نماز کی کنجی طہارت ہے

حدیث نمبر :300

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز کی کنجی طہارت ہے ۱؎ اور اس کا احرام تکبیر اور اس سے کھلنا سلام ہے۲؎ اسے ابوداؤد،ترمذی اوردارمی نے روایت کیااور ابن ماجہ نے بھی انہی سے اور ابوسعید سے۔۔

شرح

۱؎ کہ جیسے بغیرکنجی قفل نہیں کھلتا،ایسے ہی وضو،غسل یا تیمم کے بغیر نماز شروع نہیں ہوسکتی۔یہ حدیث امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دلیل ہے کہ جو وضو اورتیمم نہ کرسکے وہ نماز نہ پڑھے۔

۲؎ یعنی حج کا احرام تلبیہ سے بندھتا ہے کہ تلبیہ کہتے ہی حاجی پر صدہا چیزیں حرام ہوجاتی ہیں،ایسے ہی نماز کا احرام تکبیر سے بندھتاہے کہ تکبیر کہتے ہی کلام،سلام،کھانا،پینا سب حرام۔نیز جیسے حج کے احرام سے کھلنا سر منڈانے سے ہوتا ہے،ایسے ہی نماز کا احرام سے کھلناسلام سے ہوتا ہے کہ سلام پھیرتے ہی مذکورہ بالاتمام چیزیں حلال۔خیال رہے کہ تکبیرتحریمہ سب کے نزدیک فرض ہے مگر سلام امام شافعی و مالک واحمدرحمۃ اﷲ علیہم کے نزدیک فرض،اور ہمارے امام صاحب کے یہاں واجب ہے۔ان بزرگوں کی دلیل یہی حدیث ہے۔امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کی دلیل ان اعرابی کی دلیل ہے جنہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تعلیم دی اس میں سلام کا ذکر نہیں۔اگر فرض ہوتا تو ضرور ذکر فرمایا جاتا،اس حدیث کی بنا پر ہم سلام کی فرضیت کا انکار کرتے ہیں،اس حدیث کی بنا پرسلام کے وجوب کے قائل،ہمارا عمل دونوں حدیثوں پر ہے۔تکبیروسلام کے پورے مسائل کتب فقہ میں دیکھو۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.