وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوۡدَهٗ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَالِدًا فِيۡهَا ۖ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 14

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوۡدَهٗ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَالِدًا فِيۡهَا ۖ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ

ترجمہ:

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا اللہ اس کو دوزخ میں داخل کر دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت والا عذاب ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا اللہ اس کو دوزخ میں داخل کر دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت والا عذاب ہے۔ (النساء : ١٤) 

احکام وراثت کی نافرمانی کرنے والے پر دائمی عذاب کی وعید اور اس کی توجیہہ : 

جس نے میراث کے ان احکام میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی یا اللہ اور اس کے رسول کے فرائض میں سے کسی فرض میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور اس نے حلال سمجھ کر وراثتت کی حدود سے تجاوز کیا اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل کر دے گا۔ 

اس آیت میں کسی حکم کی نافرمانی کرنے اور حدود سے تجاوز کرنے پر دائمی عذاب کی وعید ہے جب کہ دائمی عذاب صرف کفار کے لئے ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس نے اللہ کی اہانت اور اس کے رسول کی نافرمانی کی یا حلال سمجھ کر اللہ اور اس کے رسول کی حدود سے تجاوز کیا ‘ یا جمیع حدود سے تجاوز کیا وہ کافر ہوگیا ‘ اور اس آیت میں یہی تاویل ہے۔ 

جنتیوں کے بیان میں خلود کا ذکر جمع کے صیغہ کے ساتھ ہے اور دوزخیوں کے ذکر میں خلود کا ذکر واحد کے صیغہ کے ساھت ہے کیونکہ اطاعت گزار اپنے ساتھ ان کو بھی جنت میں لے جائیں گے جن کی وہ شفاعت کریں گے اس لئے جمع کے صیغہ کا ذکر کیا اور کافر دوزخ میں اکیلا جائے گا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ جنت میں خلود انس کا سبب ہوگا اس لئے جمع کا صیغہ کے صیغہ کا ذکر کیا ‘ اور دوزخ میں خلود وحشت کا سبب ہوگا اور دوزخی اس وحشت میں اکیلا ہوگا اس لئے واحد کا صیغہ ذکر کیا۔ 

معتزلہ وغیرہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جس نے وراثت کے کسی حکم میں نافرمانی کی وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اس سے یہ معلوم ہوا کہ فاسق مرتکب کبیرہ دوزخ میں ہمیشہ رہے گا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت عدم عفو کے ساتھ مقید ہے یعنی اگر اللہ اس کو معاف نہ کرے تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا جبکہ معتزلہ کے نزدیک بھی اس میں یہ قید ہے کہ اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں جو شخص کسی وارث کی میراث سے بھاگا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی وراثت کو منقطع کر دے گا (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٠٣)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 14

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.