جوسویا وہ وضو کرے

حدیث نمبر :303

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں،فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سرین کا بندھن آنکھیں ہیں تو جوسویا وہ وضو کرے ۱؎ اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ یعنی اگر آنکھ کھلی رہے تو ریح نکلنے کی خبر رہتی ہے،سوتے ہی بےخبری ہوجاتی ہے۔لہذا اب نیند ہی ناقص مان لی گئی،خواہ ریح نکلے یا نہ نکلے،نیند کاجھونکا آیااوروضوگیا۔

شیخ امام محی السنۃ نے فرمایا کہ یہ اس کے لیئے ہے جو بیٹھا نہ ہوکیونکہ حضرت انس سے روایت صحیح مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز عشاء کا انتظار کرتے تھے حتی کہ ان کے سرجھک جاتے تھے پھرنماز پڑھ لیتے اور وضو نہ کرتے تھے ۱؎ اسے ابوداؤد اورترمذی نے روایت کیا مگر ترمذی نے بجائے "ینتظرون العشاء”الخ کے یہ فرمایا کہ وہ سوجاتے تھے۔

۱؎ لہذا جس نیند میں اعضاءڈھیلے نہ پڑیں اس سے وضو نہیں جاتا،اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اگر عورت سجدے میں سوجائے تو وضو گیا اور اگر مرد سجدے میں سوجائے تو وضو نہیں جاتا کیونکہ مرد سجدے میں غافل نہیں سوسکتا ورنہ گرجائے گا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.