کیا آپ کتابیں پڑھتے ہیں؟

امام ذہبی “تذکرۃ الحفاظ” میں خطیب بغدادی کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ راستے میں چلتے ہوئے بھی (کتابوں کا) مطالعہ کرتے تھے تاکہ (کہیں) آنے جانے کا وقت ضائع نہ ہو!

(تذکرۃ الحفاظ، ج3، ص114 بہ حوالہ علم و علما کی اہمیت، ص23، ط مکتبہ اہل سنت)

آج ہم راستے میں چلتے ہوئے پڑھنا تو بہت دور، گھر میں خالی بیٹھے ہوں تب بھی کتابیں پڑھنا پسند نہیں کرتے- ہمارے نوجوانوں کے بارے میں تو پوچھیے ہی مت، اِنھیں گانا سننے، موبائل فون پر گیم کھیلنے، فضول کی چیٹِنگ کرنے اور فلمیں وغیرہ دیکھنے سے ہی فرصت نہیں ہے اور اگر کبھی کبھار تھوڑا بہت وقت خالی مل بھی جائے تو پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب اسے کہاں برباد کیا جائے؟

ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ راستے میں چلتے ہوئے کتابوں کا مطالعہ کریں لیکن کبھی تو مطالعہ کریں- اپنی دوڑ بھاگ کی زندگی میں سے کچھ وقت کتابوں کے لیے بھی نکالیں، یقیناً یہ آپ کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا-

جاتے جاتے ایک بات اور:

ممکن ہے یہ پڑھ کر کسی کو حیرانی ہوئی ہو کہ کوئی راستے میں چلتے ہوئے بھی مطالعہ کیا کرتا تھا لہذا ہم اُس حیرانگی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

حضرت ثعلب نحوی علیہ الرحمہ کی وفات کا سبب یہ ہوا کہ آپ عصر کے بعد کہیں نکلے اور ہاتھ میں ایک کتاب تھی جسے آپ راستے میں چلتے ہوئے پڑھ رہے تھے- ایک گھوڑا آپ سے ٹکرا گیا اور آپ زمین پر گر پڑے! سر میں کافی چوٹ آئی- انھیں گھر لے جایا گیا اور دوسرے دن ان کا انتقال ہو گیا-

(خطبات ترابی، ج1، ص74)

اللہ تعالی کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو اور مطالعے کی توفیق بھی عطا ہو-

تحریر : محمد صابر اسماعیلی صاحب