ہوتا سو انہیں (یتیموں کے متعلق) اللہ سے ڈرنا چاہیے اور درست بات کہنی چاہیے۔ (النساء : ٩) 

یتیموں کو اپنی اولاد کی طرف سمجھا جائے۔ 

اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : 

(١) بعض لوگ مریض سے یہ کہتے ہیں کہ تمہاری اولاد تمہارے مرنے کے بعد نیکیاں نہیں کرے گی جن سے تم کو آخرت میں ثواب پہنچے تو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے دو یا صدقہ و خیرات کردو ‘ یا کسی نیک کام میں صرف کردو ‘ یہ لوگ مرنے والے کو وصیت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اس کی اولاد کو ترکہ سے محروم کرنا چاہتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم بھی صاحب اولاد ہو تم یہ سوچو کہ اگر کوئی شخص تمہاری اولاد کو تمہارے ترکہ سے محروم کرنے کی کوشش کرتا تو تم پر کیا گزرتی ؟ 

(٢) حضرت ابن عباس (رض) کا دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں یتیم کے ولی سے یہ فرمایا ہے کہ وہ یتیم کی جان اور مال کے ساتھ انصاف اور احسان کریں اور یتیم کے مال کو جلدی جلدی ہڑپ کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ان کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اگر وہ چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مرجائیں تو ان کے یتیم بچوں کا ولی ان کے ساتھ حسن سلوک کرے اس لئے وہ اپنے انجام سے ڈریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں اور ہمیشہ سچی اور صحیح بات کہیں۔ (جامع البیان ج ٤ ض ١٨٣۔ ١٨١‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 9

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.