حدیث نمبر :297

روایت ہے حضرت سویدابن نعمان سے ۱؎ کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے سال گئے،جب مقام صہباءمیں پہنچے جو خیبر سے قریب ہے تو حضور نے نمازعصر پڑھی پھرتوشہ منگایاصرف ستّو لائے گئے۲؎ پھر آپ کے حکم سے بھگوئے گئےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھائے اور ہم نے بھی کھائے۳؎ پھر نماز مغرب کے لئے کھڑے ہوگئے تو آپ نے بھی کلی کرلی اور ہم نے بھی کرلی پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۴؎(بخاری)

شرح

۱؎ آپ انصاری ہیں،جنگ احد اوربیعت رضوان وغیرہ غزوات میں شریک رہے،اہلِ مدینہ میں سے ہیں۔

۲؎ یہ ہے سلطان کونین کاغزوات میں کھانا اور شاہی راشن جن کے نام لیوا آج دنیا بھر کی نعمتیں کھارہے ہیں ؎

بوریا ممنون خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے اُمّتش

دیکھو خیبر کی جنگ ہے اور مجاہدین بلکہ خود حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا ستّو ہیں۔

۳؎ اس زمانہ میں ستّو گھول کر پینے کا رواج نہ تھا،نیز اس وقت شکریا گڑموجود نہ ہوگا تو صرف پانی میں گوندھ لئے گئے تاکہ حلق سے اترنا آسان ہو۔

۴؎ یعنی صرف کلی پرکفایت کی،اگرچہ ستّو آگ میں بھونے جاتے ہیں یہ حدیث وضوءطعام کی تفسیر ہے۔