اچھے لوگ کون ہيں؟

حکایت نمبر139: اچھے لوگ کون ہيں؟

حضرت سیدنا زید بن عباس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں کہ جب خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے حج کیا تو ان سے کہا گیا کہ اس سال زمانے کے مشہور ولی حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان بھی حج کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔ جب خلیفہ ہارو ن الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید نے یہ سنا تو اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ بڑے ادب واِحترام سے انہیں میرے پاس لے آؤ ،ہم ان کی صحبت سے فیضیاب ہونا چاہتے ہیں۔” چنانچہ حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان کو بڑے ادب واِحترام کے ساتھ امیر المؤمنین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کے پاس لا یا گیا۔ خلیفہ نے انہیں اپنے پاس بٹھایا اورعرض کی : ”مجھے کچھ نصیحت کیجئے تا کہ میں آخرت میں نجات پا جاؤں۔” تو حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان نے فرمایا :” اے امیر المؤمنین! میں عربی زبان سے اچھی طرح واقف نہیں ، آپ کسی ایسے شخص کو بلوا لیں جو میری تر جمانی کر سکے ۔”

چنانچہ ایک ایسے شخص کو لایا گیا جو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تر جمانی کر سکے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس شخص سے کہا : ”امیر المؤمنین سے کہہ دیجئے کہ جو شخص تجھے عذابِ آخرت سے ڈراتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اللہ عزوجل کی طرف سے بے خوف نہ ہونا جب تک تُو امن والی جگہ(یعنی جنت )میں نہ پہنچ جائے ، ایسا شخص اس سے بہتر ہے جو تجھے لمبی لمبی اُمیدیں دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ بس اب تو تُو بخش دیا گیا ہے حالانکہ ابھی تیری زندگی باقی ہے اور ابھی تُو امن والی جگہ میں پہنچا ہی نہیں ؟” ترجمان نے امیر المؤمنین کویہ بات بتائی تواس نے کہا:” اپنے ان کلمات کی مزید وضاحت فرما دیں ۔” توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تر جمان سے فرما یا:”امیر المؤمنین سے کہہ دو کہ نصیحت کرنے والوں میں تجھے دوقسم کے لوگ ملیں گے ایک تو وہ جوتجھے اس طر ح نصیحت کریں گے :” اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل سے ہردم ڈرتے رہو تم بھی اُمت محمدیہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کے ایک فرد ہو مگر تم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری آپڑی ہے اللہ عزوجل نے تمہیں لوگوں پرامیر مقرر فرمایا ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری تمہیں سونپی ہے۔ کل بر وز قیامت تم سے تمہاری ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اللہ عزوجل سے ڈرتے رہو، عدل وانصاف سے کام لو، کسی کے ساتھ ظلم نہ کرو، سیدھا راستہ اختیار کرو، دشمنانِ اسلام سے جنگ کرنے کا موقع آئے تو ان سے بھرپور انداز میں جہاد کرو اوراپنے معاملے میں اللہ عزوجل سے ہر وقت ڈرتے رہو کبھی بھی اپنے آپ کو لوگوں سے بالا تر نہ سمجھو۔ ہر دم اللہ عزوجل کے خوف سے کا نپتے رہو۔”اے امیر المؤمنین! نصیحت کرنے والوں کی دوسری قسم میں ایسے لوگ شامل ہیں جو تمہیں اس طرح کہیں گے :” اے امیر المؤمنین !آپ تو بڑی شان والے ہیں ، آپ کو آخرت کے معاملے میں زیادہ پر یشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ تونبی کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرابت داروں میں سے ہیں لہٰذا اب آپ بے فکر ہوجائیں ۔”پھر اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ تمہیں کسی غلط بات پرٹو کتے بھی نہیں اور مسلسل ایسی باتیں کرتے ہیں کہ خوفِ آخرت جاتا رہتا ہے اورایسی امیدوں کی وجہ سے بندہ آخرت کے معاملات سے بالکل بے فکر ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ تمہیں اُمیدیں ہی دلاتے رہیں گے او رتم اپنے آپ کومغفرت یافتہ لوگو ں میں شمار کرنے لگو گے حالانکہ ابھی نہ تو تمہیں امان ملی اورنہ ہی ابھی تم امن والی جگہ (یعنی جنت) میں داخل ہوئے ۔اے امیر المؤمنین! ان دو سری قسم کے لوگو ں سے پہلی قسم کے لوگ اچھے ہیں۔ عشرہ مبشرہ صحابہ کرام علیہم الرضوان جنہیں دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری دے دی گئی تھی لیکن پھر بھی ان کا عمل مزید بڑھتا ہی گیا۔ خوفِ خدا عزوجل میں مزید اضافہ ہی ہوا ۔ انہوں نے کبھی بھی یہ سوچ کر کوئی نامناسب کام نہیں کیا کہ ہمیں تو جنت کی بشارت مل گئی اب ہم جو چاہیں کریں بلکہ وہ پاکیزہ لوگ ہر آن اللہ عزوجل سے ڈرتے رہتے۔ انہوں نے خوف ورجاء والا معقول راستہ اختیار کیا ،اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہوئے اور اس کے غضب سے بے خوف بھی نہ ہوئے لہٰذا اے امیر المؤمنین! راستہ وہی اچھا جو معتدل ہو نہ تو اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا چاہے کہ اہلِ بیت اَطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حضور نبی ئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قرابت کی وجہ سے بڑی شان ملی ہے اور آخرت میں بھی شفاعت ضرور نصیب ہوگی لیکن اللہ عزوجل کی طر ف سے بے خوف بھی نہیں ہونا چاہے ۔” حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر امیر المؤمنین خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید اور ان کے ساتھی زارو قطا ر رونے لگے ۔ پھر امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی:”کچھ اور نصیحت فرمایئے ۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”ان پر عمل کر لو یہ تمہارے لئے کا فی ہیں۔” اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امیر المؤمنین کے پاس سے تشریف لے گئے۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.