آنکھیں سرین کا بندھن ہیں تو جب آنکھ سوگئی تو بندھن کھل گیا

حدیث نمبر :302

روایت ہے حضرت معاویہ ابن ابی سفیان سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنکھیں سرین کا بندھن ہیں تو جب آنکھ سوگئی تو بندھن کھل گیا ۲؎ (دارمی)

شرح

۱؎ حضرت معاویہ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔ان کے والد کا نام حرب،کنیت ابو سفیان ابن صخر ہے،اموی ہیں،قریشی ہیں،فیل کے واقعہ سے دس۱۰ سال قبل پیدا ہوئے،اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش فیل سے چالیس دن بعد ہے۔فتح مکہ کے دن ایمان لائے،حضور کے ساتھ جنگ حنین میں شریک رہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بڑے بڑے عطیہ عطا فرمائے۔جنگ طائف میں آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی اور جنگ یرموک میں دوسری آنکھ بھی شہید ہوگئی،۳۴ھ ؁میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے آپ سے روایات لیں۔(مرقاۃ وغیرہ)

۲؎ لہذا سونا وضوتوڑدیتا ہے جیسےموت غسل توڑ دیتی ہے مگر نبی کی نیند سے وضونہیں جاتاکیونکہ وہ غافل نہیں ہوتے اسی لیے ان کی خواب وحی الٰہی ہوتی ہے،نیزشہیدکی موت غسل نہیں توڑتی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بےخبری کی نیند وضو توڑےگی،بیٹھے بیٹھے اونگھنا وضو نہیں توڑتاکیونکہ اس میں اعضاء ڈھیلے نہیں پڑتے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.